ایمان اور عشق۔۔۔۔۔ مومن کی پہچان

30

صاحبزادہ اشرف عاصمی
دیوانگی اگر حلال و حرام میں امتیاز ملحوظِ خاطر رکھے تو وہ عشق ہے لیکن ایسی کیفیت جو انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر حیوانیت کی سطح پر لے آئے تو وہ پھرعشق نہیں رہتا بلکہ وہ تو حیوانیت بن جاتی ہے جس کا مظاہرہ سور سمیت بہت سے جانور ہمہ وقت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جو کیفیت انسان سے شعور چھین لے انسان سے فہم وادراک نوچ لے انسان سے اُس کے انسان ہونے کا شرف جاتا رہے تو پھر تو نہ ایمان رہا اور نہ اِسکا کوئی پاس۔خالق نے انسان کو جس صورتحال سے دوچار کر نا ہوتا ہے اُس کے لیے اُس کو اُس طرح کے ماحول کے لیے ہمت عطا فرما دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ تو تب ہوتا ہے جب انسان کے اندر ایمان کی کوئی رتی باقی ہو۔ اگر انسان کے اندر ایمان نہ رہا ہو تو پھر رب سے رحمت مانگنا عجب نہیں ہوگا کہ جس خالق کو مانا ہی نہیں جارہا ہواُس سے پھر اپنے لیے کیسی مددمانگی جائے۔ خالق تو انتظار میں ہوتا ہے کہ کب اُس سے مانگا جائے اور وہ عطا فرمادئے۔ جس طرح پھول اُس وقت تک مہکتا رہتا ہے جب تک اُسے روشنی پانی ملتی رہے ایمان بھی اُس وقت تک انسان کے اندر حلول رہتا ہے جب تک انسان خود انسان سمجھے اور انسان ہونے کے مرتبے پر فائز رہے۔جب انسان اپنے خالق کو بھلا کر خود کو حیات وممات کے تمام مسلمہ اصولوں سے بالادست سمجھ لیتا ہے تو پھر آگہی و ادراک انسان سے روٹھ جاتا ہے۔ محبت اُنس کے جذبے ، نفرت اور لالچ کی گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔ اِن حالات میں فہم وفراست کا انسان کے دماغ میں سے گزر بند ہوجاتا ہے۔ ایمان انسان کو جذبہ عطا کرتا ہے ایمان انسان کو اتنا مضبوط بنادیتا ہے کہ پہاڑ اُس کی ہیبت سے رائی بن جاتا ہے۔ صحرا و دریا اُس کے سامنے نہیں ٹھرتے۔رب پر بھروسہ عشق کی ایسی سیڑھی پر انسان کو گامزن کرتا ہے کہ دنیاوی لالچ دنیاوی رکھ رکھاؤ دنیا شان و شوکت انسان کے پاؤں کی ٹھوکر پہ ہوتے ہیں۔پھر اویس کرنیؓ،بلال حبشی،سلمان فارسی،ؓ سلطان صلاح ا لدین ایوبیؒ ، عبدالقادر جیلانیؒ ،سائیں سُچل سرمست، بابا فریدؒ ،داتا علیٰ ہجویریؒ ۔سلطان باہوؒ ، حضرت میاں میرؒ ، حضرت میاں وڈا صاحبؒ ،بابا بلھے شاہؒ ،شاہ حسینؒ بنتے دیر نہیں لگتی۔بس خالق کی عطا ہوتی ہے وہ جب جب چاہتا ہے تب تب عطا کرتا چلا جاتا ہے۔اِس کے لیے اُس نے کونسا کسی سے اجازت لینی ہوتی ہے۔ وہ تو قادرِ مطلق ہے۔ سراپاِ محبت،وہی وقت ہے وہی خوشبو ہے وہی دن ہے وہی رات ہے وہ ہر ہر رنگ میں ہے۔ وہ ہر ہر لمحے میں ہے۔ اُس کی لاپروائی کی کوئی حد نہیں ۔اُس کا کوئی ہم سر نہیں۔ اُس جیسا کوئی بھی تو نہیں۔ انسانی تمدن کی ہزاروں سالوں کیتاریخ بتاتی ہے کہ چاند ستارئے موسم دن رات سب کچھ تو ایک معین نظام کے تحت جاری وساری ہے ۔کون ہے جو اُس کی طاقت کو للکار سکے کون ہے جس کی زندگی رب کے طفیل نہ ہو ہر کوئی تو محتاج ہے سور ج ہے تو محتاج، زمین ہے تو محتاج۔چاند بھی اپنی مرضی نہیں کرسکتا۔لیکن جب ہم عشق و محبت اور ایمان کی کسوٹی کے حوالے سے جائزہ لیں تو ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ خالق کو بھی کسی سے عشق ہے خالق بھی کسی کو محبوب رکھتا ہے حتیٰ کے خالق کا یہ فرمان کہ میں نیاے محبوبﷺ اگر آپ ﷺ پیدا نہ کرتا تو یہ کائنات پیدا نہ کرتا حتیٰ کہ اپنے رب ہونے کا اظہار نہ کرتا۔ ذرا رُکیے خالق اور مخلوق کی محبت کس رنگ میں کہ خالق اپنے محبوب کے لیے چاند کے ٹکرئے فرما رہا ہے۔ خالق اپنے محبوبﷺکو کہہ رہا کہ وہ ہاتھ جس سے بیتِ رضوان لی تھی وہ ہاتھ ائے میرئے محبوبؒ ﷺ آپکا نہیں میرا ہاتھ تھا۔ یہ ہے وہ عشق جو خالق اپنے محبوب کی ہستی سے فرما رہا ہے اور اپنے محبوب کے ناز اُٹھارہا ہے ۔ ہے کوئی دنیا میں کوئی ایسی شخصیت جو خالق کو سب سے زیادہ محبوب ہو تو وہ صرف نبی پاکﷺ کی ہی ہستی ہے۔ گویا عشق کا ایمان کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ایمان انسان کو وحشت سے دور رکھتا ہے۔ بندئے کا اپنے رب سے تعلق بہار کی طرح کا ہوتا ہے پھول جب تک بہار کے مزئے لوٹ رہا ہوتا ہے وہ مہکتا رہتا ہے جیسے ہی خزاں وارد ہوتی ہے پھول کی پتیاں بکھر جاتی ہیں۔ انسان جب تک اپنے رب سے امید باندھے رکھتا ہے تب تک اُس کے من کی دنیا آباد رہتی ہے جیسے ہی وہ اپنے رب سے ناامید ہوتا ہے اور یاسیت اُس سے روحانی قوت چھین لیتی ہے جس لمحے بھی بندئے کے دل میںیہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ اُس کا یہ کام نہیں ہونا تو گویا وہ اپنے رب کی ربوبیت کوغیر ارادی طور پر ماننے سے انکاری ہوجاتا ہے یوں پھر امید کی کمزوری اُس کے ایمان کو اعتقاد کو اُسکے یقین کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وہ پھر رب کی رحمتوں کے ہالے سے نکل کر وسوسوں کے جال میں پھنس جاتا ہے بلکل اِسی طرح جیسے مکڑا جال میں پھنسا ہوتا ہے۔ نہ تو امید بَر آتی ہے اور نہ وسوسے چین لینے دیتے ہیں۔ عبادت گاہوں میں خاص اہتمام ہوتا ہے کیا رب کا صرف وہیں قیام ہوتا ہے گھر میں بازار میں دفتر میں کیا ایمان کا کام نہیں ہوتا ہے یونہی مذہب کا نام لے لے کے عقیدتوں کا دم بھر بھر کے عبادت کی رسم ادا ہوتی ہے