کیا آپ جانتے ہیں زمین کی گہرائی میں کیا ہے؟

27

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہماری زمین جس پر ہم رہتے ہیں، اپنے رہنے کے لیے گھر بناتے ہیں، اپنے اندر کیا رکھتی ہے؟اگر زمین کو کھودا جائے تو ہم کتنی گہرائی میں جاسکتے ہیں؟ اور اس گہرائی میں ہمیں کیا ملے گا؟آئیں آج ان تمام سوالات کے جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔زمین کی اب تک کی معلوم گہرائی روس کے جزیرہ نما حصہ (پینسولا) کولا میں موجود ہے جہاں ایک 7.5 میل گہرا گڑھا موجود ہے جسے کولا بورہول کہا جاتا ہے۔یہ گڑھا سمندر کی اب تک کی معلوم گہرائی سے بھی زیادہ گہرا ہے۔زمین کی گہرائی کو جانچنے کے لیے اس گڑھے کی کھدائی سنہ 1970 میں سوویت یونین کے دور میں شروع کی گئی۔اس کھدائی سے اب تک 3 اہم دریافتیں کی جاچکی ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں وہ دریافتیں کیا ہیں۔ ایک پوری تہہ غائب ہوگئی زمین کے اندر موجود پتھریلی تہہ میں بسالٹ نامی تہہ موجود نہیں۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ زمین کی تہہ میں بلند درجہ حرارت کے باعث سخت مادے مائع حالت میں موجود ہیں اور انہی میں سے ایک تہہ بسالٹ کی ہے۔تاہم اس کھدائی میں ماہرین کو بسالٹ نہیں ملا۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس تہہ کا کوئی وجود نہیں، ممکن ہے یہ تہہ مزید گہرائی میں واقع ہو جہاں ابھی تک انسان نہ پہنچ سکا ہو۔ گہرائی میں پانی پانی عموماً زمین کے اندر اوپر ہی ہوتا ہے اور تھوڑی سی کھدائی کے بعد نکل آتا ہے جس کا ثبوت جا بجا کھدے کنویں اور دیہی علاقوں میں نصب ہینڈ پمپس ہیں جو زمین سے پانی نکال کر زمین کے اوپر آباد افراد کی ضروریات پورا کرتے ہیں۔تاہم سائنس دانوں نے اس گہرائی سے بہت دور 4.3 میل نیچے بھی پانی دریافت کیا۔ اس قدر گہرائی میں پانی کی موجودگی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی۔سب سے حیرت انگیز دریافت کھدائی کے اس عمل کے دوران سب سے حیرت انگیز دریافت زمین کے اندر اتھاہ گہرائی میں خوردبینی رکازیات (فاسلز) کی شکل میں زندگی کی موجودگی تھی۔یہ فاسلز جن پتھروں میں دریافت کیے گئے ان پتھروں کی عمر 2 ارب سال تھی۔ ان فاسلز میں خورد بینی جانداروں کی 35 انواع دریافت کی گئیں۔ کھدائی کیوں روکی گئی؟ انسانی عقل کو دنگ کردینے والے انکشافات پر مبنی اس کھدائی کو سنہ 1994 میں کئی وجوہات کے باعث روک دیا گیا۔پہلی وجہ تو زمین کی تہہ کا ناقابل برداشت درجہ حرارت تھا جو 180 سینٹی گریڈ پر تھا۔اس کے علاوہ جیسے جیسے کھدائی ہوتی گئی، ویسے ویسے زمین کے اندر پتھروں کی کثافت یا مضبوطی میں اضافہ ہوتا گیا۔ کھدائی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ مزید گہرائی میں ڈرلنگ کرنا کسی پلاسٹک سے ڈرل کرنے جیسا ہوگیا تھا۔ایک اور وجہ عوام میں عجیب و غریب خیالات کا پھیل جانا بھی تھا۔کھدائی کے دوران جب پانی کی موجودگی سامنے آئی تو لوگوں نے اسے حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں آنے والے عظیم سیلاب سے جوڑنا شروع کردیا جس کے بعد زمین پر دوبارہ زندگی کا آغاز ہوا تھا۔لوگوں کا ماننا تھا کہ اس عظیم سیلاب کے بعد جب پانی اترا تو وہ زیر زمین گڑھوں اور نالوں میں پھیل گیا اور اب اس قدر گہرائی میں پانی کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ یہ طوفان اور عظیم سیلاب کوئی دیو مالائی داستان نہیں بلکہ حقیقت تھی۔کھدائی کے اس عمل کے دوران ماہرین کے دلوں میں بھی ایک مفروضہ بیٹھ گیا جو کافی انوکھا اور کسی حد تک خوفزدہ کردینے والا تھا۔ماہرین کے مطابق جہاں تک وہ کھدائی کرچکے تھے، اس حد سے آگے مزید کھدائی کرنا جہنم کی طرف جانکلنے کے مترادف تھا، جو ان کے خیال میں زمین کی گہرائی میں موجود تھی۔ان ماہرین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب وہ کھدائی کرتے ہوئے زمین کی گہرائی کی طرف بڑھ رہے تھے تو انہیں بعض اوقات نامانوس سی چیخیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ان کے مطابق یہ چیخیں تکلیف میں مبتلا ان روحوں کی تھیں جو جہنم میں جل رہی تھیں۔اور آخر میں آپ کو سب سے زیادہ خوفناک بات سے آگاہ کرتے چلیں، یہ کھدائی جہاں پر ختم ہوئی وہ مقام زمین کے مرکز تک کا صرف 0.002 حصہ ہے۔یعنی زمین کی لامتناہی گہرائی ابھی مزید کئی عظیم دریافتوں کی منتظر ہے، کیا معلوم انسان اس قابل ہے بھی یا نہیں کہ اسے دریافت کرسکے۔