عیدِ قربان کے فضا ئل و مسا ئل

20

ارشادباری تعالیٰ ہے ۔فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ(ترجمہ) توتم اپنے رب کے لئے نمازپڑھواورقربانی کرو۔ سورۃ الکوثر
“عیدالا ضحی ” نویدومسرت کادن ہے جسے تین دن تک منانے کاحکم دیاگیاہے۔دراصل ذوالحجہ کا مہینہ نہایت ہی عظمت اورمرتبے والامہینہ ہے۔ اس مہینہ کاچاندنظرآتے ہی ہردل میں اس عظیم الشان قربانی کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسکی مثال تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصرہے ۔یہ مہینہ اس جلیل القدرپیغمبرکی یادگارہے جن کی زندگی قربانی کی عدیم المثال تصویرتھی یہ پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل علیہ السّلام ہیں۔سال کے بعد10ذی الحجہ عیدالاضحی کے موقع پرمسلمانانِ عالم اپنے خالق ومالک کے ساتھ اظہارومحبت کرتے ہوئے اس کے نام پرجانورقربان کرتے ہیں اورسنت ابراہیمی کی یادتازہ کرتے ہیں ۔درحقیقت اس قربانی کااصل مقصدیہ ہے کہ مسلمان اللہ پاک کی راہ میں اپنی عزیزترین متاع کی قربانی سے بھی دریغ نہ کریں اورہرامتحان میں ثابت قدم رہیں۔آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی حیات طیبہ اپنے جدامجدحضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اورحضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی طرح آزمائشوں اورامتحانوں میں ثابت قدمی سے عبارت ہے ۔امت مسلّمہ کے فردہونے کے ناطے ہمارایہ اوّلین فرض ہے کہ ہم میں سے ہرایک دین اسلام کی بلندی اورعروج کے لئے جان ودل سے کام کرے۔ حضرت سیدناابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی حیات مقدسہ میں حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی قربانی کاواقعہ ایک ایساواقعہ ہے جس کی وجہ سے انہیں بارگاہ خداوندی سے شرف امامت بھی عطاکیاگیا۔باپ بیٹے نے تسلیم جاں کایہ اظہارصرف زبانی کلامی نہیں کیا،بلکہ عملاًحکمِ الٰہی کی بجاآوری کے لئے بیٹے کی قربانی کی غرض سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں چھری بھی لے لی تھی۔لیکن حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہ السلام کی زندگی محفوظ رہی کیونکہ ان کی نسل پاک سے جن کی خاطریہ بزم کونین سجائی گئی نبی آخرالزّماں حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی ولادت باسعادت ہونی تھی ۔اللہ رب العزت نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح کوذبح عظیم کافدیہ قراردے دیا۔
قربانی کی اہمیت :جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے بعض عبادات کو مخصوص اوقات میں فرض کیا ہے اسی طرح قربانی بھی ایک اہم عبادت اورشعائر اسلام میں سے ہے ۔قربانی کے لئے شریعت کی طرف سے خاص دن مقرر ہیں ۔قربانی کے بیشمار فضائل آ پ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے بیان فرمائے ہیں جن کا احاطہ تو ممکن نہیں البتہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کے موقع پر فضائل ومسائل قربانی کے حوالے سے چنداحادیث مبارکہ درج کی جارہی ہیں ۔ حضرت زیدبن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے “رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم!کے اصحاب نے آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم یہ قربانیاں کیاہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاتمہارے باپ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت ہے ۔صحابہ کرام علہیم الرضوان نے پوچھایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلمہمارے لئے ان میں کیااجرہے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاہربال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔صحابہ کرام علیہم الرضوان نے کہایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم اگرمینڈھاہوتو؟آپصلی اللہ علیہ والہٖ وسلمنے فرمایاتب بھی ہربال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی(سنن ابن ماجہ ) ام المومنین سیدہ حضرت عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایا قربانی کے دن انسان کاکوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک (مشروط)جانورکے خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے وہ ذبح شدہ جانورقیامت کے دن بالوں اورکھروں کے ساتھ آئے گابے شک قربانی کے جانورکاخون زمین پرگرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دربارمیں مقامِ قبولیت پرپہنچ جاتاہے پس قربانیوں کے بسبب دلی طورپرخوش ہوجاؤ۔(سنن ترمذی،ابن ماجہ )حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا”جوشخص قربانی کاارادہ رکھتاہو اوروہ ذی الحجہ کاچانددیکھ لے تودس تاریخ تک بال وغیرہ کوہاتھ نہ لگائے (سنن ابن ماجہ)حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایاجوشخص تم میں سے ذی الحجہ کاچانددیکھے اوروہ قربانی کرناچاہتاہوتوذی الحجہ کی ۱۰تاریخ تک اپنے بال اورناخن نہ کاٹے ۔(سنن ابن ماجہ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایاکہ کوئی دن ایسانہیں کہ نیک عمل اس میں ان ایام عشرہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوصحابہ کرام علہیم الرضوان نے عرض کیایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم جہادفی سبیل اللہ بھی نہیںآپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاجہادفی سبیل اللہ بھی نہیں ۔مگروہ مردجواپنی جان اورمال لے کرنکلااوران میں سے کسی چیزکے ساتھ واپس نہ آیا۔(مشکوٰۃ)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاکہ کوئی دن زیادہ محبوب نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف کہ ان میں عبادت کی جائے ذی الحج کے ان دس دنوں سے ان دنوں میں ایک دن کاروزہ سال کے روزوں کے برابرہے اوراسکی ایک رات کاقیام سال کی راتوں کے قیام کے برابرہے۔(غنیہ الطالبین۔مشکوٰۃ المصابیح)جوشخص ان دس ایام کی عزت کرتاہے اللہ تعالیٰ یہ دس چیزیں اسکومرحمت فرماکراسکی عزت افزائی کرتاہے۔۱۔عمرمیں برکت ۲۔مال میں برکت۳۔اہل عیال کی حفاظت۴۔گناہوں کاکفارہ ۵۔نیکیوں میں اضافہ ۶۔موت کے وقت آسانی۷۔اندھیرے میں روشنی۸میزان میں سنگینی یعنی وزنی بنانا۹۔دوزخ کے طبقات سے نجات۱۰۔جنت کے درجات پرعروج۔
قربانی کاثواب
امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ جوشخص قربانی کاجانورخریدنے کے لئے گھرسے نکلتاہے تواسے ہرقدم کے بدلے دس نیکیاں عطاکی جاتی ہیں اوراسکے دس گناہ مٹادایے جاتے ہیں اوراسکے دس درجے بلندکردیے جاتے ہیں۔جب وہ جانورکے مالک سے گفتگوکرتاہے اسکے نامہ اعمال میں تسبیح لکھی جاتی ہے اورجب وہ جانورخریدکراسکے مالک کوقیمت اداکرتاہے تواسے ہرایک درہم کے بدلے سات سونیکیاں دی جاتی ہیں اور جب اس جانورکوزمین پرذبح کرنے کے لئے لٹاتاہے تواس کے لئے زمینوں اورآسمانوں کی مخلوق استغفارکرتی ہے اور ذبح کے وقت اس جانورکاخون بہتاہے تواللہ تعالیٰ اسکے خون کے ہرقطرے کے بدلے دس فرشتے پیداکرتاہے جوقیامت تک اسکی بخشش کے لئے دعائیں مانگتے رہیں گے۔جب اس جانورکاگوشت تقسیم کرتاہے تواسے ہرلقمہ کے بدلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولادسے ایک غلام آزادکرنے کاثواب ملتاہے۔ام المومنین سیدہ عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آقاصلی اللہ علیہ والہٖ وسلمنے فرمایا یوم النحر( ۱۰ ذی الحج) کے دن بارگاہ الٰہی میں ابن آدم کے عمل میں سب سے پسندیدہ سخاوت قربانی کرناہے بے شک قیامت کے دن قربانی کاجانوربمعہ سینگوں بالوں اورکھروں کے آئے گا۔قربانی کے جانورکاخون زمین پرگرنے سے پہلے وہ جانوراللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوجاتاہے ۔فَطیبُوْابِھْانَفْسََا(پس خوشی سے قربانی کرو)۔مشکوٰۃ شریف
حضوراکرم نورمجسم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ارشادفرمایاکہ حضرت داؤدعلیہ السلام نے اللہ پاک کی بارگاہ میں سوال کیاکہ اے اللہ جوآدمی حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی امت سے قربانی کرے اس کاثواب کیاہے ۔جواب ملاکہ اس کاثواب یہ ہے کہ ہرایک بال کے عوض میں دس نیکیاں ملتی ہیں دس گناہ معاف ہوتے ہیں اوراس کے دس درجات بلندکردیے جاتے ہیں ۔حضرت داؤدعلیہ السلام نے عرض کیاکہ جب پیٹ پھاڑتے ہیں تواس وقت کس قدرثواب ملتاہے جواب ملاکہ جب وہ بندہ اپنی قبرسے اٹھتاہے تواس کاحشرایسی حالت میں ہوتاہے کہ اس کوبھو ک اورپیاس نہیں ہوتی اس سے بے پرواہ ہوتاہے اورقیامت کاخوف اس کے نزدیک نہیں چھوتااورفرمایااے داؤدعلیہ السلام!جوشخص قربانی کرتاہے اس کوقربانی کے ہرایک ٹکڑے کے بدلے جنت میں ایک جانورعطاکیاجاتاہے جواونٹ کے برابرہوتاہے اورقربانی کے گوشت کے ایک ٹکڑے کے بدلے میں جنت کے گھوڑوں میں سے اس کوایک گھوڑامرحمت ہوتاہے اوراس کے بدن پرجتنے بال ہوتے ہیں اتنے ہی جنت میں اس کومحل ملتے ہیں اوراس کے ہربال کے برابراس کی خدمت کے واسطے ایک حورعطاکی جاتی ہے ۔اے داؤدعلیہ السلام!تم کویہ معلوم نہیں ہے کہ قربانیاں قربانی کرنے والے لوگو ں کی سواریاں ہیں یہ گناہوں اور بلاؤں کودورکردیتی ہیں اس واسطے تُولوگوں کوقربانی کے واسطے حکم دے پس یہ قربانی مومنوں کاایساہی صدقہ ہے جیساکہ اسحق ذبیحہ صدقہ تھا۔(غنیۃ الطالبین) حضرت عبداللہ ا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاجوشخص خالص نیت سے راہ خدامیں جانورقربان کرتا ہے تواللہ تعالیٰ اسکواس طرح اجردیتاہے جسکاعلم باری تعالیٰ کے سواکسی کونہیں البتہ قربانی کاادنیٰ ترین ثواب تویہ ہے کہ قربانی کے جانورکے خون کاقطرہ زمین پرگرنے کے بدلے پہلے قطرے کاثواب یہ ہے قربانی کرنے والے کوستردرجے دئیے جاتے ہیں دوسرے قطرے کے بدلے سترنیکیاں پاتاہے اور تیسرے قطرے پراسکے سترگناہ مٹادیئے جاتے ہیں چوتھے قطرے کے بدلے ثواب یہ ہے کہ قربانی کے وقت جوتکبیراللہ اکبرپڑھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک خوشبوئے مشک سے زیادہ خوشبودارہوتی ہے پانچویں قطرے پراسکے جسم اورزبان کے گناہوں سے یوں پاک کردیاجاتاہے جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے پیداہواہوچھٹے قطرے پراس کے لئے بہشت میں اس کے لئے ایک شہرتیارکیاجاتاہے ساتویں قطرے پرروزمحشر سرداری کے لئے چناجاتا ہے یہ سرداری مخلوقات کی سرداری ہوگی آٹھویں قطرے پراسکواسکے والدین اوراہل خانہ کوبخش دیاجاتاہے نویں قطرے پراسکے اوردوزخ کے درمیان پانچ سوبرس کی مسافت کے برابرایک خندق حائل کردی جاتی ہے دسویں قطرے کے بدلے اسکانامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا گیارہویں قطرے پراسکی نمازیں اورنیک دعائیں قبول ہونگی بارھویں قطرے پراسکے لئے آتش دوزخ سے رہائی لکھ دی جاتی ہے تیرھویں قطرے پراسکوسترہزار حوریں دی جائیں گی چودھویں قطرے پراسکے نامہ اعمال میں ستررسولوں کاثواب لکھ دیاجاتاہے پندرہویں قطرے پر مرض الموت میں عزرائیل علیہ السلام اسکو رحمت وبخشش کی نوید مسرت سناتے ہیں سولہویں قطرہ پراسکی موت کی سختی کم ہوجائے گی سترہویں قطرے پراسکو طوق وزنجیرسے آزادکیاجائے گا، اٹھارہویں قطرے پرستر غلام آزادکرنے کاثواب ملے گاانیسویں قطرے پراسکوروزِمحشرایک براق دیاجائے گاجس پروہ سوارہوکرپُل صراط سے بجلی کی طرح گزرکرجنت میں داخل ہوگابیسویں قطرے پرروزمحشرحساب وکتاب میں اس پررحمت الٰہی کا نزول ہوگااکیسویں قطرے پراسکے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں بائیسویں قطرے پراللہ تعالیٰ اسکوروزمحشراپنے عرش کے سایہ میں جگہ دے گا جس روزعرش الٰہی کے سواکوئی سایہ نہ ہوگا۔ہرقطرے پریہ ثواب بڑھتاچلاجاتا ہے جسکاشماراللہ رب العزت کے سواکسی کومعلوم نہیں پھرجب ذبح سے فارغ ہوجاتاہے تواللہ پاک اسکی نگاہوں کے سامنے ایک جگمگاتاہوانورپیش کرتا ہے جب بھنے ہوئے گوشت کی بوٹی کھاتاہے تواللہ پاک اسکی قبرکوروشن فرماتاہے۔اسکی قبرکواتنافراخ کرتاہے جس قدرکہ ستربرس کی راہ ہوتی ہے جب محتاجوں کوگوشت دینے کے لئے لے جاتاہے تواسکوپہلاقدم اٹھانے پرسفرحج کاثواب ملتاہے دوسرے قدم پراسکی عمراوررزق میں برکت ہوتی ہے تیسرے قدم پراسکے نامہ اعمال میں کوہ ابوقیس کے برابرثواب لکھ دیاجاتاہے چوتھے قدم پراسکی آنکھوں میں حضرت عثمان ذوالنورینؓ کی مانندحیاپیدا ہوتی ہے پانچویں قدم پراسکاقلب نرم ہوتاہے چھٹے قدم پراللہ تعالیٰ اسکوفرزندصالح عطافرمائیں گے جوقیامت میں اسکاشفیع ہوگاساتویں قدم پراسکی قبر آسمان کی چوڑائی کے برابرفراخ کردی جائیگی۔اوراسطرح ہرقدم پرثواب بڑھتاچلاجاتاہے اوراس قدربڑھے گاکہ جسکاعلم سوائے اللہ رب العزت کے کسی کوبھی نہیں ۔پھرجب اپنے بال بچوں کے ساتھ بیٹھ کرقربانی کاگوشت کھاتاہے توپہلے لقمہ پراسکوسترنبیوں کاثواب ملتاہے۔دوسرے لقمہ پر سترحج کاثواب تیسرے لقمہ پرسترنمازیوں کاثواب اورچوتھے لقمہ پرراہِ خدامیں سترگھوڑے صدقہ کرنے کاثواب ملتاہے پانچویں لقمہ پراللہ تعالیٰ اسکوایمان کامل نصیب فرمائیں گے چھٹے لقمہ پراسکی قبرمیں ایک کھڑکی کھل جائے گی جوقیامت تک روشنی کاباعث ہوگی اسی طرح ہرلقمہ پرثواب بڑھتاچلاجاتاہے جوشخص قربانی کے گوشت میں سے کسی کوکھلائے گاتوسترشہیدوں کاثواب پائے گا، اورموت کے وقت فرشتہ اسکوبشارت سنائے گاکہ اے شخص اللہ تعالیٰ نے تجھے عذاب سے بالکل آزادکردیاہے.(تذکرۃ الواعظین)
ما لد ا رکے لئے و عید
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے فرمایاجوقربانی کرنے کی طاقت رکھتاہوپھروہ قربانی نہ کرے تووہ ہمارے مصلی کے پاس نہ آئے۔محمدابن سیرین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھاکیاقربانی واجب ہے انہوں نے فرمایارسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے قربانی کی اور آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے صحابہ نے بھی کی اوریہ سنت جاری ہے۔(سنن ابن ماجہ)
مسا ئل قر با نی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے رات میں قربانی کرنے سے منع فرمایا۔(طبرانی)حضرت عبیدبن فیروزسے روایت ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھامجھے بتائیے کہ کون سی قربانی ناپسندیدہ ہے اورکس قربانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے منع فرمایاہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیااورفرمایاچارقسم کے جانورقربانی کے لئے درست نہیں اوّل کاناجس کاکاناپن صاف ظاہرہو دوم جوبیمارظاہرہو،سوم جس کالنگڑاپن ظاہرہو،چہارم جواتناکمزورہوکہ اس کی ہڈیوں پرگوشت نظرنہ آئے عبیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے کہامجھے تووہ بھی برامعلوم ہوتاہے جس کے کان میں نقص ہوحضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاتم جسے براسمجھتے ہوتونہ خریدولیکن دوسروں کونہ منع کرو۔ امیرالمومنین حضرت علی المرتضی شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے کان کٹے ہوئے اورسینگ ٹوٹے ہوئے جانورکی قربانی سے منع فرمایاہے ۔ (سنن ابن ماجہ)*قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے جو مسلمان ،عاقل ،بالغ ،مقیم ہو اور اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے چاندی یاساڑھے سات تولہ سونایاان میں سے کسی ایک کی قیمت کے برابرسامان تجارت یاکسی سامان یاروپوں کامالک ہواوریہ مملوکہ چیزیں حاجت اصلیہ سے زائدہوں*قربانی واجب ہونے کے لئے مذکورہ نصاب پرسال کا گزرنا ضروری نہیں قربانی کے تین دنوں میں جس کے پاس مذکورہ نصاب ہو اس پر قربانی واجب ہے *گھر میں جتنے افراد صاحب نصاب ہوں سب پر الگ الگ قربانی کرنا واجب ہے البتہ نابالغ اورمجنوں (پاگل )پر قربانی واجب نہیں اگرچہ وہ صاحب نصاب ہی ہوں *غریب شخص جس پر قربانی واجب نہ تھی اگر اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا تو اس جانور کی قربانی واجب ہے *گائے ،بیل ،بھینس اوربھینسے کی عمر کم از کم دوسال ہونا ضروری ہے اونٹ اوراونٹنی کی عمر کم ازکم پانچ سال ہونا ضروری ہے اورباقی جانوروں کی عمر کم ازکم ایک سال ہونا ضروری ہے ۔البتہ بھیڑ،یا دنبہ اگر سال سے کم ہو لیکن اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کے جانوروں میں چھوڑدیا جائے تو فرق محسوس نہ ہویعنی دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتو اس کی قربانی بھی جائز ہے بشرطیکہ چھ ماہ سے کم کا نہ ہو اگر جانور فروخت کرنے والاپوری عمر بتاتا ہے اورظاہر ی حالات اس کے بیان کی تکذیب نہیں کرتے تو اس پر اعتماد کرنا جائزہے۔ *قربانی کاجانورموٹاتازہ اوربے عیب ہوناچاہیے اگرتھوڑا ساعیب ہوتوقربانی مکروہ ہوگی زیادہ عیب والے جانورپرقربانی نہ ہوگی*قربانی کے گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ صدقہ ایک حصہ احباب میں تقسیم کرے اورایک حصہ اپنے لئے رکھ لے*جس کے دانت نہ ہوں یاجس کے تھن کٹے ہوں یاخشک ہوں اس کی قربانی ناجائزہے بکری میں ایک تھن کاخشک ہوناناجائزہونے کے لئے کافی ہے اورگائے اوربھینس میں دوتھن خشک ہوں توناجائزہے جس کی ناک کٹی ہویاعلاج کے ذریعہ اس کادودھ خشک کردیاہواورخنثیٰ جانوریعنی جس میں نرومادہ دنوں کی علامتیں ہوں اورجوصرف غلیظ کھاتاہوان سب کی قربانی ناجائزہے ۔بھیڑیادنبہ کی اون کاٹ لی گئی ہواس کی قربانی جائزہے اورجس جانورکاایک پاؤں کاٹ لیاگیاہو اس کی قربانی ناجائزہے ۔
قربانی کی کھا لیں
حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے مجھے قربانی کی ہرچیزبانٹنے کاحکم دیاچاہے گوشت ہویاکھال یاجھول سب غریبوں میں بانٹ دی جائے۔(سنن ابن ماجہ)قربانی کی کھال کو اپنے استعمال میں لانا مثلاً مصلیٰ بنانا ،چمڑے کی کوئی چیز بنالینا جائز ہے اگر کھال کو فروخت کردیا جائے تو اس کی قیمت استعمال میں لانا جائز نہیں ہے بلکہ فقراء ومساکین پر اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے۔ قربانی کی کھال کسی خدمت کے معاوضے میں دینا جائز نہیں ۔امام مسجداگرغریب ہے توبطوراعانت اسے بھی کھال دے سکتے ہیں۔ قربانی کی کھالوں کے بہترین مصارف مدارس اسلامیہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے والے مستحق طلباء طالبات ہیں ۔مدارس اسلامیہ کوقربانی کی کھال دینے میں صدقہ کا ثواب بھی ہے اوراحیائے علم دین میں تعاون بھی تواس لئے میں آپ سے اپیل کرتاہوں کہ قربانی کی کھالیں مذہب حق اہلسنت والجماعت کے تمام مدار س میں جمع کرائیں ۔تاکہ تعلیم ،صحت،اورفلاح عام کے اجتماعی عظیم منصوبہ جات پایہ تکمیل کوپہنچ سکیں۔
عید الاضحی:عید الاضحی کے دن صبح سویر ے اٹھنا ،غسل ومسواک ،نئے یا دھلے ہوئے کپڑے پہننا ،خوشبولگانا، صبح کی نمازاپنے محلہ کی مسجدمیں اداکرنا،عیدکی نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا،عیدگاہ کی طرف پیدل چل کرایک راستے سے جانااوردوسرے راستے سے واپس آنا،نماز عید پڑھنے کے لئے جاتے ہوئے تکبیر تشریق بلند آواز سے پڑھنا مسنون ہے ۔عیدکی نمازکے لئے خطبہ سنت ہے خطبہ نمازکے بعدہوگا،عیدکی نمازکسی بڑے میدان میں اداکرناسنت ہے لیکن بڑے شہریااس جگہ جہاں زیادہ آبادی ہوایک سے زائدمقامات پرعیدین کے اجتماع بھی درست ہیں اورمیدان کی بھی شرط نہیں بڑی مساجدمیں بھی یہ اجتماع صحیح ہیں جیساکہ آج کل ہورہاہے اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگرکسی ایک جگہ اجتماع ہوگاتوبہت سے لوگ نمازعیدسے محروم رہ جائیں گے کچھ توحقیقی مشکلات کی وجہ سے اورکچھ اپنی سستی کے باعث۔اللہ پاک سے دعاگوہوں کہ اللہ رب العزت ہماری تمام جانی و مالی عبادات کواپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے صدقے اپنی بارگاہ میں قبول فرماکرہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے ۔ملک پاکستان کوامن وسلامتی کاگہوارہ بنائے۔آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی بروزقیامت شفاعت نصیب فرمائے ۔ مسلمانوں کوآپس میں اتفاق واتحاد نصیب فرمائے ۔اللہ رب العزت عالمِ اسلام اورملک پاکستان کی خیرفرمائے۔مالک کائنات ارض وسماوات آقائے دوجہاں سرورکون ومکاں صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی سچی اورپکی غلامی نصیب فرمائے۔کفارومشرکین،منافقین،حاسدین کامنہ کالافرمائے ۔ حضورصلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے غلاموں کادونوں جہانوں میں بول بالافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین