پاکستان کی جیت ۔۔۔۔۔۔۔ بھارت نوازوں کی شکست

10

صاحبزادہ اشرف عاصمی
25 جولائی 2018 کا دن ایسی روشن صبح کا پیغام لے کر آیا کہ قوم نے پاک فوج کے خلاف بیانیے کو یکسر مسترد کردیا۔ یوں پاکستانی قوم نے ثابت کردیا کہ وہ ارض وطن کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرئے گی۔ نواز حکومت نے جس طرح پاک فوج کے خلاف بیانیے کو اپنی الیکشن مہم کا مرکزی نقطہ بنایا ہوا تھا لاکھوں قربانیوں کے بعد ملنے والے اِس ملک کے باسیوں نے اپنی محافظ پاک فوج کے خلاف بدترین مہم جوئی کرنے پر ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان ستر سالوں سے جو محاذآرائی موجود ہے اور جس طرح کشمیر میں مسلمانوں پرظلم وستم ڈھایا جارہا ہے۔ بھارت نے گذشتہ سالوں سے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر بنانے کی کوشش کی ہے۔ اِس صورتحال میں جبکہ افغانستان اور ایران کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے والوں میں بھارت سر فہرست ہے۔ اِس منظر نامے میں بھارتی موقف کی تائید کرنا کہ بھارت میں ممبئی حملوں میں پاکستان براہ راست ملوث ہے اور یہ بیان بھی چار مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کی جانب سے دینا کسی بھی محب وطن پاکستانی کا ایجنڈا نہیں ہو سکتا۔ ہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں یہ ایجنڈا پاکستان دُشمن امریکہ اسرائیل اور بھارت کا ہی ہے۔ اِس ایجنڈئے کو آگے ببڑھانے کے لے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے جو بیان بازی کی اور پاکستاانی فوج کو دباؤ میں لانے کے لیے عالمی اسٹیبلشمنٹ کا جس طرح ساتھ دیا اس سارئے کھیل میں عوام نے نواز شریف کے خلاف اور پاکستان کے حق میں ووٹ دے دیاہے۔
پاکستان کے حوالے سے امریکہ کے بدلتے ہوئے موڈ کی وجہ سے اور امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے سبب پاکستا ن آرمی کو پریشر میں لانے کے لیے پاکستان کے خلاف جو مہم جوئی کی گئی اُس کے لیے نواز شریف کو بطور مُہرہ استعمال کیا گیا۔ نواز شریف نے بھی حق نمک ادا کرتے ہوئے پاکستان دُشمنوں کے ایجنڈئے کو خوب آگے بڑھایا اور بطور حکمران مسلسل پاکستانی فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کو اپنے شیوہ بنا لیا تھا۔ موجود الیکشن میں قوم نے ایک طرف تو نواز شریف کو شکست سے دو چار کیا ہے تو دوسری طرف بھارت کے ناپاک ارادوں کو نیست نابود کر دیا ہے۔
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو موجودہ حالات میں یہ ادراک ہے کہ اس وقت ا یسی سیاسی حکومت ہو جو بیک وقت امریکہ اور بھارت کو آنکھیں دکھا سکے ۔ ایسا نواز شریف جیسے پرانے کھلاڑی سے اب ممکن نہ رہا تھا ۔ پس نواز شریف نے پاک فوج کے خلاف خوب ہرزہ سرائی کی لیکن قوم نے اِس ہرزہ سرائی کو ناکام بنادیا۔ یوں نواز بیانیہ جو پانامہ کرپشن ایون فیلڈ فلیٹس کی وجہ سے عروج پر تھا اُس کا جواب پاکستانی قوم نے دئے دیا ۔ یوں عام الیکشن میں عمران کی جیت کے بعد بھارت اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔نواز لیگ کے اوپنر بیٹسمین خاقان عباسی، رانا ثاء اللہ عابد شیر علی اینڈ کمپنی کی شکست اِس بات کا اظہار ہے پاکستانی عوام بھارت کی بالادستی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک اور اہم بات جس طرح الیکشن والے دن پاکستانی عوام نے الیکشن ڈیوٹی پر موجود پاک آرمی کے نوجوانوں سے محبت کی۔ آرمی جوانوں کو پھول پیش کیے ۔ آرمی جوانوں کے مُنہ چومے۔ یہ سب کچھ اُسی نظریہ پاکستان کا اظہار ہی تو ہے جس مقصد کے لیے یہ ارضِ پاک حاصل کیا گیا تھا۔
عمران خان کی حالیہ کامیابی کے بعد اِس پر بہت بھاری ذمہ داری آں پڑی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر میں انتہائی کمی، افراطِ زر کی بلند سطع، بجلی کا بحران پینے کے صاف پانی کی کمی، پنجاب میں پولیس کاظلم پر مبنی نظام ۔ عدالتی نظام میں مستعدی لانا۔ یہ ہیں وہ چیلنجز جو کہ اب عمران خان کو درپیش ہیں۔ قوی امید ہے کہ تحریک انصاف نے قوم کو جو نئی اُمنگ دی ہے اُس پر پورا بھی اُترے گی۔ قوم نے یہ ووٹ تحریک انصاف کو نہیں دیا بلکہ پوری قوم نے صرف اور صرف یہ ووٹ پاکستان کو دیا ہے۔
پاکستانی معاشرئے میں یہ ایک مروجہ اصول ہے کہ الیکشن ہارنے والے ہمیشہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچاتے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ن لیگ کو پاکستان کی فوج کے خلاف مہم جوئی کی وجہ سے اور ختم نبوت کی قانون میں ترمیم کی وجہ سے اور بھارتی وزیر اعظم مودی کے حوالے سے نرم رویہ کی وجہ سے شکست کھانا پڑی ہے۔ پوری قوم کو اب عمران خان کے ساتھ جو امیدیں بندھ گئی ہیں اُن امیدوں پر پورا اُترنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ عوام کو نوکریاں دی جائیں۔ مہنگائی میں کمی کے لیے اقدامات کیے جائیں اور قوم کے اندر نیا جذبہ پیدا کیا جائے۔ عمران خان نے الیکٹیبلز کا جو سہارا لیا تھا وہ ایک ذریعہ تھا حکومت حاصل کرنے کا ۔ اب عمران خان ثابت کرئے کہ وہ واقعی ایک ریفارمر ہے۔ پاک فوج زندہ آباد، قائد اعظم زندہ آباد پاکستان زندہ آباد