وفاقی کابینہ نے صدر، وزیراعظم اور وزراء کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دیدی

15

وفاقی کابینہ نے صدر، وزیراعظم، وزراء اور مشیروں کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دے دی۔ 

فلک نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا دوسرا اجلاس ہوا جس میں حکومت کے ابتدائی 100 دن کے ایکشن پلان پرعملدرآمد کی حکمت عملی اور سرکاری ملازمین کی ہفتے کی چھٹی ختم کرنے سمیت 7 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومتوں نے سرکاری خزانےکو اپنی جاگیر کی طرح استعمال کیا، نوازشریف نے ایک سال میں 51 ارب روپے کے صوابدیدی فنڈزاستعمال کیے، سابق وزیراعظم نے ایم این ایز کو 30 ارب فنڈز جاری کیے، صدرمملکت نے 8 سے 9 کروڑ کے صوابدیدی فنڈزاستعمال کیے لہذا وفاقی کابینہ نے صدرمملکت، وزیراعظم سمیت وزیروں اور مشیروں کے صوابدیدی فنڈز ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے جو ایک تاریخی اقدام ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ نے بیرون ملک دوروں کو محدود کرنے سمیت ملک میں بڑے پیمانے پر صفائی، درخت لگانے اور پنجاب و خیبرپختونخوا میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے خصوصی آڈٹ کی منظوری دی جس میں ملتان، اسلام آباد، راولپنڈی میٹرومنصوبوں کا آڈٹ کرایا جائے گا تاہم میٹروبسزبند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا جب کہ لاہور، پشاوراورکوئٹہ میں اربن ٹری پلانٹیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو جیسے بڑے منصوبوں میں میگا کرپشن ہوئی ہے، میگا کرپشن کا پتا لگانا ضروری ہے اسی لیے تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر میں ہفتے کی چھٹی برقراررہے گی لیکن دفاترمیں کام کے اوقات صبح 9 بجے سے 5 بجے تک ہوں گے جب کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس سمیت جن لوگوں کو بھی فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کی سہولت تھی وہ بھی ختم کردی گئی ہے اور وزیراعظم دوروں میں اپنا خصوصی جہازاستعمال نہیں کریں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی خواہش ہے کہ بادشاہوں کی طرح پیسا خرچ کرنے کا رواج ختم ہونا چاہیے، جب کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد تواتر کے ساتھ کابینہ کے اجلاس ہورہے ہیں اور انہوں نے اگلا اجلاس منگل کو طلب کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عید پرلوڈشیڈنگ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 3 دن چھٹی پر انڈسٹری بھی بند تھی تو لوڈشیڈنگ کیوں ہوئی ۔