عمران خان آج وزیراعظم کےعہدے کا حلف اٹھائیں گے

15

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملک کے 22 ویں وزیر اعظم منتخب ہوگئے جب کہ وہ آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ 

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آیا۔ ایوان میں نئے قائد کا انتخاب ڈویژن کے ذریعے کیا۔ عمران خان اور شہباز شریف کے درمیان مقابلے کے دوران ارکان دائیں اور بائیں دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔رائے شماری کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسپیکر نے نتائج کا اعلان کیا جس کے تحت عمران خان قائد ایوان منتخب ہوگئے، عمران خان کو 176 جب کہ شہباز شریف کو  96 ووٹ ملے۔

حلف برداری کی تقریب؛

نومنتخب وزیر اعظم عمران خان آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوگی اور صدر مملکت ممنون حسین ان سے حلف لیں گے۔ تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی دعوت نامے جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ بھارت سے عمران خان کے دوست نوجوت سنگھ سدھو تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر پاکستان آئے ہیں۔

تحریک انصاف کا نمبر گیم؛

رائے شماری میں عمران خان کو تحریک انصاف کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان عوامی پارٹی، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان نیشنل پارٹی، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے ارکان نے ووٹ دیا۔

ایوان میں مسلم لیگ (ن) کی عددی قوت؛

مسلم لیگ (ن) کے امیدوار شہباز شریف کو ان کی جماعت کے علاوہ متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان کی بھی حمایت حاصل تھی۔

پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی لاتعلق؛

پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے قائد ایوان کے انتخاب میں کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔

 ایوان میں ہنگامہ آرائی؛

عمران خان کے قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) نے نعرے بازی شروع کردی، مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کے حق میں اور عمران خان کے خلاف نعرے لگائے۔

’’ کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا ‘‘

دوسری جانب نومنتخب وزیراعظم عمران خان نے ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے اللہ کا شکرادا کرتا ہوں جس نے مجھے موقع دیا، اور اپنی قوم کا بھی شکر گزار ہوں جب کہ پاکستان کی قوم 70 سال سے تبدیلی کا انتظارکررہی تھی اور میں اپنی قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو تبدیلی ہم لے کر آئیں گے اس کے لیے یہ قوم ترس رہی تھی، سب سے پہلے ملک اور قوم کو لوٹنے والوں کے خلاف کڑا احتساب کروں گا، کسی ڈاکو کو این آر او نہیں ملے گا۔

’’ دھرنے کیلیے کنٹینر اور کھانا ہم بھیجیں گے ‘‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ آج ایوان میں شورمچانے والوں نے 2013 میں میری درخواست پر4 حلقے نہیں کھولے اور ہمیں عدالتوں میں جانا پڑا، اگر میری بات مان لی جاتی تو آج ہمارا انتخابی عمل ٹھیک ہوجاتا جب کہ مخالفین جس طرح چاہتے ہیں تفتیش کرالیں، ہم تیار ہیں اور جتنا مرضی ہے شورمچالیں لیکن مجھے آج تک نہ کوئی بلیک میل کرسکا ہے نہ کرسکے گا۔ انہوں نے شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ دھرنا دیں، کنٹینرہم دیں گے، آپ کیلیے لوگ ہم بھیجیں گے اور دھرنے کیلیے کھانا بھی ہم بھیجیں گے۔

اپوزیشن کا دھاندلی کی تحقیقات کیلیے پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ 

قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے بعد خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات ملکی تاریخ کے انتہائی متنازع اور دھاندلی شدہ  تھے، پوری قوم نے ان انتخابات کو مسترد کردیا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پارلیمانی کمیشن بنایا جائے جو دھاندلی کی تحقیقات کرکے 30 دن میں ایوان کے اندر اور عوام کے سامنے رپورٹ پیش کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں سزا دلوائے۔

جمہوریت کی خاطر دھاندلی زدہ ایوان میں آنے کا فیصلہ کیا

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بڑی جماعتوں نے جو تماشا کیا ہے عوام اس تماشے کو پسند نہیں کرتے، اس انتخاب میں عوام کا پیسہ خرچ ہوا ہمیں عوام کو مایوس نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الیکشن دھاندلی زدہ تھے جس میں میڈیا کا بلیک آؤٹ رہا، نتائج تین دن تک سامنے نہ آئے، پری پول رگنگ اور آفٹر پول رگنگ کی گئی، فارم 45 نہ دیا گیا، آر ٹی ایس سسٹم نے کام نہ کیا یہ عمل الیکشن کے نتائج پر سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے تاہم اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے جمہوری عمل کو جاری رکھا اور ایوان میں آنے کا فیصلہ کیا۔