آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے گلے ملنے پر سدھو کے خلاف غداری کا مقدمہ درج

15

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنے پر نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف بھارت کی مقامی عدالت میں غداری اور ملکی فوج کی توہین کے الزام میں مقدمہ درج کرایا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کےمطابق ریاست بہار میں ایڈوکیٹ سدھیر کمار اوجھا نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ہری پرساد کی عدالت میں سابق بھارتی کرکٹر اور موجودہ وزیر نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف اشتعال انگیزی، غداری اور فوج کی توہین کی الزامات کے تحت مقدمہ درج کرایا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان کے آرمی چیف کو گلے لگایا جب کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوجیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سدھو کے اس عمل سے بھارتی عوام اور شہید ہونے والے فوجیوں کے لواحقین صدمے کی کیفیت میں ہیں۔

مجسٹریٹ ہری پرساد نے درخواست کو منظور کرتے ہوئے سماعت کے لیے 24 اگست کی تاریخ مقرر کردی ہے۔ مقدمہ بھارتی آئین کی دفعات 500، 124- اے اور 153- بی کے تحت درج کیا گیا ہے جس کی سزا دو سے تین سال کی قید ہو سکتی ہے۔

ادھر ہندوانتہا پسند جماعت بجرنگ دل نے نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستانی آرمی چیف کے ساتھ بغلگیر ہونے پر غدار قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی بھی نوجوت سنگھ سدھو کا سرلا کر انہیں دے گا اسے انعام کے طور پر 5 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

دوسری جانب سنگھ سدھو نے  میڈیا سے گفتگو کے دوران اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں  بھی دونوں  ملکوں کی جانب سے امن کی کوششیں کی گئیں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اچانک لاہور کا دورہ کیا تھا،  جب کہ نریندر مودی نے حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کو بھارت کے دورے کی دعوت دی تھی۔

سدھو نے کہا پاکستانی حکومت کی جانب سے مجھے دورے  کی 10 بار دعوت دی گئی، میں نے بھارتی حکومت کوپاکستان کے دورے کی اجازت کی درخواست دی، بعد ازاں سشما سوراج نے  کال کرکے پاکستان کے دورے کی اجازت دینے کی اطلاع دی۔

واضح رہے کہ بھارتی کرکٹر سدھو نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنے کے لیے پاکستان آئے تھے جہاں اُن کی ملاقات پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر باجوہ سے ہوئی تھی۔