یوم آزادی اور قائد کے عقائد

11

تحریر۔۔۔ ڈاکٹربی اے خرم
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پسی ہوئی عوام اپنا 71واں یوم آزادی شایان شان طریقہ سے منا رہی ہے مکانوں ،گلیوں،محلوں اور بازاروں سمیت سرکاری عمارات اور دفاترز کو قومی پرچموں اوررنگ برنگے برقی قمقموں سے سجا دیا گیا ہے بچے ،نوجوان اور بوڑھے سبھی اس بات پہ نازاں ہیں 71برس قبل انہیں ایک الگ مملکت مل گئی 14اگست1947ء کوتقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کو ایک الگ تشخص کے ساتھ پاکستان کے نام سے نیا ملک دنیا کے نقشہ پہ ابھرا،یوں پاکستانی قوم ہر سال یوم آزادی کو بڑے اہتمام کے ساتھ مناتی ہے سال کے باقی تین سو یونسٹھ دنوں میں اب تک حکمرانی کرنے والے سیاست دانوں نے قوم کو’’روزی روٹی‘‘ کے چکروں میں الجھا کے رکھ دیا ہے اشرافیہ نے ہمیشہ سے سرمایہ دارانہ نظام کا نہ صرف پرچار کیا بلکہ اس کے تحفظ کے لئے بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ’’اشرافیہ‘‘ نے اپنے اقتدار اوردولت اکھٹی کرنے کیلئے آپس کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیشہ قوم کو بیوقوف بنائے رکھا ’’سرے محل‘‘ سے لیکر ’’لندن فلیٹس‘‘ تک سیاست دانوں نے عوام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا یہ سب پاکستانی قوم بخوبی جانتی ہے کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے
’’ مسلمانو! میں نے بہت کچھ دیکھا ہے دولت،شہرت اور آرام و راحت کے بہت لطف اٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں ۔میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کے میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا حق ادا کر دیا میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدا فعت اسلام کا حق ادا کر دیا اور میرا خدا یہ کہے کہ جناح بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے مسلمان جئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مرے‘‘۔یہ وہ تاریخی الفاظ ہیں جو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے قیامِ پاکستان سے پہلے22 اکتوبر 1939ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہے آج جب کہ ہم 71واں یوم آزادی منانے جا رہے ہیں کیا ہم نے کبھی صدق دل اورخندہ پیشانی سے کبھی اس بات پہ غور کیا ہے کہ جس مقصد کے لئے بانی پاکستان نے ایک علیحدہ اسلامی مملکت حاصل کی اس اسلامی مملکت میں اسلام کے سنہری اور لازوال اصولوں سمیت فرمودات قائد پہ عمل کیا ۔۔؟ایک علیحدہ اسلامی مملکت کے حصول کے بعد کیا ہم ایک آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی کے شب و روز بسر کر رہے ہیں ۔۔؟کیا قائد کی اس اسلامی مملکت میں ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہیں ۔۔؟اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سر زمین پہ پچھلے 71 برسوں میں جو حکمران آئے کیا انہوں نے اپنی عوام کے فلاح و بہبود کے لئے کام کیا۔۔؟اگر ہم ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں اور غور کریں تو یقیناًاس کا جواب نفی میں ہوگا اس مملکت پہ کسی حکمران نے ’’عوام ‘‘کے نام پہ عوام پہ حق حکمرانی کو ترجیح دی کسی نے ’’اسلام‘‘ کے نام پہ اپنے اقتدار کو طول دیا کسی حکمران نے’’قرض اتارو،ملک سنوارو‘‘ کے نام پہ دھوکہ دیا کسی نے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘کی بات سنا کر اقتدار پہ شب خون مارتے ہوئے دس سال حکمرانی کی،روٹی کپڑا اور مکان جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے دلفریب وعدے تو عوام سے کئے جاتے رہے لیکن سوال اپنی جگہ بدستور موجود ہے کیا کسی حکمران نے روٹی کپڑا اور مکان فراہم کیا ۔۔؟یہ چیزیں عوام کی دہلیز پہ پہنچانے کی بجائے غریب کے منہ سے نوالہ،بدن سے کپڑا اور سر سے چھت تک چھین لی گئی
کیا ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے بانی پاکستان کے ان الفاظ پہ غور کیا جو انہوں نے 26مارچ 1948ء میں چٹاکانگ میں کہے تھے قائد نے فرمایا تھا’’ اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا (مقصدحیات) اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا‘‘ یہ تاریخی الفاظ بس تاریخ کا حصہ ہیں اور حصہ رہیں گے اسلام کے بنیادی اصولوں پہ عمل پیرا ہونے کی حکمرانوں نے کبھی کوشش کی نہ ہی ان حکمرانوں کا ’’قائد کے عقائد‘‘پر عمل پرا ہونے کا ارادہ ہے سیاست دانوں میں اقتدار کی ہوس نے ہمارے ملک کو دو لخت کر دیا مشرقی پاکستان ہم سے الگ کر دیا تحریک پاکستان میں حصہ ڈالنے والے اب بھی جب سقوط ڈھاکہ کا سوچتے ہیں تو ان کے دل خون کے آنسو روتے ہیں بچے کھچے پاکستان کی بھی ’’آتما رول‘‘ دی گئی ہے کرکٹ کے ایک شہسوار نے قائد کے پاک وطن میں بسنے والے سیاست دانوں کی کھنچاتانی اور اقتدار کی ہوس اور کرپشن کو دیکھتے ہوئے سیاست کے خاردار میدان میں قدم رکھا بائیس سالوں پہ محیط محنت اور لگن نے رنگ دکھایا تو ’’نیا پاکستان‘‘اور ’’تبدیلی‘‘کانعرہ مستانہ بلند کیا ملک عزیز کے گیارہویں عام انتخابات میں پاکستانی عوام نے پرانے پاکستان کے پرانے سیاست دانوں کے بیانے کو رد کرتے ہوئے نئے پاکستان کے لئے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکمرانی کا حق دیا پاکستان کی عوام 71 برسوں سے پرانے سیاست دانوں کے ہاتھوں لٹتی اور دھوکہ کھاتی رہی اب اگر ’’تبدیلی‘‘ کے لئے عوام نے ساتھ دیا تو خدارا پہلے سیاست دانوں کی طرح عوام کے اعتماد کو دھوکہ دینے کاسوچنا بھی نہیں ورنہ کرکٹ کے شہسوار کا حشر بھی پہلے حکمرانوں سے مختلف نہیں ہوگا عوام کو جینے کے لئے روٹی،بدن ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور سر چھپانے کے لئے چھت کی ضرورت ہے اگر یہی بنیادی سہولتیں عوام کی دہلیز پہ فراہم کر دی گئیں تویقیناعوام تبدیلی اور نئے پاکستان میں خوشی محسوس کریں گے۔