اٹک- ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کااعلان عالمی دہشتگردی اور شرمناک فعل ہے، رفاقت حقانی

24

اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی بھی عالمی سطح پر ناموس رسالت کا قانون منظور کرائے،رفاقت حقانی
گستاخانہ حرکات کے سد باب کے لئے پاکستان اپنا موثر کردار ادا کرے اور اپنے سفیر کو احتجاجاً واپس بلا لے،جے یوپی
نوجوان نسل کو ایسے لنکس کے ساتھ اپنا رابطہ منقطع کردینا چاہیے جو گستاخانہ کلچر کو فروغ دے رہے ہیں،رفاقت حقانی

اٹک(فلک نیوز )ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے سدباب کے لئے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل الشاہ محمد اویس نورانی کی کال پرجے یو پی نے ملک بھر میں بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے اور ناموس رسالت ریلیاں نکالیں، جمعیت علماء پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری وممبر مرکزی مجلس شوریٰ استاذ العلماء ابوطیب رفاقت علی حقانی کی ہدایت پر ضلع اٹک سمیت پورے راولپنڈی ڈویژن کی جے یو پی کی تنظیمات نے بھرپور احتجاجی مظاہرے کئے اورناموس رسالت ریلیاں نکالیں جبکہ ضلع اٹک، چکوال، جہلم اور راولپنڈی سمیت ڈویژن بھر کے علماء کرام اور خطباء حضرات نے ہالینڈ کے ان گستاخانہ اقدامات کے خلاف قراردادیں منظور کرائیں،اور پاکستان کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے اور گستاخانہ خاکوں کے سدباب کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ، استاذ العلماء ابوطیب رفاقت علی حقانی نے کہاکہ مقام مصطفی ﷺکا تحفظ تمام مسلمانوں پر لازم اور ضروری ہے،نامو س رسالت ﷺ کا تحفظ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے اس کے تحفظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کااعلان عالمی دہشتگردی اور شرمناک فعل ہے، جس سے پونے دو ارب مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ،اسلامی ممالک کی عالمی تنظیم او آئی سی بھی عالمی سطح پر ناموس رسالت کا قانون منظور کرائے، گستاخانہ حرکات کے سد باب کے لئے پاکستان اپنا موثر کردار ادا کرے اور اپنے سفیر کو احتجاجاً واپس بلا لے،اور اقوام متحدہ میں اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائے، سرکار ﷺ مومنوں کواپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں، مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر آقائے نامدار ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے ،مزید ان کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ نبی کریم ﷺ کا ادب واحترام اور تعظیم وتکریم بجالائیں اور گستاخانہ کلچر کے انسداد اور خاتمے میں اپنے حصے کا کردار اداکریں اورنوجوان نسل کو ایسے لنکس کے ساتھ اپنا رابطہ منقطع کردینا چاہیے جو گستاخانہ کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔