سمجھ سے باہر ہے کہ ملک کیسے چل رہا ہے، چیف جسٹس

11

سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں فاضل بنچ نے ریلوے خسارہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،عدالتی حکم پرفرانزک آڈٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی۔

چیف جسٹس کے استفسارپرآڈٹ آفیسرنے بتایا کہ محکمے میں خرابی 70 برسوں سے چل رہی ہے، گزشتہ 5 سالوں میں اسے دورکرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی، ریلوے کا خسارہ 40 ارب روپے ہے، خسارے کی بنیادی وجہ غیر ذمہ داری اورمنصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہیں، ڈبل ٹریک منصوبہ 4 برسوں سے تاخیرکا شکار ہے، ریلوے کا 70 فیصد ریونیوپینشن کی مد میں جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگرادارے نہیں چل رہے توسمجھ سے بالا ہے کہ ملک کیسے چل رہا ہے، انہوں نے سعد رفیق کا نام لیے بغیرریمارکس دیئے کہ چنے والا کہاں ہے اگلی تاریخ پروہ بھی پیش ہو، چیف جسٹس نے فرانزک آڈٹ رپورٹ پرریلوے کو نوٹس جاری کرتےہوئے جواب طلب کرلیا۔