نوازشریف کی لاہور آنے والی پرواز کو اسلام آباد موڑنے کا امکان

7

سابق وزیراعظم نواز شریف کی لاہور آنے والی پرواز کو اسلام آباد موڑنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

فلک نیوز کے مطابق احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز آج نجی ایئرلائن کی پرواز ای وائے 423 کے ذریعے وطن واپس پہنچ رہے ہیں۔

فلائٹ شیڈول کے مطابق نواز شریف اور مریم نواز لندن سے براستہ ابوظہبی لاہور کے لیے روانہ ہوئے تھے، ابوظہبی میں مختصر قیام کے بعد نجی پرواز کو لاہور کے لیے روانہ ہونا تھا مگر وہاں ان کا قیام طویل ہوگیا جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ پرواز میں پراسرار تاخیر کی گئی۔

آخرکار تقریباً 6 بجے نوازشریف کی پرواز نے ابوظہبی سے لاہور کے لیے اڑان بھری تاہم جیسے ہی طیارہ پاکستان کی حدود میں داخل ہوا، سیکیورٹی خدشے کے پیش نظر پرواز کا رخ لاہور کے بجائے اسلام آباد کی جانب موڑنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ لینڈنگ سے آدھا گھنٹہ قبل ایئرٹریفک کنٹرول پائلٹ کو اسلام آباد لینڈ کرنے کے لیے آگاہ کرے گا۔

دوسری جانب نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر طیارے کی لینڈنگ کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، نیب ٹیم نوازشریف اور مریم نواز کو طیارے سے اتار کر حراست میں لے گی اور دیگر مسافروں کو اسلام آباد ایئرپورٹ اترنے نہیں دیا جائے گا، نوازشریف کی گرفتاری کے کچھ گھنٹے بعد طیارہ دوبارہ لاہور کے لیے اڑان بھرے گا۔

نوازشریف اور مریم نواز کو کارگو ٹرمینل سے براستہ اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے گا جس کے لیے 2 بکتر بند گاڑیاں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچادی گئی ہیں۔

پرواز کے دوران مریم نواز نے اپنے والد نوازشریف کا ویڈیو پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا جس میں نواز شریف نے کہا پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہےمیں یہ قربانی آپ کی نسلوں اور پاکستان کے مستقبل کے لیے دے رہاہوں۔

استقبال کی تیاریاں

مسلم لیگ (ن) کے کارکن چلو چلو ایئر پورٹ کے نعرے پر لبیک کہتے ہوئے لاہوری دروازے پر جمع ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ صبح سے ہی لاہور کے افق پر گھنے کالے سیاہ بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، وقفے وقفے سے تیز اور ہلکی بارش کی آنکھ مچولی جاری ہے۔ لیکن ایئر پورٹ چلو کے  نعرے نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے خون گرما دئیے ہیں اور کارکن دھوپ اور بارش کی پرواہ کیے بغیر اپنے قائد کے استقبال کے لئے پرجوش نظر آرہے ہیں۔

شہباز شریف کی کارکنوں سے ایئرپورٹ چلنے کی اپیل

صدر مسلم لیگ(ن)شہباز شریف نے ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے لیگی کارکنان سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی دن ہے، آج ریاستی جبر اور تشدد کی ناکامی کا دن ہے، آج ہمیں اپنے قائد میاں محمد نوازشریف جواپنی شدید بیمار اہلیہ کو لندن میں خدا حافظ کہنے کے بعد چند گھنٹوں میں لاہورایئرپورٹ پہنچنے والے ہیں۔ آپ تمام لوگ جوق در جوق لاہور ایئرپورٹ پہنچ کر ان کا والہانہ استقبال کریں۔

صدر مسلم لیگ (ن)نے کہامیں اس وقت اندرون شہر میں ہوں اور میرے علم میں ہے کہ ارد گرد بے شمار لوگ اکھٹے ہورہے ہیں  جو ایئرپورٹ جانے کے لیے بے تاب ہیں۔ جمعہ کی نماز اداکرنے کے بعد آپ اللہ کا نام لیں اور میرے ساتھ ایئرپورٹ چلیں اوراس ملک کے اندرترقی، خوشحالی اورجمہوریت کو فروغ دینے کے لیے اپنا کرداراداکریں۔

کریک ڈاؤن

ایک جانب مسلم لیگ (ن) کے کارکن نوازشریف کے استقبال کے لیے پرجوش ہیں تو دوسری جانب پنجاب میں (ن) لیگی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ لاہور کے علاقے فیروزوالا میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران شاہدرہ فیروزوالا فیکٹری ایریا  میں پولیس نے 50 متوالے گرفتار کر لیے، اعوان ٹاؤن یوسی 105 کے وائس چیئرمین خالد حبیب خان اور کونسلر چوہدری خادم حسین گجر کے گھر پربھی پولیس نے چھاپے مارے، جب کہ اعوان ٹاؤن سے مسلم لیگ یوتھ ونگ لاہور کے نائب صدر میاں ذوہیب منظورکو گرفتارکرلیاگیا۔

راولپنڈی پولیس نے گزشتہ رات مسلم لیگ (ن) کے متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔ فیصل آباد میں پولیس نے رات بھر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے ایک سو سے زائد کارکن گرفتار کرلیے۔ کینال پارک میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا اشفاق چاچو کے گھر پر پولیس نے  چھاپہ مارا  تاہم وہ بچ نکلے، بہاولپورمیں سابق وفاقی وزیر بلیغ الرحمن کے گھر کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا اور تمام دروازے بند کر کے پولیس اہلکار کھڑے کر دیے گئے۔

پولیس سیکیورٹی

نواز شریف اور مریم نواز کی آمد سے قبل لاہور ایئرپورٹ کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال لیا ہے۔ ایئر پورٹ پر 6 ایمبو لینسز بھی موجود ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لیگی کارکنان کو ایئر پورٹ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر روکا جائے گا۔ پولیس اور رینجرز کے جوان کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر راوی پل پر پہنچ گئے، پل پر گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کارکنان کے بڑی تعداد میں آنے پر راستے مکمل بند کر دئے جائیں گے۔

نیب کی تیاریاں

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے لیے وارنٹ کے مطابق عملدرآمد ہوگا اور رکاوٹ ڈالنے والوں کےخلاف کارروائی کریں گے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی گرفتاری کے لیے نیب کی حتمی ٹیم تیار ہے، ٹیم کی سربراہی ڈائریکٹر امجد علی اولکھ کریں گے.

مریم نواز کی گرفتاری کے لیے دو خواتین افسر حفضہ شیخ اور حاجرہ فرخ سعید بھی ساتھ جائیں گی، دیگر افسران میں چوہدری اصغر، اللہ رکھا سلطان نزیر احمد رضا اور کیس کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر بھی شامل ہوں گے۔ ٹیم کے ہمراہ پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے افسران بھی موجود ہو گے مجموعی طور پر 16 رکنی ٹیم لاہور ایئر پورٹ جائے گی۔

نیب ذرائع کے مطابق نیب کی ٹیم کامقصد نجی ایئرلائن کوپاکستانی ایمبیسی کے ذریعہ بتاناہے کہ نوازشریف اور مریم نوازکرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں، نیب کی جانب سے دونوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے ہیں، نیب ٹیم نوازشریف اور مریم نواز دونوں کوگرفتاری کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کرے گی۔

موبائل سروس بند

لاہور کے کئی علاقوں میں موبائل فون سروس معطل کردی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون سروس سیکیورٹی حکام کی جانب سے نقص امن کے خدشے کے پیش نظر معطل کی گئی ہے۔

اس سے قبل سیکیورٹی حکام نے محکمہ داخلہ کو مراسلہ بھجوا دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث لاہور ایئرپورٹ، والڈ سٹی لاہور، شاہدرہ، برکی ہڈیارہ اور نواب ٹاؤن ایریا میں سہہ پہر 3 بجے سے رات 11 بجے تک موبائل فون سروس معطل کی جائے۔

اسپتالوں میں ریڈ الرٹ

نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کے موقع پر ناخوشگوار واقعہ ہونے کے خدشے کے پیش نظر لاہور کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب نے اسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ ادویات اور خون کی وافرمقدارمیں دستیابی یقینی بنائی جائے۔

نواز شریف کی والدہ سے دعا کی درخواست  

نواز شریف نے لندن سے روانگی سے قبل بذریعہ ٹیلی فون اپنی والدہ سےرابطہ کیا اورانہیں پاکستان آنے کے حوالے سے آگاہ کیااور ان سے پاکستان آنے کی اجازت لی۔ نواز شریف کی والدہ نےاپنے بیٹے اورپوتی مریم صفدر کے لیے خصوصی دعا بھی کی اس کے علاوہ نواز شریف کی لندن والی رہائش گاہ سے نکلنے سے قبل قرآن کی تلاوت کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

اہلیہ سے ملاقات

نواز شریف نے لندن سے روانگی سے قبل اسپتال میں اپنی اہلیہ کلثوم نواز سے ملاقات کی اور ان کے سر پر ہاتھ رکھا، اس موقع پر ان کی صاحبزادی مریم نواز بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔