سابق حکومتوں کے دعوے جھوٹ نکلے؛ ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ افراد ذاتی گھر سے محروم

9

 ملک میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہاؤسنگ یونٹس کی قلت کا سامنا ہے جب کہ حکومتوں کی جانب سے لوگوں کو چھت کی فراہمی کے لیے کم قیمت مکانوں کی فراہمی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود کروڑوں لوگ بے گھر ہیں جس کی بنیادی وجہ رہائشی مکانات اورپلاٹوں کی قیمتوں کا عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہونا ہے۔

سابق وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں گھروں کی قلت کو پورا کرنے کے لیے اپنا گھر اسکیم کے تحت 5لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے لیے سابق وفاقی حکومت کی جانب سے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں اپنا گھر لمیٹڈ نامی کمپنی بھی قائم کی گئی تھی۔

سابق حکومت کی جانب سے اپنا گھر اسکیم منصوبے کے تحت ملک بھر میں کم آمدن افراد کے لیے 3ہزار 971کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی تھی جبکہ سی پیک کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے گوادر میں بھی کم آمدن افراد کے لیے اپنا گھر اسکیم کے تحت رہائش گاہوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے اس اسکیم پر ورکنگ مکمل کرنے کے باوجود گزشتہ پانچ سال کے دوران اس اہم منصوبے پر عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا جس کے باعث مسلم لیگ ن کی جانب سے کم آمدن افراد کو پانچ لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی فراہمی کا وعدہ ادھورا رہ گیا۔

بہرحال وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بھی ملک میں ہاؤسنگ یونٹس کی قلت کو پورا کرنے کے لیے 50لاکھ گھروں کی فراہمی کا اعلان کر دیا گیا ہے جس سے ملک میں گھروں کی قلت پوری ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے رو زگارکے مواقع بھی پیدا ہوں گے لیکن سابق وفاقی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ گھروں کی تعمیر کے وعدے کے باوجود پورے دور حکومت میں ایک بھی شہری کے لیے سستا گھر فراہم نہیں کیا جا سکا جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی حکومت کے لیے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس وقت ملک میں ایک کروڑ 20 لاکھ تک ہاؤسنگ یونٹس کی قلت کا سامنا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے اس پر قابو نہیں پایا گیا تو ہاؤسنگ یونٹس میں قلت 2025تک 2کروڑ تک پہنچ جائے گی۔