حلقہ این اے 163 وہاڑی کی ڈائری

17

تحریر۔۔۔اصغر علی جاوید
حلقہ این اے 163وہاڑی||میں جوڑ توڑ اور انتخابی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئیں جس سے بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی ہے نظریاتی وابستگیوں پر برادری ازم اور رشتہ داریاں غالب آگئیں اس حلقہ سے ملک کی تین بڑی پارٹیوں پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف ،پاکستان کسان اتحاد اور آزاد خاتون امیدوار سمیت 6امیدوار میدان میں ہیں ان میں پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کی جنرل سیکرٹری محترمہ نتاشہ دولتانہ ،پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر سابق وفاقی وزیر اسحاق خاں خاکوانی۔پاکستان مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے سید ساجد مہدی سلیم شاہ ،تحریک لبیک یا رسول اللہ کے سید اسماعیل شاہ ،پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر چوہدری محمد انور اور سابق ایم این اے چوہدری نذیر احمد جٹ کی صاحبزادی ڈاکٹر عارفہ نذیر جٹ آزاد پینل کے ساتھ میدان میں ہیں اسحاق خاں خاکوانی پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے صدر جبکہ محترمہ نتاشہ دولتانہ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کی جنرل سیکریٹری ہیں اور وہ مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما سابق ممبر قومی اسمبلی محترمہ تہمینہ دولتانہ کی بھتیجی ہیں۔حلقہ پی پی 231میں محترمہ تہمینہ دولتانہ کے صاحزادے میاں عرفان عقیل دولتانہ مسلم لیگ کے امیدوار ہیں اور اور نتاشہ دولتانہ کے کزن ہیں اور قریبی رشتہ دار ہونے کی بناء پر ایک دوسرے کو سپورٹ کر رہے ہیں اسی وجہ سے مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے سید ساجد مہدی سلیم شاہ نے اپنے ساتھ پینل میں اپنے بھتیجے سید سلمان شاہد مہدی کو شامل کیا ہے جس کی بناء پر اس حلقہ میں بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی ہے پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے صدر اسحاق خاں خاکوانی جو کہ اسی حلقہ سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدوار ہیں پی پی حلقہ 231سے بھی کاغذات نامزدگی داخل کروانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی پنجاب میں بھی اکثریت حاصل کرتی ہے تو وہ وزارت اعلیٰ کے ممکنہ امیدواروں میں شامل ہونگے ان کو اس فیصلہ سے سیاسی طور پر کافی نقصان ہوا ہے ایک تو انکو اپنے گروپ کے مخلص سا تھیوں سے محروم ہونا پڑا دوسرا پی ٹی آئی کے اندر سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے پی ٹی آئی کی ایک بڑی شخصیت کے اشارے پر نذیر جٹ آزاد پینل کے ساتھ میدان میں ہیں سید سلمان شاہد مہدی نسیم شاہ کے صاحبزادے ہیں جبکہ سینئر مسلم لیگی رہنما سید شاہد مہدی نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ انتخابات میں بھی محترمہ تہمینہ دولتانہ نے مسلم لیگ کے پینل کے امیدوار سید ساجد مہدی سلیم شاہ کی بجائے اپنی بھتیجی کی حمایت کی تھی ا س لیے ساجدمہدی سلیم شاہ کے ساتھ سید سلمان شاہد مہدی کو پینل میں شامل کیا ہے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار قومی اسمبلی اسحاق خاں خاکوانی کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے وہ خوددو نشستوں این اے 163اور پی پی 231سے امیدوار ہیں پی ٹی آئی کے اندر سے ایک بڑے رہنما کی آشیر باد کے ساتھ نذیر جٹ آزاد گروپ کے ساتھ ان کے مد مقابل ہے اور بڑی حد تک ان کے ووٹ بنک کو متاثر کر رہا ہے جبکہ ان کے ساتھ پینل کے امیدوارمیاں افضل کریم بیٹو جن کو اسحاق خاکوانی نے پی ٹی آئی میں شامل کروا کے پی پی231 سے امیدوار بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ خود اس حلقہ سے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بن گئے اور میاں افضل کریم بیٹو کو نظر انداز کر دیا جس پر میاں افضل کریم بیٹو نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات جمع کروائے بعد ازاں انہوں نے آزاد امیدوار اور مسلم لیگ ن کے امیدوار سید سلمان شاہد اور سید ساجد مہدی سلیم شاہ کی حمایت کا اعلان کر دیا جبکہ اسی حلقہ سے ان کے ساتھ سابق ممبر صوبائی اسمبلی محمد ایوب خاں سلدیرا نے اپنے بیٹے عمران ایوب سلدیرا کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اتار دیا سابق ممبر پنجاب اسمبلی محمد ایوب خاں سلدیرا کا شمار بھی اسحاق خاں خاکوانی کے ساتھیوں میں ہوتا تھااسحاق خاں خاکوانی جیت کے لیے پر امید ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایسے اختلافات انتخابات کے دوران ہوتے رہتے ہیں اگر ایک گروپ جاتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سید ساجد مہدی سلیم شاہ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گزشتہ 5سالہ دور میں اس پسمانہ علاقہ میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام کروائے ہیں اور حلقہ انتخاب میں سڑکوں کا جال بچھا دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حلقہ کی عوام ان کی انہی عوامی خدمات کی وجہ سے 25جولائی کو کامیابی سے ہمکنار کروائیں گے جبکہ پی پی 231میں دیگر امیدوار محسن فرید چشتی ،چوہدری محمد انور گجر کے علاوہ دیگر امیدواران بھی میدان میں موجود ہیں اور پی پی حلقہ 232میں پی ٹی آئی کے اعجاز سلطان بندیشہ ،مسلم لیگ ن کے بلال اکبر بھٹی ،علی وقاص ہنجرا،،شبیر عالم دیول ،ملک نوشیر خاں لنگڑیال کے علاوہ دیگر امیدواران بھی میدان میں ہیں اعجاز سلطان بندیشہ ،شبیر عالم دیول ،سید فضل رسول شاہ ،علی وقاص ہنجرا کا تعلق جٹ برادری سے ہے بلال اکبر بھٹی اس حلقہ سے سابق ممبر پنجاب اسمبلی ہیں ملک نوشیر خا ں لنگڑیال اسی حلقہ سے صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں اور حلقہ میں اس وقت بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں ان کو حلقہ کے عوام ،لوگوں اور دو سابق امیدواران صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے سب امیدوار اپنی کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں اصل فیصلہ 25جولائی کو ہو گا جس دن بیلٹ بوکسز سے بیلٹ پیپر نکلیں گے اب دیکھیں عوام کسی امیدورا کے حق میں فیصلہ کرتی ہے؟