تیرہ برس کی مسلسل محنت کے بعد گندم کا جینیاتی ڈرافٹ مکمل

66

انسانوں کا پیٹ بھرنے والی قدیم ترین اور مشہور ترین جنس گندم  کا مکمل جینوم معلوم کرلیا گیا ہے۔

ممتاز جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس کام میں سائنس دانوں کو 13 برس لگے کیونکہ گندم جیسی غذا کا جینوم خود انسانی جینوم سے 5 گنا زائد بڑا اور پیچیدہ ہے۔ اس کام میں 20 ممالک کے 200 سے زائد سائنس دانوں نے دن رات کام کیا اور اسی بنا پر اسے ایک ’ عظیم پیچیدہ کام‘ کہا جارہا ہے۔

عالمی آبادی کی 20 فیصد غذائی ضروریات گندم سے پوری ہوتی ہیں اورساکنانِ ارض گوشت کے مقابلے میں گندم سے ہی اپنی ضرورت کا زیادہ تر پروٹین حاصل کرتے ہیں۔ اس جینوم کی وجہ سے گندم کی بہتر پیداور، زیادہ غذائیت والی اقسام اور فی ایکڑ زائد فصل جیسے اہم کاموں کا راستہ کھلے گا۔

آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے بھی دنیا کے کئی خطوں میں گندم کی پیداوار متاثر ہورہی ہے۔ گندم کا جینیاتی نقشہ جاننے کے بعد ہم ایسی گندم بھی اگاسکیں گے جو بدلتے ہوئے ماحول اور موسم میں بھی اپنی پیداور اور غذائیت برقرار رکھ سکے گی۔

گندم کی جینیاتی رپورٹ

ماہرین نے جدید ترین آلات اور مروجہ تکنیک سے گندم کا پیچ در پیچ جینوم کا پہلا ڈرافٹ بنالیا ہے جسے جینیاتی رپورٹ بھی کہا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں  کہا گیا ہے کہ گندم کے جینوم میں 21 کروموسومز، 40 لاکھ سالماتی مارکرز اور ایک لاکھ سے زائد جین ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس تحقیق سے اعلیٰ اور بہترین خواص والی گندم تیار کرنے میں بہت مدد ملے گی، مثلاً گندم کی بیماریوں کو دور کرنے یا پھر گندم سے الرجی کی وجہ بننے والے جین کو بھی نکال کر اسے بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔