ہیپاٹائٹس

14

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر عظمیٰ عمران
دنیا میں ہر روز کسی نہ کسی لحاظ سے کسی نہ کسی چیز یا بیماری کا عالمی دن منایا جاتا ہے اسی طرح ہر سال اٹھائیس جولائی کو ہیپاٹائٹس کا عالمی دن منایا جاتا ہے یہ ایک وائرل مرض ہے جو ایک وائرس کے سبب پھیلتا ہے اس میں جگر سوج جاتا ہے اور اس کے افعال متاثر ہو جاتے ہیں اس کی پہلی وجہ انفیکشن اور دوسری وجہ ادویات کا زیادہ استعمال، ٹوکسن کی زیاتی اور الکوحل کا زیادہ استعمال ہیں اس کی ایک قسم آٹو ایمونی ہیپاٹائٹس بھی ہے جو جسم میں اینٹی باڈیز کی وافر مقدار پیدا ہونے سے ہوتی ہے جو جگر کے خلاف جسم پیدا کرتا ہے جگر پیٹ کے دائیں اوپر کی جانب واقع ہوتا ہے اور یہ جسم میں بہت سے اہم افعال سر انجام دیتا ہے جو براہ راست جسم کے میٹابولزم پر اثر انداز ہوتے ہیں جگر کے افعال درج ذیل ہوتے ہیں
بائل کی پروڈکشن ، ٹوکسن کو فلٹر کرنا، کاربوہائیٹریٹ، چکنائی اور پروٹین کی تحلیل، بیلوروبن کی ایکس ریشن، گلائی کوجن کو جمع کرنا، سنتھیسیسز آف پروٹین
جگر کی اس قسم کے وائرل انفیکشن سے پیدا شدہ بیماری کو مختلف قسم کے پانچ گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے
ہیپاٹائٹس اے
یہ جگر کی سوزش کی وہ قسم ہے جو ٹوکسن کی زیادتی ، الکوحل کے بے جا استعمال اور انفیکشن سے پیدا ہوتی ہے یہ ایک عام قسم کا ہیپاٹائٹس ہوتا ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر سال ڈیڑھ ملین لوگ اس میں مبتلا ہوتے ہیں اس کی خاص وجہ ناقص خوراک اور آلودہ پانی ہیں ہیپاٹائٹس اے اتنا خطرناک نہیں ہوتا ہے اس لئے اس کی علامات بہت کم واضع ہوتی ہیں فلو ، بخار، تھکاوٹ ، جسم میں بے چینی ، پیٹ کا درد، پاخانے کی رنگت میں تبدیلی اور پیشاب کی رنگت میں بھی تبدیلی ، وزن میں کمی، یرقان۔وائرس کے حملے کے اثرات پندرہ سے پچاس دن کے بعد واضع ہونا شروع ہوتے ہیں ہیپاٹائٹس اے ایک ایسا وائرس ہے جو ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے یہ تر خوراک اور پانی سے ہوتا ہے اور دوران خون میں شامل ہو کر جگر تک پہنچ کر اسے متاثر کرتا ہے اس کے پھیلنے کی وجوہات درج ذیل ہیںآلودہ پانی کے استعمال ،چہرے سے چہرے کو ملانے سے، ازدواجی تعلقات میں احتیاط نہ کرنے سے ،متاثرہ لوگوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی چیزیں کھانے سے، آلودگی والی جگہ پر زیادہ دیر تک رہنے سے وغیرہ وغیرہ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دس سال سے کم عمر کے بچے اس بیماری میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں کچھ افراد میں اس کی علامات مکمل طور پر واضع نہیں ہوتی اس کی مکمل شناخت کیلئے ہیپاٹائٹس اے کا ٹسٹ کروائیں اگر اس کا علاج نہ کیا گیا تو یہ نارمل لیور کو ناکارہ بنانے کیلئے ایک واضع نشانی ہے اور یہ زیادہ تر جگر کے مریضوں پر اثر انداز ہوتا ہے اس سے بچاؤ سے اپنے آپ کودرج ذیل طریقوں سے بچایا جا سکتا ہے
متاثر ہونے یا خدشہ ہونے کی صورت میں ویکسینیشن کروائیں،ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں،ہمیشہ صاف پانی استعمال کریں،گلے سڑے فروٹ اور سبزیاں کھانے سے اجتناب کریں ہمیں اپنی زندگی میں چند احتیاط تدابیر کو اپنا کر اس بیماری سے بچ سکتے ہیں لیکن ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی خوراک استعمال کرنے میں احتیاط سے کام نہیں لیتے جس کی وجہ سے ہم اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں
ہیپاٹائٹس بی
ہیپاٹائٹس پانچ مختلف قسم کے ہوتے ہیں لیکن بی اور سی زیادہ خطرناک اور جلدی سے سیکنڈری حالت میں تبدیل ہوجاتے ہیں ہر سال ایک ملین لوگ اس مرض کی زد میں آجاتے ہیںیہ مرض ہیپاٹائٹس بی وائرس پھیلتا ہے جو ابتدائی حالت میں بہت تیزی کے ساتھ گروتھ کرتا ہے لیکن سیکنڈری حالت میں بہت آہستہ آہستہ اپنی علامات واضع کرتا ہے اس کے پھیلنے کا سب سے بڑا سبب خون ہے اس کی سیکنڈری حالت کی علامات تین مہینے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں اور یہ درج ذیل چیزوں سے پھیلتا ہے متاثرہ خون کے تبادلے سے ،ماں سے بچوں کو،متاثرہ سرنج کے استعمال سے ،مباشرت کی وجہ سے، متاثرہ بلیڈ کے استعمال سے اس کے علاوہ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد میں تھوڑی سی بے احتیاطی کی وجہ سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں مثلاً ہستپالوں اور لیبارٹری میں کام کرنے والے افراد،گردوں اور سیکنڈری جگر کی بیماریوں میں ملوث افراد ،شوگر کے مریض جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہے
ہیپاٹائٹس بی کی ابتدائی حالت کی علامات خاص طور پر بوڑھوں میں تیزی کے ساتھ پھیلتی ہیں ان میں درج ذیل علامات واضع ہوتی ہیں تھکاوٹ ،گہری رنگت کا پیشاب ،بخار،معدے کی خرابی ،کمزوری ،آنکھوں اور جلد کی رنگت کا پیلاپن وغیرہ وغیرہاگر آپ میں یہ علامات واضع ہیں تو فوری طور پر اپنے قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں ڈاکٹر آپ کی علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل ٹسٹ کروائے گا
ہیپاٹائٹس بی سرفیس اینٹی جن ٹسٹ ، ہیپاٹائٹس بی کور اینٹی جن ٹسٹ ،ہیپاٹائٹس بی سرفیس اینٹی باڈی ٹسٹ، لیور فنگشن ٹسٹ
لیور فنگشن ٹسٹ میں جگر کے متعلق تمام معلومات میسر ہو جاتی ہیں جن کی بناء پر ہمیں تشخیص کرنے میں بہت آسانی ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہم جگر میں انزائمز کا لیول معلوم کرسکتے ہیں حتیٰ کہ جگر کے ناکارہ حصے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں
ہیپاٹائٹس سی
یہ ایک ایسا ہیپاٹائٹس ہے جو جگر کی سوزش اور انفیکشن سے پیدا ہوتا ہے اس کی ابتدائی اور سکنڈری دونوں حالتیں ہوتی ہیں آج کل ہمارے معاشرے میں اس کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے جس کی خاص وجہ گندا پانی ہے جس کے استعمال سے جگر کے افعال میں بہت زیادہ تبدیلی آجاتی ہے جس کی بدولت جگر ناکارہ ہو جاتا ہے
ہیپاٹائٹس ڈی
ہیپاٹائٹس ڈی جگر میں سوجن پیدا کردیتا ہے جو ایک انفیکشن سے پیدا ہوتا ہے یہ سوجن جگر کے افعال کو متاثر کرتی ہے اور جگر میں مختلف قسم کی بیماریاں بھی پیدا کرتی ہے ہیپاٹائٹس بی اور ڈی تقریباً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں لیکن ہیپاٹائٹس ڈی کی علامات کم واضع ہوتی ہیں
ہیپاٹائٹس ای
ہپیاٹائٹس ای زیادہ تر گندے پانی اور ماحولیاتی آلودگی سے پھیلتا ہے اور سیدھا جگر پر حملہ آور ہوتا ہے اور جگر کو ناکارہ بنانے میں اہم کردارادا کرتا ہے
وجوہات
سب سے پہلی وجہ الکوحل کا زیادہ استعمال جگر کو ناکارہ بنانا اور جگر کے افعال اور جگر کے سیلز کو نقصان پہنچاتی ہے اور لیور سروسس کا باعث بنتی ہے اس کے بعد دوسری بڑی وجہ ادویات کا حد سے زیادہ اور ضرورت سے زیادہ استعمال بھی ہیپاٹائٹس بننے کا سبب بنتا ہے اس کے علاوہ بہت ساری چھوٹی چھوٹی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے جگر کے افعال میں رادوبدل پیداہوتا ہے جو ہیپاٹائٹس کا سبب بنتا ہے
علامات
سب سے زیادہ خطرناک ہیپاٹائٹس بی اور سی ہوتے ہیں جن کی ابتدائی علامت نہیں ہوتی ان کی علامات جگر پر انفیکشن کے اثرات مرتب ہونے کے بعد واضع ہوتی ہیں ہیپاٹائٹس ہونے کی صورت میں مریض پر درج ذیل علامات سے اس کے مرض کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے تھکاوٹ ،فلو،گہری رنگت کا پیشاب ،پیلے رنگ کا پاخانہ ،معدے یا پیٹ کا درد،وزن میں اچانک سے کمی اور یرقان وغیرہ
تشخیص
ہیپاٹائٹس کی تشخیص کے لئے ڈاکٹر سب سے پہلے آپ کا فزیکل چیک اپ کرے گا اور آپ کی ہسٹری لے گا اس کے ساتھ پیٹ کو تیزی سے دبائے گا جس سے آپ کو درد محسوس ہو گا جو پیٹ میں جگر کے بڑھ جانے کی علامت ہے پھر آنکھوں اور جلد کی رنگت کا معائنہ کرے گا اگر آنکھوں اور جلد کی رنگت پیلی ہے تو واضع ہو گیا ہے کہ آپ کو ہیپاٹائٹس کی بیماری لاحق ہو چکی ہے اس کو مزید گہرائی سے دیکھنے کے لئے ڈاکٹر آپ کے مزید ٹسٹ کروائے گا
لیور فنگشن ٹسٹ۔ اس ٹسٹ کے ذریعے سے جگر کے افعال، ساخت اور جگر کے کام کرنے کی نوعیت کو چیک کیا جاتا ہے حتیٰ کہ جگر میں موجود مختلف قسم کے انزائمز کی تعداد کو بھی نوٹ کیا جاتا ہے جس سے ہم مرض کی نوعیت کا اچھی طرح سے علاج کر سکتے ہیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سے خون کے ٹسٹ ہوتے ہیں جن سے ہیپاٹائٹس کے مرض کی تشخیص بآسانی کی جا سکتی ہے
الٹراساؤنڈ۔ الٹراساؤنک لہروں سے پیٹ کے مختلف اعضاء کی تصویر تشکیل دی جاتی ہے یہ ٹسٹ جگر کے علاوہ دوسرے اعضاء کی تشخیص میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے اس ٹسٹ سے ہم درج ذیل بیماریوں کو بآسانی دیکھ سکتے ہیں،پیٹ میں پانی کی موجودگی ،جگر کا بڑھ جانا یا ناکارہ ہونا،جگر کا سرطان وغیرہ وغیرہ
احتیاطی تدابیر
ہیپاٹائٹس سے بچنے کے لئے ہمیں حفظان صحت اصولوں پر عمل پیرا ہونا چاہیے ہمیں کھانا کھانے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھوئیں اور اپنے استعمال کے لئے ہمیشہ صاف ستھرا پانی استعمال کریں کیونکہ زیادہ تر ہیپاٹائٹس کا سبب آلودہ پانی کے استعمال سے ہوتا ہے گلے سڑے فروٹ اور سبزیوں سے پرہیز کریں ہیپاٹائٹس بی،سی اور ڈی کا سبب انتقال خون ہوتا ہے اس لئے خون دیتے اور لیتے وقت بہت احتیاط سے کام لیں اور استعمال شدہ سرنج ، شیونگ بلیڈ، ٹوتھ پیسٹ اور آلودہ خون سے اپنے آپ کو بچائیں اسی طرح کی کئی احتیاطی تدابیر کو اختیار کر کے ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو اس خطرناک بیماری کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں جس سے سب کی زندگی خوشگوار اور خوبصورت ہو سکتی ہے