عمران خان وزارت عظمیٰ کے لئے باضابطہ امیدوار نامزد

18

اسلام آباد: (فلک نیوز) پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کر دیا۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کی بطور وزیراعظم نامزدگی کی تحریک پیش کی۔ عمران خان نے وزیراعظم نامزد کرنے پر پارلیمانی پارٹی کا شکریہ ادا کیا۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا جس تبدیلی کیلئے 22 سال جدوجہدکی وہ آچکی ہے، عوام نے جس منشور پر ووٹ دیا اسے آگے لے کر چلنا ہے، اب ملک میں واضح تبدیلی نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، ملک میں میرٹ کے نظام کو اپنائیں گے، خیبرپختونخوا کی طرح پورے ملک میں اصلاحات لائیں گے، قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرنے ہیں، ملک کو مالی بحران سے نکالنا ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہا کہ 1970 میں عوام نے مستحکم سیاسی اشرافیہ کو شکست دی، 70 کی دہائی کے بعد آج عوام نے دو جماعتی نظام کو شکست دی، ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ دو جماعتی نظام میں تیسری جماعت کو موقع ملے۔ انہوں نے کہا کارکردگی کے پہلے 6 ماہ انتہائی اہم ہیں، عوام تبدیلی کے لیے نکلے اور اپنا فیصلہ سنایا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا پورے ملک میں جہاں امیدوار کا چہرہ تبدیلی سے نہیں ملتا تھا وہاں عوام نے مسترد کر دیا، مجھ پر آج سب سے بڑی ذمے داری آن پڑی ہے، جدوجہد سے بھرپور زندگی اتار چڑھاؤ سے عبارت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا عوام نے آپ کو پارلیمان میں بھیجا ہے تا کہ آپ نچلے طبقے کو اوپر اٹھائیں، عوام چاہتے ہیں کہ پارلیمان ان کیلئے قانون سازی کرے، میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا، میں آپ سے اسکا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں۔

عمران خان نے کہا عوام ہمیں روایتی سیاسی جماعتوں سے الگ دیکھتے ہیں، میں خود مثال بنوں گا اور آپ سب کو بھی مثال بننے کی تلقین کروں گا، ہماری یہ جدوجہد پاکستان کا مستقبل بدل دے گی۔ انہوں نے کہا وزرا کو بھی صحیح معنوں میں جوابدہ بنائیں گے، آپ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں اللہ آپ کو وہ عزت دیگا جس کا تصور بھی ممکن نہیں، آپ نے قوم کا پیسہ بچانا ہے تا کہ عوام کی فلاح پر خرچ کیا جاسکے۔

ادھر مرکز میں حکومت سازی کیلئے عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جاری ہے، جس میں شاہ محمود قریشی، اسد عمر، پرویز خٹک، چودھری سرور، شفقت محمود سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔ اجلاس میں حکومت سازی سے متعلق نو منتخب ایم این ایز کو اعتماد میں لیا جائے گا، تحریک انصاف نے 174 ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔

اجلاس میں سپیکر، ڈپٹی سپیکر کے امیدواروں کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ پنجاب اور کے پی کے میں حکومت سازی کے امور سمیت بلوچستان میں شراکت اقتدار کے معاملات بھی بحث کی جائے گی۔

ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے دعویٰ کیا کہ آزاد ارکان کی شمولیت کے بعد تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 125 ہوگئی ہے جب کہ وزیراعظم کے لیے اتحادیوں، خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ تحریک انصاف کا نمبر 174 تک جا پہنچا ہے جو اپوزیشن سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کی حمایت کے بعد نمبر گیم 177 تک پہنچ جائے گا۔