مشہورنعت۔تو شمع رسالت ہے کے مصنف، حضرت مفتی اختررضاخان الازہریؒ

26

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
نبیرہ اعلیٰ حضرت تاج الشریعہ حضرت مفتی اختر رضا خان الازہری انتقال فرماگئے ہیں،اناللہ و انا الیہ راجعون۔ مولانا اختر رضا خان الازہری صاحب تاج الشریعہ کے نام سے موسوم اور مولانا احمد رضا خان مرحوم کے حلقے کے سربراہ شمار ہوتے تھے، ان کا انتقال بھارتی شہر بریلی میں ہوا۔ یقیناعالم کی موت عالم کی موت ہے۔عشق رسولﷺ کے علمبردار جناب حضرت احمد رضا خان ؒ کے پرپوتے کی وفات سے وہ خلا پیدا ہوگیا ہے جس کو پُر نہیں کیا جاسکتا۔ اعلیٰ حضرت کے خانوادے سے تعلق اور اُمت مسلمہ کے لیے انتہائی نرم گوشہ کے حامل اُمت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے عظیم داعی تھے۔ یوں جولائی کا مہینہ عالم اسلام کے لیے اچھی خبر نہیں لایا۔ ہر انسان نے اِس دُنیا کو خدا حافظ کہنا ہے۔ لیکن اتنی باکمال ہستی کا اُٹھ جانا اِس قحط الرجال کے دور میں بہت بڑا سانحہ ہے۔ اعلیٰ حضرت کے خاندان کے عظیم چشم و چراغ معروف عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد اختر رضا خان کو بریلی بھارت میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اختر رضا خان ؒ عالم اسلام کے ممتاز مفکر اور روحانی شخصیت اعلی حضرت امام احمد رضا بریلویؒ کے پڑپوتے اورجانشین تھے۔ ان کی نماز جنازہ اسلامیہ انٹر کالج بریلی میں ادا کی جانی تھی لیکن جگہ کم پڑ گئی، تدفین ازہری گیسٹ ہاوس میں ہوئی۔ مولانا اختر رضا کی نماز جنازہ ان کے اکلوتے صاحب زادے مولانا اسجد رضا نے پڑھائی۔مولانا مفتی محمد اختر رضا خان ؒ کی تدفین میں شرکت کے لئے ہندوستان بھر سے لاکھوں افراد شریک ہوئے۔ انہیں ازہری مہمان خانہ میں اعلی حضرت احمد رضا خان ؒ کے برابر میں دفنایا گیا۔مفتی اختر رضا عرف ازہری میاںؒ جمعہ کو دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ 75 سالہ ازہری میاںؒ کی رحلت کے بعد سے بریلی شہر غم میں ڈوب گیا لاکھوں لوگوں کی آمد کے پیش نظر شہر کے راستے بند کر دئیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ سے زیادہ افراد بریلی میں پہنچے تھے۔ بھیڑ کی تعداد کے سبب ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں 5 گھنٹوں کاوقت لگا۔
بریلی کی مسجدوں میں جیسے ہی یہ اعلان کیا گیا کہ تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان عرف ازہری میاںؒ اب اس دنیا سے چلے گئے ہیں تبھی سے بریلی شہر رنج و غم کے عالم میں ڈوب گیا۔ اس کے باوجود کہ شہر میں رک رک کر بارش ہو رہی تھی پھر بھی لاکھوں افراد ان کے جسد خاکی کو دیکھنے کے لئے مشتاق تھے۔مولانا مفتی اختر رضا خانؒ کو دنیا بھر کے 50 طاقتور ترین مسلمانوں میں سے ایک مانا گیا تھا اور اس فہرست میں انہیں 22 واں مقام حاصل تھا۔ازہری میاں نے گذشتہ سال پیدل سفر کے دوران بریلی پہنچے والے راہل گاندھی سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ سنجے دت اور امر سنگھ کے گھنٹوں انتظار کے باوجود ان سے نہیں ملے تھے، انہوں نے اقتدار کی جانب سے پیش کئی عہدوں کو ٹھکرا دیا تھا۔عالم دین ازہری میاں ؒ نے اپنی پوری زندگی اسلامی شریعت کے مطابق گزاری، انہیں تاحیات سیاست سے دوری بناکر رکھنے کے لئے ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ اٹھ نہیں سکے، ان کے داماد نے ان کے دنیا سے چلے جانے کی خبر سنائی۔ دنیا بھر میں ان کے کروڑوں شیدائی موجود ہیں۔انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام کے قانون پر عمل کرتے ہوئے گزاری جو ان کی عظمت کی انتہا تھی۔ عالم اسلام میں اعلی حضرت ؒ کے بعد انہیں دوسرا سب سے زیادہ علم رکھنے والا شخص مانا جاتا تھا۔ بریلی میں ماتم کا ماحول ہے، ان کی جگہ کوئی نہیں لے پائے گا۔ ازہری میاںؒ پر متعدد کتابیں لکھی گئیں جن میں سے حیات تاج شریعہ، کرامات تاج شریعہ اور نودرات تاج الشریعہ شامل ہیں۔ شریعت پر عمل کرنے کے سبب انہیں تاج الشریعہ کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔ 1952 میں جس اسلامیہ انٹر کالج میں داخلہ لے کر انہوں نے ہندی اور انگریزی کی تعلیم حاصل کی تھی،۔ یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ 1963 میں مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مصر کے شہر قاہرہ میں موجود اور دنیا بھر میں مشہور الازہر یونیورسٹی چلے گئے۔ازہری میاں کی پیدائش 2 فروری 1943 کو ہوئی تھی جبکہ 20 جولائی 2018 کو انہوں نے رحلت فرمائی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ دار العلوم منظرالاسلام سے حاصل کی تھی۔ یہاں انہوں نے ارودو کے علاوہ فارسی کی بھی تعلیم حاصل کی۔ ازہری میاں ؒ اسلام کے تمام فرقوں سے نا اتفاقیاں دور کرنے کے لئے سرگرم عمل تھے۔اِس مضمون میں راقم نے جناب مفتی اختر رضا خانؒ کے حوالے سے جو مواد اکھٹا کیا ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
علامہ مفتی الحاج الشاہ محمد اختر رضا خاں الازہری قادری 25 فروری 1942ء کو محلہ سوداگران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔1963ء میں جامعہ ازہر قاہرہ مصر تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے کلیہ اصول الدین میں داخلہ لیا۔ مسلسل تین سال تک جامعہ ازہر مصر کے فن تفسیر وحدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیا، دوسرے سال کے سالانہ امتحان میں آپ نے شرکت کی اور پورے جامعہ ازہر قاہرہ میں امتحان میں اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔ عربی میں بی۔اے کی سند فراغت نہایت نمایاں اور ممتاز حیثیت سے حاصل کی نہ صرف جامعہ ازہر میں بلکہ پورے مصر میں اول نمبروں سے پاس ہوئے۔مفتی محمد اختر رضا ازہری کو 1967ء میں دارالعلوم منظر اسلام بریلی میں درس دینے کے لیے پیشکش کی گئی۔ آپ نے اس دعوت کو قبول کیا۔ تاج الشریعہ کے برادر اکبر مولانا ریحان رضا رحمانی بریلوی نے 1978ء میں صدر المدرسین کے اعلیٰ عہدہ پر تقرر کیا۔ اور اس عہدے کے ساتھ رضوی دارالافتا کے صدر مفتی بھی رہے۔ درس وتدریس کا سلسلہ مسلسل بارہ سال تک چلتا رہا۔ تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار نام محفوظ ہیں جن کے کارہائے نمایاں رہتی دنیا تک یاد رکھے جائیں گے لیکن جب ذکر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کا آجائے تو تاریخ ڈھونڈتی ہے کہ ان جیسا دوسراکوئی ایک ہی اسے اپنے دامن میں مل جائے۔ کوئی کسی فن کا امام ہے تو کوئی کسی علم کا ماہر لیکن سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ہر علم، ہر فن کے آفتاب و جہاں مالک قدیر نے آپ کو،نامور آباؤ اجداد اور معزز و مقدس قبیلہ میں پیدا فرمایا وہیں آپ کی اولاد اورخاندان میں بھی بے شمار بے مثال افراد پیدا فرمائے۔ استاد زمن، حجۃ الاسلام، مفتیء اعظم،مفسر اعظم،حکیم الاسلام، ریحان ملت، صدر العلماء، امین شریعت جس کسی کو دیکھ لیجئے ہر ایک اپنی مثال آپ ہے۔انہی میں ایک نام سر سبز وشاداب باغِ رضا کے گل شگفتہ، روشن روشن فلک رضا کے نیر تاباں قاضی القضاۃ فی الہند، جانشین مفتی اعظم،حضور تاج الشریعہ حضرۃ العلام مفتی محمد اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ علینا کا بھی ہے۔
حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم رضا خاں قادری جیلانی کے لخت جگر، سرکار مفتیء اعظم ہند علامہ مفتی مصطفی رضاخاں قادری نوری کے سچے جانشین،حجۃ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خاں قادری رضوی کے مظہر اور سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلوی کی برکات و فیوضات کا منبع اور ان کے علوم و روایتوں کے وراث و امین ہیں۔ان عظیم نسبتوں کا فیضان آپ کی شخصیت میں اوصاف حمیدہ اور اخلاق کریمانہ کی صورت میں جھلک رہا ہے۔استاذ الفقہأ حضرت علامہ مفتی عبد الرحیم صاحب بستوی دامت برکاتہم القدسیہ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علیناپر ان عظیم ہستیوں کے فیضان کی بارشوں کاتذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:” سب ہی حضرات گرامی کے کمالات علمی و عملی سے آپ کو گراں قدر حصہ ملا ہے۔ فہم و ذکا،قوت حافظہ و تقویٰ سیدی اعلیٰ حضرت سے،جودت طبع و مہارت تامہ (عربی ادب) میں حضور حجۃ الاسلام سے،فقہ میں تبحر و اصابت سرکار مفتیء اعظم ہند سے، قوت خطابت و بیان والد ذی وقار مفسر اعظم ہند سے یعنی وہ تمام خوبیاں آپ کووارثتہً حاصل ہیں جن کی رہبر شریعت و طریقت کو ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ آپ اخترتخلص استعمال فرماتے ہیں۔ آپ کے القابات میں تاج الشریعہ، سلطان الفقہاء، جانشین مفتء اعظم، شیخ الاسلام و المسلمین زیادہ مشہور ہیں۔اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت تک آپ کا شجرہ نصب یوں ہے۔ محمد اختررضا خاں قادری ازہری بن محمد ابرہیم رضا خاں قادری جیلانی بن محمد حامد رضا خاں قادری رضوی بن امام احمد رضا خاں قادری برکاتی بریلویََ جانشین مفتء اعظم حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی عمر شریف جب4/سال،4/ ماہ اور4/ دن ہوئی توآپ کے والد ماجد مفسر اعظم ہند حضرت ابراہیم رضا خاں جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ نے تقریب بسم اللہ خوانی منعقد کی۔اس تقریب سعید میں ”یاد گار اعلی حضرت دارالعلوم منظر الاسلام” کے تمام طلبہ کو دعوت دی گئی۔ رسم بسم اللہ نانا جان تاجدار اہلسنّت سرکار مفتء اعظم ہند محمد مصطفی رضاخاں نور ی نے ادا کرائی۔ حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے ”ناظرہ قرآن کریم ”اپنی والدہ ماجدہ شہزادیء مفتی اعظم سے گھر پرہی ختم کیا،والدماجد سے ابتدائی اردو کتب پڑھیں۔ اس کے بعد والد بزرگوار نے ”دارالعلوم منظرالاسلام” میں داخل کرا دیا، درس نظامی کی تکمیل آپ نے منظر الاسلام سے کی۔اس کے بعد حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا ”جامعۃ الازہر”قاہرہ،مصرتشریف لے گئے۔وہاں آپ نے ”کلیہ اصول الدین” میں داخلہ لیااورمسلسل تین سال تک” جامعہ ازہر، مصر” کے فن تفسیر و حدیث کے ماہر اساتذہ سے اکتساب علم کیا۔ تاج الشریعہ جامعۃ الازہر سے فارغ ہوئے۔ اپنی جماعت میں اول پوزیشن حاصل کرنے پر آپ کواس وقت کے مصر کے صدر کرنل جمال عبدالناصر نے ”جامعہ ازہر ایوارڈ” پیش کیا اور ساتھ ہی سند سے بھی نوازے گئے۔آپ کے اساتذہ کرام میں حضور مفتی اعظم الشاہ مصطفےٰ رضاخاں نوری بریلوی، بحر العلوم حضرت مفتی سید محمد افضل حسین رضوی مونگیری،مفسر اعظم ہند حضرت مفتی محمد ابراہیم رضا جیلانی رضوی بریلوی،فضیلت الشیخ علامہ محمد سماحی،شیخ الحدیث و التفسیر جامعہ ازہر قاہرہ، حضرت علامہ مولانا محمود عبدالغفار،استاذالحدیث جامعہ ازہر قاہرہ، ریحان ملت،قائداعظم مولانا محمد ریحان رضا رحمانی رضوی بریلوی، استاذ الاساتذہ مولانا مفتی محمد احمد عرف جہانگیر خاں رضوی اعظمی کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔ جانشین مفتی اعظم کا عقد مسنون حکیم الاسلام مولانا حسنین رضا بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ کی دختر نیک اخترکے ساتھ کو محلہ کا نکر ٹولہ شہر کہنہ بریلی میں ہوا۔ آپ کے ایک صاحبزادہ مخدوم گرامی مولانا اسجد رضا قادری بریلوی اور پانچ صاحبزادیاں ہیں۔حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا نے تدریس کی ابتدادارالعلوم منظر اسلام بریلی سے کی۔ آپ دارالعلوم کے صدر المدرس اور رضوی دارالافتاء کے صدر مفتی کے عہدے پر فائز ہوئے۔ درس و تدریس کا سلسلہ مسلسل بارہ سال جاری رہالیکن حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی کثیر مصروفیات کے سبب یہ سلسلہ مستقل جاری نہیں رہ سکا۔ لیکن آج بھی آپ مرکزی دارالافتاء بریلی شریف میں ”تخصص فی الفقہ ” کے علمائے کرام کو ”رسم المفتی،اجلی الاعلام” اور ”بخاری شریف ” کا درس دیتے ہیں۔
حضورتا ج الشریعہ کو بیعت و خلافت کا شرف سرکار مفتی اعظم سے حاصل ہے۔ سرکار مفتی اعظم ہند نے بچپن ہی میں آپ کوبیعت کا شرف عطا فرمادیا تھااور تمام سلاسل کی خلافت و اجازت سے نوازا۔ علاوہ ازیں آپ کو خلیفہ اعلیٰ حضرت برہان ملت حضرت مفتی برہان الحق جبل پوری، سید العلماء حضرت سید شاہ آل مصطفی برکاتی مارہروی،احسن العلماء حضرت سید حیدر حسن میاں برکاتی،والد ماجد مفسر اعظم علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری سے بھی جمیع سلاسل کی اجازت و خلافت حاصل ہے۔ روہیلہ حکومت کے خاتمہ،بریلی شریف پرانگریز وں کے قبضہ اور حضرت مفتی محمد عیوض صاحب کے روہیلکھنڈ(بریلی) ٹونک تشریف لے جانے کے بعد بریلی کی مسند افتاء خالی تھی۔ایسے نازک اور پر آشوب دور میں امام العلماء علامہ مفتی رضا علی خاں نقشبندی رضی اللہ تعالی عنہ نے بریلی کی مسند افتاء کورونق بخشی۔ یہیں سے خانوادہ رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی عظیم الشان روایت کی ابتداء ہوئی۔۔ یعنی خاندان رضویہ میں فتاویٰ نویسی کی ایمان افروز روایت جاری ہے۔امام الفقہأ،حضرت علامہ مفتی محمد رضا علی خاں قادری بریلوی،امام المتکلمین،حضرت علامہ مولانامحمد نقی علی خاں قادری برکاتی،اعلیٰ حضرت،مجدد دین وملت،حضرت علامہ مولانا مفتی محمد احمد رضا خاں قادری برکاتی،شہزادہء اعلیٰ حضرت،حجۃ الالسلام،جمال الانام حضرت علامہ مولانا مفتی حامد رضا خاں قادری رضوی، شہزادہء اعلیٰ حضرت تاجدار اہل سنت،مفتء اعظم ہند،علامہ مولانا مفتی محمد مصطفی رضا خاں قادری نوری، نبیرہ اعلیٰ حضرت،مفسر اعظم ہند حضرت علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں قادری رضوی اوراب ان کے بعد اب قاضی القضاۃ فی الہند،تاج الشریعہ،حضرت علامہ مولانا مفتی اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ، علینا اس خدمت کو بحسن و خوبی سرانجام دیتے رہے ۔آپ خود اپنے فتوی نویسی کی ابتداء سے متعلق فرماتے ہیں:”میں بچپن سے ہی حضرت (مفتی اعظم) سے داخل سلسلہ ہو گیا ہوں، جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد میں نے اپنی دلچسپی کی بناء پر فتویٰ کا کام شروع کیا۔ شروع شروع میں مفتی سید افضل حسین صاحب علیہ الرحمتہ اور دوسرے مفتیانِ کرام کی نگرانی میں یہ کام کرتا رہا۔ اور کبھی کبھی حضرت کی خدمت میں حاضر ہو کر فتویٰ دکھایا کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کام میں میری دلچسپی زیادہ بڑھ گئی اور پھر میں مستقل حضرت کی خدمت میں حاضر ہونے لگا۔ حضرت کی توجہ سے مختصر مدت میں اس کام میں مجھے وہ فیض حاصل ہوا کہ جو کسی کے پاس مدتوں بیٹھنے سے بھی نہ ہوتا۔ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے فتاویٰ سے متعلق جگرگوشہ صدرالشریعہ، محدث کبیر حضرت علامہ مفتی ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ رقم طراز ہیں: ”تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ کی تحریر پڑھ رہے آپ کی تحریرمیں دلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتاہے۔” ۔احقاق حق و ابطال باطل،خانوادہء رضویہ کی ان صفات میں سے ہے جس کا اعتراف نہ صرف اپنوں بلکہ بیگانوں کو بھی کرنا پڑا۔یہاں حق کے مقابل نہ اپنے پرائے کا فرق رکھا جاتا ہے نہ امیر و غریب کی تفریق کی جاتی ہے۔ سیدی اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کا دور تو تھا ہی فتنوں کا دور ہر طرف کفرو الحاد کی آندھیاں چل رہی تھیں لیکن علم بردار حق سیدی اعلیٰ حضرت نے کبھی باطل کے سامنے سر نہ جھکایاچاہے ذبحِ گائے کا فتنہ ہویاہندو مسلم اتحاد کا، تحریک ترک موالات ہو یا تحریک خلافت یہ مرد مومن آوازہء حق بلند کرتا ہی رہا۔ سرکارمفتیء اعظم کی حق گوئی وبے باکی بھی تاریخ کا درخشندہ باب ہے شدھی تحریک کا زمانہ ہو یانسبندی کاپر خطر دور ہوآپ نے علم حق کبھی سرنگوں نہ ہونے دیا۔ اللہ رب العزت نے جانشین مفتی اعظم کواپنے اسلاف کا پرتو بنایاہے۔آپ کی حق گوئی اور بے باکی بھی قابل تقلید ہے۔ وقتی مصلحتیں،طعن و تشنیع، مصائب وآلام یہاں تک کہ قید و بند کی صعوبتیں بھی آپ کو راہ حق سے نہ ہٹا سکی۔آپ نے کبھی اہل ثروت کی خوشی یا حکومتی منشاء کے مطابق فتویٰ نہیں تحریر فرمایا، ہمیشہ صداقت و حقانیت کا دامن تھامے رکھا۔اس راہ میں کبھی آپ نے اپنے پرائے، چھوٹے بڑے کافرق ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔ ہر معاملہ میں آپ اپنے آباء و اجدادکی روشن اور تابناک روایتوں کی پاسداری فرماتے رہے ہیں۔شیخ عالم حضرت علامہ سیدشاہ فخر الدین اشرف الاشرفی کچھوچھوی دامت برکاتہم القدسیہ زیب سجادہ کچھوچھہ مقدسہ تحریر فرماتے ہیں: ”علامہ (حضورتاج الشریعہ کا)ہر حال میں باد سموم کی تیز و تند،غضبناک آندھیوں کی زد میں بھی استقامت علی الحق کا مظاہر ہ کرنا اور ثابت قدم رہنا یہ وہ عظیم وصف ہے جس نے مجھے کافی متاثر کیا۔
حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینااخلاق حسنہ اور صفات عالیہ کا مرقع ہیں۔حکمت و دانائی، طہارت و پاکیزگی،بلندیء کردار،خوش مزاجی و ملنساری،حلم و بردباری، خلوص و للّٰہیت،شرم و حیا،صبر و قناعت،صداقت و استقامت بے شمار خوبیاں آپ کی شخصیت میں جمع تھیں،وہیں آپ زہد و تقویٰ کا بھی مجسم پیکرتھے۔آپ کے تقویٰ ایک جھلک ذیل کے واقعات میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔مولانا غلام معین الدین قادری (پرگنہ،مغربی بنگال)لکھتے ہیں:”حضورتاج الشریعہ سے حضرت پیر سید محمد طاہر گیلانی صاحب قبلہ بہت محبت فرمایا کرتے ان کے اصرار پر حضرت پاکستان بھی تشریف لے گئے واہگہ سرحد پر حضرت کا استقبال صدر مملکت کی طرح توپوں کی سلامی دے کر کیا گیا۔حضرت کا قیام ان کے ایک عزیزشوکت حسن صاحب کے یہاں تھا راستے میں ایک جگہ ناشتہ کا کچھ انتظام تھاجس میں انگریزی طرز کے ٹیبل لگے تھے حضرت نے فرمایا:”میں پاؤں پھیلاکر کھانا تناول نہیں کروں گا۔” پھر پاؤں سمیٹ کر سنت کے مطابق اسی کرسی پر بیٹھ گئے ۔
مولانا منصور فریدی رضوی (بلاسپور،چھتیس گڑھ)حضرت کے ایک سفر کا حال بیان کرتے ہیں:”محب مکرم حضرت حافظ وقاری محمد صادق حسین فرماتے ہیں کہ، حضرت تاج الشریعہ کی خدمت کے لئے میں معمور تھا اور اپنے مقدر پر ناز کررہا تھا کہ ایک ذرہء ناچیز کو فلک کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہورہا تھا اچانک میری نگاہ حضوروالا(تاج الشریعہ) کی ہتھیلیوں پر پڑی میں ایک لمحہ کے لئے تھرا گیا آخر یہ کیا ہورہا ہے میری نگاہیں کیا دیکھ رہی ہیں مجھے یقین نہیں ہورہا ہے۔ آپ تو گہری نیند میں ہیں پھر آپ کی انگلیاں حرکت میں کیسے ہیں؟ میں نے مولانا عبد الوحید فتح پوری جو اس وقت موجود تھے اور دیگر افراد کو بھی اس جانب متوجہ کیا تما م کے تما م حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے تھے، معاملہ یہ ہے کہ آپ کی انگلیاں اس طرح حرکت کررہی تھیں گویا آپ تسبیح پڑھ رہے ہوں اور یہ منظرمیں اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک آپ بیدار نہیں ہوگئے۔ان تمام تر کیفیات کو دیکھنے کے بعد دل پکار اٹھتا ہے کہ ؂ سوئے ہیں یہ بظاہر د ل ان کا جاگتا ہے ” حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اپنے جد امجد مجدد دین ملت سیدنا اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے مظہر اتم اور پر تو کامل تھے ۔ اعلیٰ حضرت کی تحریری خدمات اور طرز تحریر محتاج تعارف نہیں ہے۔ حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا میدان تحریر میں بھی اعلیٰ حضرت کا عکس جمیل نظر آتے ہیں۔ آپ کی تصانیف و تحقیقات مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہیں۔تحقیقی انداز،مضبوط طرزا ستدال، کثرت حوالہ جات، سلاست وروانی آپ کی تحریر کو شاہکار بنا دیتی ہے۔ آپ اپنی تصانیف کی روشنی میں یگانہء عصر اور فرید الدہر نظر آتے ہیں۔حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں: ”تاج الشریعہ کے قلم سے نکلے ہوئے فتاویٰ کے مطالعہ سے ایسا لگتا ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام احمد رضاکی تحریر پڑھ رہے ہیں، آپ کی تحریر میں دلائل اور حوالہ جات کی بھر مار سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔”
حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا افتاء و قضا، کثیر تبلیغی اسفار اوردیگر بے تحاشہ مصرفیات کے باوجود تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔آپ کی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔اردو۔۔ 1۔ہجرت رسول .2 آثار قیامت.3 ٹائی کا مسئلہ .4حضرت ابراہیم کے والد تارخ یا آزر.5 ٹی وی اور ویڈیوکا آپریشن مع شرعی حکم .6شرح حدیث نیت.7سنو چپ رہو.8دفاع کنز الایمان (2جلد).9 الحق المبین.10تین طلاقوں کا شرعی حکم.11کیا دین کی مہم پوری ہوچکی؟.12 جشن عید میلاد النبی .13 سفینہ بخشش (نعتیہ دیوان).14 فضیلت نسب.15تصویر کا مسئلہ16 .اسمائے سورۃ فاتحہ کی وجہ تسمیہ.17 القول الفائق بحکم الاقتداء بالفاسق.18سعودی مظالم کی کہانی اختر رضا کی زبانی.19 العطایاالرضویہ فی فتاویٰ الازہریہ المعروف ازہرالفتاویٰ ( 5جلد) مفتی صاحب کی عربی تصانیف یہ ہیں۔.1لحق المبین.2 الصحابۃ نجوم الاھتداء. 3شرح حدیث الاخلاص .4نبذۃ حیاۃ الامام احمد رضا .4 سد المشارع 5 .حاشیہ عصیدۃ الشہدہ شرح القصیدۃ البردہ .6علیقاتِ زاہرہ علی صحیح البخاری .7 تحقیق أن أباسیدنا إبراہیم ں (تارح)لا(آزر) .8مراۃ النجدیہ بجواب البریلویہ (2جلد).9 الفردۃ فی شرح قصیدۃ البردۃ۔ آپ نے مندرجہ ذیل تراجم کیے.1 انوار المنان فی توحید القرآن .2 المعتقد والمنتقد مع المعتمد المستمد .3 الزلال النقیٰ من بحر سبقۃ الاتقی ۔علاوہ ازیں چند مضامین مفتی اعظم ہند،علم فن کے بحرذخاراوررویت ہلال کا ثبوت وغیرہ شامل ہیں۔ اور بھی بہت سا تحقیقی کام ہے جو ضبط تحریر میں نہیں لایا جاسکا۔
حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علیناعربی ادب پر بھی کمال مہارت اور مکمل دسترس رکھتے ہیںآپ کی عربی تصانیف بالخصوص تعلیقاتِ زاہرہ (صحیح البخاری پرابتداء تا باب بنیان الکعبہ آپ کی گرانقدر تعلیقات) اور سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کی جن کتب کی آپ نے تعریب فرمائی ہے ہمارے دعوے کی بین دلیل ہیں۔حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی عربی زبان و ادب پر کامل عبور کا اندازہ سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کے رسالہ” شمول الاسلام لاصول الرسول الکرم ”جس کی تعریب آپ نے فرمائی ہے اورآپ کے رسالہ ”أن أباسیدنا ابراہیم ں تارح لاآزر”پر علمائے عرب کی شاندار تقاریظ اور حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو دیئے گئے القابات و خطابات سے کیا جاسکتاہے۔
حضرت شیخ عبداللہ بن محمد بن حسن بن فدعق ہاشمی (مکہ مکرمہ) فرماتے ہیں: ”ترجمہ: یہ کتاب نہایت مفیدواہم مباحث اور مضامین عالیہ پر حاوی ہے،طلبہ و علماء کو اس کی اشد ضرورت ہے۔” آپ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو ان القاب سے ملقب کرتے ہیں: ”فضیلۃ الامام الشیخ محمد اختر رضا خاں الازہری، المفتی الاعظم فی الہند،سلمکم اللّٰہ وبارک فیکم”ڈاکٹر شیخ عیسیٰ ابن عبداللہ بن محمد بن مانع حمیری(سابق ڈائریکٹر محکمہء اوقاف وامور اسلامیہ،دبئی و پرنسپل امام مالک کالج برائے شریعت و قانون،دبئی) ڈھائی صفحات پر مشتمل اپنے تاثرات کے اظہار کے بعد فرماتے ہیں: ”الشیخ العارف باللّٰہ المحدث محمد اختر رضا الحنفی القادری الازہری” حضرت شیخ موسیٰ عبدہ یوسف اسحاقی (مدرس فقہ و علوم شرعیہ،نسابۃ الاشراف الاسحاقیہ،صومالیہ) محو تحریرہیں:”استاذالاکبرتاج الشریعہ فضیلۃ الشیخ محمد اختر رضا، نفعنااللہ بعلومہ وبارک فیہ ولاعجب فی ذلک فانہ فی بیت بالعلم معرف وبالارشاد موصوف وفی ھذا الباب قادۃ اعلام” حضرت شیخ واثق فواد العبیدی (مدیر ثانویۃ الشیخ عبدالقادرالجیلانی) اپنے تاثرات کا اظہار یو ں کرتے ہیں:”ترجمہ:حضرت تاج الشریعہ کی یہ تحقیق جو شیخ احمد شاکر محدث مصر کے رد میں ہے قرآن و سنت کے عین مطابق ہے آپ نے اس تحقیق میں جہد مسلسل اور جانفشانی سے کام لیاہے میں اس کے مصادر و مراجع کامراجعہ کیا تو تمام حوالہ جات قرآن وحدیث کے ادلہ عقلیہ و نقلیہ پر مشتمل پائے، اور مشہور اعلام مثلاً امم سبکی، امام سیوطی، امام رازی اور امام آلوسی وغیرہ کے اقوال نقل کئے ہیں۔” اور آپ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کا تذکر ہ ان الفاظ میں کرتے ہیں: ”شیخنا الجلیل،صاحب الرد قاطع، مرشدالسالیکن، المحفوظ برعایۃ رب العالمین،العالم فاضل،محمد اختر رضا خاں الحنفی القادری الازہری،وجزاء خیر مایجازی عبد امین عبادہ” حضرت مفتی اعظم عراق شیخ جمال عبدالکریم الدبان حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو ان القابات سے یاد کرتے ہیں:”الامام العلامۃ القدوۃ،صاحب الفضیلۃ الشیخ محمد اختر رضاالحنفی القادری، ادامہ اللّٰہ وحفظہ ونفع المسلمین ببرکۃ”
حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اس میدان کے بھی شہہ سوار ہیں۔ علم حدیث ایک وسیع میدان، متعدد انواع،کثرت علوم اور مختلف فنون سے عبارت ہے جو علم قواعدمصطلحات حدیث،دراستہ الاسانید، علم اسماء الرجال، علم جرح و تعدیل وغیرہم علوم و فنون پر مشتمل ہے۔ علم حدیث میں حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی قدرت تامہ، لیاقت عامہ،فقاہت کاملہ،عالمانہ شعور،ناقدانہ بصیرت اور محققانہ شان وشوکت علم حدیث سے متعلق آپ کی تصانیف شرح حدیث الاخلاص (عربی،اردو)،اصحابی کالنجوم فایھم اقتدیتم اہتدیتم (الصحابہ نجوم الاھتداء)، تعلیقات زاہرہ، آثار قیامت سے خصوصاً ودیگر کتب سے عموماً آشکار ہے۔مولانا محمد حسن ازہری (جامعۃ الازہر،مصر)رقم طراز ہیں:”اصحابی کالنجوم الخ کے تعلق سے حضورتاج الشریعہ مدظلہ، العالی نے جو تحقیقی مرقع پیش کیاہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اصول حدیث پر حضورتاج الشریعہ کو کس قدر ملکہ حاصل ہے۔”
ترجمہ نگاری انتہائی مشکل فن ہے۔ترجمہ کا مطلب کسی بھی زبان کے مضمون کو اس انداز سے دوسری زبان میں منتقل کرنا ہے کہ قاری کو یہ احساس نہ ہونے پائے کہ عبارت بے ترتیب ہے یا اس میں پیوند کاری کی گئی ہے۔ کماحقہ، ترجمہ کرنا انتہائی مشکل امر ہے۔ اس میں ایک زبان کے معانی اور مطالب کودوسری زبان میں اس طرح منتقل کیا جاتاہے کہ اصل عبارت کی خوبی اور مطلب ومفہوم قاری تک صحیح سلامت پہنچ جائے۔یعنی اس بات کا پورا خیال رکھاجائے اصل عبارت کے نہ صرف پورے خیالات و مفاہیم بلکہ لہجہ و
انداز،چاشنی و مٹھاس، جاذبیت و دلکشی،سختی و درشتگی،بے کیفی و بے رنگی اسی احتیاط کے ساتھ آئے جو محرر کا منشا ء ہے اور پھر زبان و بیان کا میعار بھی نقل بمطابق اصل کامصداق ہو۔
علمی و ادبی ترجمے تو صرف دنیاوی اعتبار سے دیکھے جاتے ہیں لیکن دینی کتب خاص کر قرآن وحدیث کا ترجمہ انتہائی مشکل اور دقت طلب امرہے۔یہاں صرف فن ترجمہ کی سختیاں ہی درپیش نہیں ہوتیں بلکہ شرعی اعتبار سے بھی انتہائی خطرہ لاحق رہتاہے کہ کہیں اصل معنی میں تحریف نہ ہوجائے کہ سارا کیا دھرا برباد اور دنیا و آخرت میں سخت مؤاخذہ بھی ہو۔ اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جس کاا س سے واسطہ پڑ اہو۔
حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا جہاں دیگر علوم و فنون پر مکمل عبور اور کامل مہارت رکھتے تھے وہیں ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی آپ اپنی مثال آپ تھے۔ حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کی ترجمہ نگاری سے متعلق نبیرہء محدث اعظم ہند،شیخ طریقت علامہ سیدمحمد جیلانی اشرف الاشرفی کچھوچھوی دامت برکاتہم العالیہکا یہ تبصرہ ملاحظہ فرمایں۔ ”ارے پیارے! ”المعتقدو المنتقد” فاضل بدایونی نے اور اس پر حاشیہ ” المعتمد المستند ” فاضل بریلوی نے عربی زبان میں لکھا ہے اور جس مندرجہ بالا اقتباس کو ہم نے پڑھا اسے اہل سنت کی نئی نسل کے لئے تاج الشریعہ،ملک الفقہاء حضرت العلام اختر رضا خاں ازہری صاحب نے ان دونوں اکابر ین کے ادق مباحث کو آسان اور فہم سے قریب اسلوب سے مزین ایسا ترجمہ کیا کہ گویا خود ان کی تصنیف ہے۔ ”المعتمد” کے ترجمہ میں اگر ایک طرف ثقاہت و صلابت ہے تو دوسری طرف دِقتِ نظر و ہمہ گیریت بھی ہے۔ صحت و قوت کے ساتھ پختگی و مہارت بھی ہے۔ ترجمہ مذکورہ علامہ ازہری میاں کی ارفع صلاحیتوں کا زندہ ثبوت ہے۔ اللّٰھم زد فزد’ والد ماجد حضورتاج الشریعہ مفسر اعظم ہند علامہ مفتی ابراہیم رضا خاں جیلانی میاں رضی اللہ تعالی عنہ کو قدرت نے زورِ خطابت وبیان وافر مقدار میں عطا فرمایا تھا اور حضورتاج الشریعہ کو تقریروخطاب کا ملکہ اپنے والد ماجد سے ملا ہے۔آپ کی تقریرانتہائی مؤثر، نہایت جامع، پرمغز،دل پزیر،دلائل سے مزین ہوتی ہے۔ اردو تو ہے ہی آپ کی مادری زبان مگر عربی اور انگریزی میں بھی آپ کی مہارت اہل زبان کے لئے بھی باعث حیرت ہوتی ہے۔ اس کا اندازہ حضرت محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ اعظمی دامت برکاتہم العالیہ کے اس بیان سے باآسانی کیا جاسکتا ہے،آپ فرماتے ہیں:”اللہ تعالیٰ نے آپ کو کئی زبانوں پر ملکہ خاص عطا فرمایا ہے۔زبان اردو تو آپ کی گھریلو زبان ہے اورعربی آپ کی مذہبی زبان ہے۔ ان دونوں زبانوں میں آپ کو خصوصی ملکہ حاصل ہیعربی کے قدیم وجدید اسلوب پر آپ کو ملکہء راسخ حاصل ہے ۔میں نے انگلینڈ، امریکہ،ساؤتھ افریقہ،زمبابوے وغیرہ میں برجستہ انگریزی زبان میں تقریر ووعظ کرتے دیکھاہے اور وہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں سے آپ کی تعریفیں بھی سنیں ہیں اور یہ بھی ان سے سنا کہ حضرت کو انگریزی زبان کے کلاسکی اسلوب پرعبور حاصل ہے۔’
بنیادی طور پر نعت گوئی کا محرک عشق رسول ہے اور شاعر کا عشق رسول جس عمق یاپائے کا ہوگا اس کی نعت بھی اتنی ہی پر اثر و پرسوز ہو گی اعلیٰ حضرت ؒ کے عشق رسول نے ان کی شاعری کو جو امتیاز و انفرادیت بخشی اردو شاعری اس کی مثال لانے سے قاصرہے۔ آپ کی نعتیہ شاعر ی کا اعتراف اس سے بڑھ اور کیا ہوگا کے آج آپ دنیا بھر میں ”امام نعت گویاں ”کے لقب سے پہچانے جاتے ہیں۔ امام احمد رضاء کی اس طرز لاجواب کی جھلک آپ کے خلفاء و متعلقین اور خاندان کے شعراء کی شاعری میں نظر آتی ہے۔حضور تاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کو خاندان اور خصوصاً اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سے جہاں اور بے شمار کمالات ورثہ میں ملے وہیں موزونیء طبع، خوش کلامی، شعر گوئی اور شاعرانہ ذوق بھی ورثہ میں ملا ۔آپ کی نعتیہ شاعری سیدنا اعلیٰ حضرتص کے کلام کی گہرائی و گیرائی، استادِ زمن کی رنگینی و روانی، حجۃ الاسلام کی فصاحت وبلاغت، مفتی اعظم کی سادگی و خلوص کا عکس جمیل نظر آتی ہے۔ آپ کی شاعری معنویت، پیکر تراشی، سرشاری و شیفتگی، فصاحت و بلاغت، حلاوت و ملاحت، جذب وکیف اورسوز وگدازکا نادر نمونہ ہے۔ علامہ عبد النعیم عزیزی رقم طراز ہیں:”حضرت علامہ اختر رضا خاں صاحب اختر کے ایک ایک شعر کو پڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتاہے کہ حسن معنی حسن عقیدت میں ضم ہوکر سرمدی نغموں میں ڈھل گیا ہے۔ زبان کی سلاست اور روانی،فصاحت و بلاغت،حسن کلام، طرز ادا کا بانکپن،تشبیہات و استعارات اور صنائع لفظی و معنوی سب کچھ ہے گویا حسن ہی حسن ہے،بہار ہی بہار ہے اور ہر نغمہ وجہ سکون و قرار ہے۔
حضرت علامہ بدر الدین احمد قادری، سیدنا اعلیٰ حضرت کی شاعری سے متعلق تحریرفرماتے ہیں:”آپ عام ارباب سخن کی طرح صبح سے شام تک اشعار کی تیاری میں مصروف نہیں رہتے تھے بلکہ جب پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تڑپاتی اور دردِ عشق آپ کو بے تاب کرتا تو از خود زبان پر نعتیہ اشعار جاری ہوجاتے اور یہی اشعار آپ کی سوزش عشق کی تسکین کا سامان بن جاتے۔” یہی حال حضور تا ج الشریعہ کا ہے، جب یاد مصطفی ادل کو بے چین کردیتی ہے توبے قراری کے اظہار کی صورت نعت ہوتی۔آپ نے اپنی شاعری میں جہاں شرعی حدود کا لحاظ رکھا ہے وہیں فنی و عروضی نزاکتوں کی محافظت میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ ہونے دیا اور ادب کو خوب برتا، استعمال کیا، سجایا،نبھایاتاکہ جب یہ کلام تنقید نگاروں کی چمکتی میز پر قدم رنجہ ہو توانہیں یہ سوچنے پر مجبور کردے کہ فکر کی یہ جولانی،خیال کی یہ بلند پرواز،تعبیر کی یہ ندرت،عشق کی یہ حلاوت واقعی ایک کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر کی عظیم صلاحیتوں کی مظہر ہے۔فن شاعری،زبان و بیان اورادب سے واقفیت رکھنے والاہی یہ اندازہ کرسکتاہے کہ حضرت اختر بریلوی ؒ کے کلام میں کن کن نکات کی جلوہ سامانیاں ہیں، کیسے کیسے حقائق پوشیدہ ہیں، کلمات کی کتنی رعنائیاں پنہاں ہیں اور خیالات میں کیسی وسعت ہے؟
آپ کا کلام اگرچہ تعداد میں زیادہ نہیں ہے لیکن آپ کے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر، شرعی قوانین کی پاسداری کی شاندار مثال ہے،آپ کے اسلاف کی عظیم وراثتوں کابہترین نمونہ اور اردو شاعری خصوصاً صنف نعت میں گرانقدر اضافہ بھی ہے۔آپ کو نئے لب ولہجہ اور فی البدیہہ اشعار کہنے میں زبردست ملکہ حاصل ہے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے جسے خلیفہ مفتی اعظم ہند حضرت مولانا قاری امانت رسول قادری رضوی صاحب مرتب ”سامانِ بخشش” (نعتیہ دیوان سرکار مفتء اعظم ہند) نے مفتیء اعظم ہند کی مشہور نعت شریف۔تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ۔تو ماہ نبوت ہے اے جلوہ جانانہ۔حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا اور علمائے عرب:سیدنااعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کو جو عزت و تکریم اور القاب وخطابات علمائے عرب نے دیئے ہیں شاید ہی کسی دوسرے عجمی عالم دین کو ملے ہوں۔ بعینہ پرتو اعلیٰ حضرت،حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کاجو اعزاز و اکرام علمائے عرب نے کیا شاید ہی فی زمانہ کسی کو نصیب ہوا ہو۔ اس کے چند نمونے” علم حدیث” کے عنوان کے تحت گزرے ہیں بعض یہاں ملاحظہ فرمائیں۔
حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے دورہء مصر کے موقع پرکعبۃ العلم والعلماء جامعۃ الاہر قاہر ہ مصر میں آپ کے اعزاز میں عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی۔ جس میں جامعہ کے جید اساتذہ اور دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے طلباء نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کی انفرادیت یہ تھی کہ برصغیر کے کسی عالم دین کے اعزاز میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی کانفرنس تھی۔اسی دورہ مصر کے موقع پر جامعۃ الازہر کی جانب سے آپ کو جامعہ کا اعلیٰ ترین اعزاز ”شکر و تقدیر(فخر ازہر ایوارڈ)” بھی دیا گیا۔جید علمائے مصر خصوصاً شیخ یسریٰ رشدی (مدرس بخاری شریف،جامعۃ الازہر) نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت بھی کی اور اجازت حدیث و سلاسل بھی طلب کیں۔حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے رسائل اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اہتدیتماورأن أباسیدنا ابراہیم ں تارح لاآزرکے مطالعہ کے بعد جامعۃ الازہر، قاہرہ مصر کے شیخ الجامعہ علامہ سید محمد طنطاوی نے اپنے سابقہ موقف سے رجوع کیا اور حضورتاج الشریعہ دام ظلہ، علینا کے موقف کو قبول فرمایا۔قبل ازیں آپ کا موقف اس کے برعکس تھا آپ مذکورہ حدیث کو موضوع خیال کرتے اور”آزر” جو ابراہیم ؑ کا چچا اور مشرک تھا کو آپکا والد قرار دیتے تھے۔شام کے دوروں کے موقع پر مفتء دمشق شیخ عبدالفتاح البزم،اعلم علمائے شام شیخ عبدالرزاق حلبی،قاضی القضاۃ حمص (شام)اور حمص کی جامع مسجد ”جامع سیدنا خالد بن ولید”کے امام و خطیب شیخ سعید الکحیل،مشہور شامی بزرگ عالم دین شیخ ہشام الدین البرہانی،جلیل القدر عالم دین شیخ عبدالہادی الخرسہ،خطیب دمشق شیخ السید عبد العزیز الخطیب الحسنی،رکن مجلس الشعب (قومی اسمبلی) و مدیر شعبہ تخصص جامعہ ابو النوردکتور عبدالسلام راجع، مشہور شامی عالم و محقق شیخ عبدالہادی الشنار، مشہور حنفی عالم اور محشی کتب کثیرہ شیخ عبدالجلیل عطاء ودیگر کئی علماء نے سلاسل طریقت و سند حدیث طلب کی اور کئی ایک آپ سے بیعت بھی ہوئے۔ راقم نے مختلف ویب سائٹس کی مدد سے جو مواد حضور مفتی اختر رضا خان ؒ صاحب کے حوالے سے دستیاب ہوا ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ورنہ راقم کی کیا حیثیت ہے۔اللہ پاک مفتی اختر رضا خان ؒ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے (آمین)