افغان طالبان نے امن مذاکرات کی پیشکش ایک بار پھر مسترد کردی

19

افغان طالبان نے امن مذاکرات کی حکومتی پیشکش ایک بار پھر مسترد کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں امن مذاکرات کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے حکومتی امن مذاکرات کی پیشکش کو ایک بار پھر ٹھکرا دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے غیرملکی افواج کے نکلنے تک حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ترجمان نے حکومتی حکام کو امریکا کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے  کہا کہ امریکی نواز حکومت کے نمائندوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوسکتی۔

ایک وقت تھا کہ جب طالبان نے امن مذاکرات کی ہامی بھری تھی تاہم انہوں نے ’پیس ٹاک‘ میں شامل نمائندوں کو امریکی نواز کہہ کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا اور مذاکراتی عمل کو غیر ملکی افواج کے انخلاء سے مشروط کیا تھا۔

واضح رہے کہ افغان حکومت نے 17 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم حکومت کو اس میں خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔