تنہا رہنے سے زندگی بھی کم ہوسکتی ہے، ماہرین

93

ایک نئے مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ تنہا رہنے سے انسانی خلیات ( سیلز) کی سطح پر غیرمعمولی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو مختلف امراض کی وجہ بنتی ہے اور اس سے اوسط زندگی پر بھی منفی اثرہوتا ہے۔

امریکا میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین نے بتایا ہے کہ تنہا رہنے سے جسم کے سفید خلیات ( وائٹ بلڈ سیلز) کی تعداد پراثر ہوتا ہے اور وہ جسم کے قدرتی طور پر لڑنے والے امنیاتی نظام (Immune System) کو کمزورکرتے ہیں اورانسان بیماریوں کا گھربن سکتا ہے۔

ماہرین نے تنہائی کے مطالعے کے لئے 141 بوڑھے افراد کا جائزہ لیا جن میں کچھ لوگ تنہا رہنا اورکچھ لوگ معاشرتی سطح پر لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ تنہا رہنے والے افراد میں سوزش اور جلن کی شدت زیادہ تھی اوران کی صحت پر بھی برے اثرات مرتب ہورہے تھے۔ یہ تحقیقات پروسیڈنگ آف نیشنل اکیڈمی آف سائنٹسٹس کے ایک جریدے میں بھی شائع ہوچکی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا اصرار ہے کہ اکیلا پن صرف بزرگوں کو ہی نہیں بلکہ جوان افراد کو بھی متاثر کرتا ہے اوراکیلا پن انہیں بیماریوں کے گھیرے میں دے دیتا ہے۔ برطانیہ میں بوڑھے افراد کا خیال رکھنے والی ایک فلاحی تنظیم کی سربراہ کیرولین ابراہمز کے مطابق تنہائی سے زندگی مشکل ہوجاتی ہے اور اس سے جسمانی اور دماغی صحت پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

دیگر ماہرین کے مطابق جیسے ہی آپ طویل تنہائی میں ہوتے ہیں ویسے ہی صحت دشمن ماحول میں آجاتے ہیں۔ ان کے مطابق دوستوں اور ہم خیالوں سے بات چیت کا عین اثر وہی ہوتا ہے جو درد کم کرنے والی اور سکون پہنچانے والی دواؤں سے ہوتا ہے اس لیے باہرنکل کر دوستوں اور لوگوں سے بات کیجئے اور بیماریوں کو دور بھگائیے۔