اوسلو- درامن مسجد کے مرکزی ہال کی تعمیر اور آخری مرحلے کی سنگ بنیاد رکھ دی گئی۔

15

اوسلو(عامر بٹ)مسلم کمیونٹی دنیا بھر میں جہاں بھی آباد ہے سب سے پہلے وہ مساجد کی تعمیر کو اہمیت دیتے ہیں تاکہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے دین کو عام کیا جا سکے۔ اوسلو کے مضافاتی علاقے درامن میں بھی مسلمان کمیونٹی اور بالخصوص پاکستانی کمیونٹی 70 کی دہائی میں مقیم ہونا شروع ہوئی ، کمیونٹی کے مقیم ہونے کے ساتھ ہی پاکستانی مسلمانوں نے مسجد کی جگہ کے حصول اور اسکی تعمیر کے لیے تگ و دو کرنا شروع کر دی۔ آخر کار30سال کی جہدو جہد کے بعد بلاآخر مسلمانوں کومسجد کو تعمیر کرنے کی اجازت ملی۔ تعمیر کے پہلے مرحلے میں 12 ملین کراؤن خرچ کیے جا چکے ہیں ، جبکہ دوسرے مرحلے پر تقریباََ 9 ملین کراؤنزکے اخراجات آئیں گے۔ دوسرا مرحلہ اگست سے شروع ہو کر جنوری میں ختم ہو گا۔ دوسرے مرحلے کی افتتاحی تقریب میں اوسلو اور گردنواح سے بڑی تعداد میں علمائے کرام اور اہل اسلام نے شرکت کی اور اس کار خیر میں شامل ہونے کی اپیل بھی کی۔ اس خوبصورت تقریب کا انعقاد قاری محمد اسلم نے تلاوت قرآ ن پاک سے کیا۔ جبکہ محمد جاوید نے بارگاہ رسالت ﷺ میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ تقریب سے سید فراست علی شاہ بخاری نے مسجد کی فضیلت اور اسکی اہمت کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ درامن مسجد کے صدر امجد چوہدری اور دیگر مرکزی رہنماؤں راشد مختار اور محمد یونس نے مسجد کی تعمیراور اس پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں۔ علامہ نصیر احمد نوری نے بزم نقشبند اوسلو کی طرف سے درامن مسجد کی تعمیر کے لیے 25 ہزار کراؤن کا ہدیہ پیش کیا۔جماعت اہلسنت ناروے کے امام و خطیب سید نعمت علی شاہ بخاری نے خصوصی دعا کرائی۔ اس موقع پر درامن سٹی کے ڈپٹی میئر یوسف گیلانی، امجد چودھری اور طاہر شہزاد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درامن مسجد کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور امید کی کہ یہ مرکز اتحاد امت اور مقامی کمیونٹی کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گا