بالا دست طبقہ اور وزیراعظم عمران خان

14

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر سید فہیم کاظمی
تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے وطن عزیز کا بلحاظ عہد بائیسویں اوربلحاظ شخصیت انیسویں وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا ہے کپتان نے وزارت عظمیٰ حاصل کرنے تک طویل جدوجہد کی ہے یہ جدوجہد اس بالا دست اور مورثی حکمران طبقہ کے خلاف کی گئی جو گزشتہ سات دھائیوں سے ملک پر قابض ہے اقتدار ہمیشہ چند مخصوص خاندانوں تک محدود رہا ہے گزشتہ 70برس جو طبقہ مستند اقتدار پر براجمان رہا، ذہنی و فکری طور پر ہر گز اس قابل نہیں تھا کہ جو ملک و ملت کو کچھ دے سکتا۔ یہ سٹیٹس کو کے لوگ تھے، جن کو اقتدار اور پنی مراعات عزیز تھیں ان کی رشتہ داریاں سانجھیاں تھیں اور یہ بالا دست طبقہ مختلف نوعیت کے تعلقات و مفادات کی وجہ سے ایک دوسرے سے جڑا ہوا تھاحقیقت یہ ہے کہ اس طبقہ کے نزدیک ملکی سلامتی، عوامی فلاح و بہبود کی کوئی ترجیح فی الحقیقت سرے سے ہی نہیں تھی یہ طبقہ اقتدار کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کررہا تھا او ریہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ایک ہی نہج پر استوار رہا رشوت ستانی ، حق تلفی، ناجائز منافع خوری، لوٹ کھسوٹ ، بے پناہ کرپشن کا سلسلہ معمولی سی اونچ نیچ کے ساتھ ہمیشہ جاری رہاعدل و انصاف کی پامالی مراعات یافتہ و مقتدر طبقہ کے مزاج کاحصہ بن چکی تھی، جس میں کبھی سر مو کمی پیدا نہیں ہوئی پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا منصب تو سنبھال لیا ہے اور ان کے عزائم بلا شبہ قابل ستائش ہیں اور ایسے عزائم کا اظہار ملک کی تاریخ میں کبھی کسی وزیراعظم نے نہیں کیا ،لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جس بالا دست مقتدرطبقہ کی معاشرہ اور ملک پر گرفت عشروں سے قائم ہے اور جس خونی طبقہ نے بے نوا عوام کا خون چوس چوس کر اپنے آپ کو اس قدر مستحکم اور توانا بنا لیا ہے کہ معاشرے کا نچلا ستایا ہوا مظلوم، بے بس و بے بضاعت طبقہ، اس بالا دست طبقہ کے مقابلہ میں اتنا بے وقعت ہے کہ اس کے خلاف کسی قسم کی آواز اٹھانے کی استعداد و ہمت تک کھو چکا ہے عمران خان نے اس طبقہ کو ، اس طاقت سے ہمکنار کردیا ہے کہ اب معاشرے کا یہ بے نوا طبقہ اس بالا دست خونی طبقہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے ان کو للکار سکتا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس طبقہ کو خدا تعالیٰ نے عمران خان کے ذریعے قوت عطا فرمائی ہے لیکن اس قوت کو قائم رکھنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور بہت سے شعبوں، جہتوں اور محاذوں پر بالا دست و مقتدر طبقہ جو عشروں حکمران رہا ہے، عمران خان اور تحریک انصاف کے راستے میں رکاؤٹیں کھڑی کرے گا اس کی آہنی گرفت کی ہزاروں، لاکھو ں آہنی زنجیروں میں سے ابھی صرف ایک زنجیر ہی ٹوٹی ہے۔
معاشرہ اور ملک کے انتظامی ڈھانچے میں یہ طبقہ گھسا بیٹھا ہے اورہنوز اس طبقہ کی گرفت مضبوط ہے یہ طبقہ جس کو انتخابات میں شکست فاش ہوئی ہے ہرگز حکومت کو بد نام کرنے سے باز نہیں رہے گا اور ایسی معاشرتی فضاء تیار کرے گا جس سے حکومت کی ساکھ مجروح ہو اور عوام کو حکومت سے بدظن کیا جاسکے دوسرا شدید خطرہ وہ مخفی خطرہ ہے جس کا علم بہت کم لوگ رکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہمارا بدخواہ نہیں چاہتا کہ پاکستان میں ایسے حکمران برسراقتدار آئیں جو ملک کی سلامتی، بقا، تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کی حقیقی سوچ و ویژن رکھتے ہوں نیز پاکستان کے یہ بد خواہ نادیدہ دشمن ہماری صفوں میں گھسے مہروں کو حرکت دیتے ہیں اورملک میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں کیونکہ یہی ان کے عزائم ہیں وہ پاکستان کواقوام عالم میں کسی با وقار مقام پرنہیں دیکھنا چاہتے ہمیں ان لوگوں سے ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے ایک اہم خدشہ یہ بھی ہے کہ ملک کابالا دست طبقہ تحریک انصاف کے اندرگھس کر نقب نہ لگائے ہندوستان میں جاگیر داری نظام صدیوں سے رائج رہا ہے اور موجودہ دور میں سرمایہ دار طبقہ ابھر کر جاگیرداروں کے مساوی حیثیت اختیا رکر چکاہے او رعملی طور پر معاشرہ پر ان ہی لوگوں کی ہمیشہ گرفت رہی ہے معاشرہ پریہی لوگ حاوی و اجارہ دار رہے ہیں او ریہ لوگ ہرگز ہرگز نہیں چاہتے کہ ان کی مٹھی میں عوام ابھر کر ان کے سامنے آجائیں ان کا شعور بیدار ہو جائے، ان کو اپنے حقوق سے آگاہی ہو جائے اس طرح ان کی اجارہ داری کو شدید زک پہنچ سکتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وزیراعظم اور ان کی معاون ٹیم نے اس جانب مطلوبہ توجہ نہ دی تو ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کی طرح یہی بالادست لوگ نیک نامی کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے نقب نہ لگادیں اگرایسا ہو گیا تو پھر قوی خدشہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور ان کے معاونین ، کارکنان کی طویل کاوشیں ومحنتیں رائیگاں ہو جائیں گی۔