چودہ اگست ایک عہد سازدن

8

تحریر۔۔جنید علی گوندل
وطن عزیز پاکستان اپنی زندگی کے 71 سال مکمل کر چکا ہے، 14اگست 1947 کے روز مسلمان برصغیر قائد اعظم محمدعلی جناح کی زیر قیادت آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے نوے سال کی طویل جدوجہد کے بعد اور خالصتاً آئینی و جمہوری ذرائع سے بیک وقت دو بالادست اقوام انگریز سامراج اور ہندو سے نجات پا کر اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی مملکت اسلامی جمہوریہ رب جلیل سے اس عہد کے ساتھ حاصل کی تھی کہ یہ مملکت مسلم امہ کے لیے نظریاتی تجربہ گاہ ہو گی اور اسلامیان برصغیر کے سیاسی ، معاشی، سماجی اور تہذیبی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہو گی جہاں مسلمان اپنی ثقافتی تہذیبی اور دینی اقدار کے مطابق آزادانہ زندگی گزاریں گے اور معاشرہ اسلامی کو وجو د میں لا کر دنیا کو پھر سے اسلام کے اس آفاقی پیغام سے روشناس کرایاجائے گا ۔جس نے عرب کے صحرنشینوں کو جہاں آرا بنادیا ، مفکر پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران بارہا اس عزم کا اظہارکیا کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہو گی جہاں اسلامی نظریہ حیات کے اصول اپنائے جائیں گے یوں آج کا روز سعید اپنے اجتماعی محاسبے کے ساتھ اس عہد کی تجدید کا دن ہے جو قوم نے رب کعبہ سے اس مملکت کے حصول کے وقت کیا تھا۔
چودہ اگست 1947 یوم آزادی پاکستان کے پس منظر میں جدوجہد قربانیوں اور استقامت کی کہانیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو دنوں ہفتوں ،مہینوں اور سالوں پر نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ہے۔ 14اگست1947 کے سنگ میل پر جدوجہد ختم ہونے کا یہ طویل باب اپنے دامن میں بے شمار روح فرسا داستانین لیے ہوئے ہے اس طویل جدوجہد کا تاریخی پس منظر ہے جس سے تاریخ سے آگاہی رکھنے والا ہر مورخ اچھی طرح آگاہ ہے اکثر سوال کیا جا تا ہے کہ اسلامیان برصغیر نے الگ وطن کا مطالبہ کیوں؟ اس مطالبہ کا پس منظرجاننے کے لیے ہمیں اپنے ماضی کی گزشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ میں جانا ہو گا جب محمدبن قاسم ایک فاتح کی حیثیت سے برصغیر میں وارد ہو اتو پھر اس کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک مسلمانوں نے حکمرانی اور روداری ،روشن خیالی اور فراخدلی کی لازوال داستانیں رقم کیں جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی مگر جونہی مسلمانوں کے عہد اقتدار کا سورج سازشوں کے سبب غروب ہوا اور اقتدار انگریز سامراج نے سنبھالا تو انہوں نے حقائق کو جھٹلانے کی اس لیے سعی کی کہ محرومی اقتدار کے باوجود مسلمانوں میں زندگی کے آثار تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ جب عہد رفتہ سطوت سر اٹھانا شروع کیا اور جدوجہد کے نئے باب کا آغاز ہوا تو فرنگی انگریز حکمرانوں نے پریشان ہو کر ہندوؤں کو ساتھ ملالیا اور عددی اکثریت کا جمہوری تصور پیش کیا تاکہ اس طرح مسلمان کو اقلیت کو مجبور و محکوم رکھاجائے اگرچہ جمہوری فلسفہ ایسے ملک کے لیے مفید تھا جہاں ایک ہی عقیدے کے لیے لوگ بلحاظ قوم آبادہوں مگر جہاں مختلف اقوام آبادہوں وہاں یہ فلسفہ اکثریت کو اقلیت پر حکمرانی کا موقع فراہم کر تا ہے مسلمانوں کی انگریز سامراج سے دشمنی طفری تھی کیونکہ انہوں نے اس سے اقتدار چھینا تھا یہی وجہ ہے کہ مسلمان انگریز وں کا اقتدار ختم کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے ہندوؤں سے بھی اتحاد کرنا چاہا مگر ہندو انگریز کے بعد اکثریت کے بل بوتے پر حکرانی کا خواب دیکھنے لگا ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے غلام رہنے والے ہندوؤں نے موقع کو غنیمت جانا اور سازشوں میں مصروف ہو گئے ان کے قلب ونظر کا فسادسامنے آگیا مگر انگریز سامراج اور ہندو کی باہمی ریشہ دوانیاں سیاسی مکر و فریب معاشی تعلیمی اور سیاسی ابتری مسلمانوں کو چاروں شانوں چت نہ کرسکی بلکہ مسلمان مشکلات کے باوجود فرنگی حکرانوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے، ان ھالات مین سرسید احمدخان آگے بڑھے جنہوں نے حالات کے تقاضوں کے تحت ایک پالیسی بنائی اور اس حکمت عملی کے نتیجے میں مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آشنا کرکے سیاسی و معاشی طور پر بہتر بنایا اور آئینی و جمہوری حقوق کا راستہ دکھایا جب سے مسلمان قومی زندگی میں آگے بڑھناشورع ہوئے اور جدوجہد آزادی آگے بڑھی تو تحریک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اس سلسلے کی ایک کڑی تھی تاہم مسلمان اس کے باجود کوشان رہے کہ اپنی جداگانہ حیثیت کے باوجو د ہر قوم کے ساتھ جدوجہد کریں مگر اس کے باوجو د اردوزبان کو نشانہ بنای گیا سنسکرت ہندی کے نفاذ کے بے جا مطالبہ ہو ا پھر تقسیم بنگالی جس سے مسلمانوں کو کچھ فائدے کی امید تھی پر ہندو کے ردعمل نے اس کے مقاص واضح کردئیے یہ وہ حالات تھے جن میں مسلمانوں نے بددل ہو کر محدود سطح پر سرگرمیاں شروع کیں البتہ سیاسی مسائل پر بھی ہند و سے تعاون جاری رکھا مگر ہندو یہ بھی برداشت نہ کر سکا کہ مسلمان قومی سطح پر کوئی تنظیمی کام کریں، سرسید احمدخان کی تحریک علی گڑھ کے نتیجے میں مسلم لیگ معرض وجود میں آئی مگر یہ کوشش رہی کہ اپنے جداگانہ ملی وجود کے باوجود اجتماعی جدوجہد آزادی جو نقصان نہ پہنچے لگ کا سالانہ اجلاس پھر اس جگہ رکھاجا تا جہاں کانگریس کا اجلاس ہو تا تا کہ دونوں اقوام مل کر سیاسی مسائل کے لیے جدوجہد کریں اور ان میں ہم آہنگی ہو تا کہ فرنگی ہم میں افتراق پیدا کرکے ہماری منزل دور نہ کردے اس کے بنیادی وجہ مسلمانوں کی سامراج دشمنہ تھی وگر نہ تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ اکثریت نے اقلیت کو مطمین کیا ہے مگر یہاں معاملہ الٹ تھا 1916 کا لیگ کانگریس معاہدہ لکھنو اس کی واضح مثال ہے جہاں تک عملی جدوجہد کا تعلق ہے بمبئی میں لارڈ لگڈن کے خلاف مظاہرہ جس کی قیادت قائد اعظم محمدعلی جناح نے کی تھی ایک کھلاثبوت ہے یہاں تک انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا گیا اس واقعہ کی یادگار کے طور پر جو بمبئی میں ہال تعمیر کیا گیا وہ آج بھی موجود ہے یہ سب کچھ ایک اقلیتی قوم کی طرف سے تھا جس کا جواب اکثریتی قوم نے یون دیا کہ شدھی انسگھٹن کی تحریکیں شروع کرکے مسلمانوں کو مرتدبنانے کی کوششیں کی گئیں صرف اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کی ایک متاع عظیم تاجدار مدینہ ، ساقئ کوثر ﷺ کے خلاف دلآزار لٹریچر شائع کیا گیا مگر مسلمانوں کے رہنما نے اپنے مقصد عظیم کے لیے انہیں انفرادی کوششیں قرار دے کر نظرانداز کیا آئینی طو ر پر نہور رپورٹ کے ذریعے مسلمانوں کی جداگانہ حیثیت ختم کرنے کی سعی لاحاصل کی یہی وہ دور ہے جب علامہ اقبال جیسے حقیقت شناس نے دسمبر 29میں بمقام الہ آباد لیگ کے سالانہ اجلاس میں برصغیر کے سیاسی مسئلے کا واحد حل کشمیر پنجاب سرحد سندھ اور بلوچستان پر مشتمل الگر مملکت کا قیام قرار دیا اگر چہ ان سے قبل عبدالحلیم شرر، محمدعلی جوہر، خیری برادران اور عبالغفار بلگرامی نے بھی ہندو ستان کی تقسیم کو ہی مسئلہ کا حل قرار دیا تھا مگر مسلمان قوم نے اس وقت علامہ اقبال کی آواز پر کان نہ دھرا اور کوشاں رہی کہ کسی طرح مشترکہ جدوجہد کے لیے دونوں اقوام میں سمجھوتہ ہوجائے مگر 35ء ایکٹ کے تحت جب صوبوں میں عام انتخابات کے بعد سات صوبوں میں کانگریس کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو اقتدار ملنے کے بعدپہلا کام ورھیانند اسکیم نافذ کرکے ہندو ہندی اور ہندوستان کے منصوبے پر کام شروع کیا اور پنڈت نہر و نے رابطہ عوام کے نام پر مسلمانوں کو کانگریس میں شامل کرنے کی مہ۰م شروع کی اور اقتدار کے نشے میں اعلان کیا کہ ہندوستان میں صرف دو ہی طاقتیں ہیں ایک انگریز حکومت اور دوسری کانگریس جس پر ہر دو اقوام کے سفیر محمدعلی جناح نے مشترکہ جدوجہد سے مایوس ہو کر اعلان کیا کہ دو نہیں تین طاقتیں تیسری مسلمانوں کی ہے، ہندو نے اس حقیقت سے اعتراض کیا بلکہ مسلمانوں کو کانگریس میں جذب کرنے کی سعی تیز کر دی کانگریسی اقتدار کو کچھ ہی عرصہ گزرا کہ کانگریس وزارتون کے مظالم کی پیر پور کمیٹی کے نام پر رپورٹ سامنے آگئی اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف آزادی کے لیے مل کر جدوجہد کا عزم رواداری شرافت جبکہ دوسری طرف بندے ماترم کا ترانہ ، ورھانہ تعلیم اسکیم اور ہندی کا نفاذ جیسے عزائم تھے ، ان حالات میں قائد اعظم محمدعلی جناح نے مسلم لیگ کی تنظیم کرنے کابیرہ اٹھالیا سب سے پہلے لیگ لکھنو سیشن 37ء سے اسے عوامی تنظیم بنایا جس کے نتیجہ میں میں مسلم عوام میں بیداری کی لہر دوڑ گئی اس دوران کانگریس مظالم کی پیر پور کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی جس پر کانگریس وزارتیں ختم کر دی گئیں تو لیگ کا جواب منظم جماعت بن چکی تھی نے پورے برصغیر میں یوم نجات منایا لیگ کی تنظیم مکمل ہونے اور مسلم عوام کے متحد ومتفق نے کے صرف ڈھائی سال بعد 23مارچ40ء کو لیگ کے سالانہ اجلاس منعقد ہ لاہور میں ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کا واحد حل ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کے لیے الگ مملکت قرار دیا گیا تاریخ پر نظرکھرنے والا ہر شخص اس بات سے آگاہ ہے کہ مسلمانوں کے اس فیصلے کے پس منظر میں ہندو کا تعصب و تنگ نظری کا دخل ہے، ہندو نے اس قرار داد کی منظوری پر بھی سنجیدگی اختیار نہیں کی بلکہ قرارداد کا مذاق اڑایا بعض نے اسے گاؤ ماتا کی تقسیم قرار دیا 46ء میں شملہ کانفرنس میں کانگریسی ردعمل نے عام انتخابات کی راہ ہموری کر دی تو لیگ نے اسے ریفرنڈم سمجھ کر چیلنج قبول کرلیا اور قیام پاکستان نے نعرہ کے ساتھ میدان میں آگئی، چنانچہ ان ھالات میں اسلامیان برصغیر نے لیگ کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر قیم پاکستان کی تائید کر دی کانگریس سامنراج نے مسلمانوں کے اس فیصلے کو رکوانے کے لیے 16مئی کی اسکیم پیش کی پھر کرپس مشن سامنے آیا تاکہ مسلمانوں کے مسائل و مطالبات کو تسلم کرکے تقسیم ہندوستان کو روکا جاسکے ہندو کو دس سال کا عرصہ بھی دیا گیا تاکہ مسلمانوں کو مطمین کرسکیں لیگ نے اس اسکیم کو اس لیے قبول کرلیا کہ کہ اس سے پاکستان کے قیامکا امکان موجودہے، اگر ہندو قیادت تنگ نظر نہ ہوتی اور مدبرانہ مزاج رکھتی تو اس اسکیم کو قبول کرلیتی مگر حقائق سے فرارحاصل کرنے والے ہندو کو ہند ی ہند و اور ہندوستان کے سوا کسی اسکیم سے دلچسپی نہ تھی ،نہرو نے تقسیم ہند کو اس لیے قبول کیا کہ اس سے اس مملکت اسلامی کا قائم رہنا ناممکن ہے، مگر دنیا نے دیکھا کہ مسلمان قوم نے 23مارچ کو جس منزل کا انتخابکیا وہ انتخاب کیا وہ اتھاد تنظیم اور ایمان کی منزل نے نقشہ ہی بدل دیا مگر ہندو نے تقسیم ہند فارمولا تقسیم کرکے قیام پاکستان کے وقت جس طرح پنجاب میں خون کی ہولی کھیلی اور تبادلہ آبادی کے نام پر جس طرح قتل کیا اس سے بغض اور تعصب کا انازہ ہوجاتا ہے تقسیم کے فیصلے بع دہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حقیقتوں کو تسلیم کرکے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے اور خوشگوار تعلقات کا اصول اپنایاجاتا ، مگر کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا گیا اور ہر طریقہ اختیار کیا گیا جس سے پاکستان کو مسائل و مشکلات پیش آئیں اور اسے کتم کرنے کے لیے سعی کی مسلم اقلیت پر مظالم ان کے مزہبی مقامات پر جارحیت کی جاتی ہے پاکستان کو عسکری قوت سے دولخت کرکے برہمن زادی اندراگاندھی کہتی ہے کہ اس سے دو قومی نظریہ غلط ثابت ہو گیا گویا پاکستان کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے اگر چہ مسلم بنگال سے دو قومی نظریہ کی سچائی کا اظہار ہوتا ہے مگر ہندو تو آج بھی حقائق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوتا کشمیر میں جس طرح تحریک ھریت کو تشدد سے دبانے کی کوشش ہو رہی ہے اس سے ہندو کا تعصب بولتا ہے ، یوں 14اگست کا روز سعید ہم سے تقاضا کر تا ہے کہ ہم مملکت اسلامی پاکستان کے قیام کے وقت رب جلیل سے کیا ہوا وعدہ پوراکرنے کا عہد کریں اور اسلامی معاشرہ قائم کریں، یہبات پیش نظر رہے کہ جس رو ز پاکستان معرض وجود میں آیا ہو نزول قران کی مبارک ساعتوں 27رمضان المبارک کی شب حجۃ الوداع کا دن تھا یوں یہ عطیہ خداوندی ہے یہ محض اتفاق نہیں ہر مسلمان آج کے دن عہد کرکے زندگی کے جس شعبہ سے تعلق رکھتا ہے وہاں تعمیر و استحکام کے لیے وقف ہو، اور قائد کے اصلوں اتحاد تنظیم اور یقین محکم ہو کرمشعل راہ بنا کر ملک و ملت کا نام روشن کرکے رب جلیل سے کیا ہوا وعدہ پوراکرے، یوم آزادی کے روزسعید کا یہی پیغام ہے۔