پروفیسر سید محمد سلیمان ا شرف بہاریؒ اور دو قومی نظریہ

24

محمد احمد ترازی کی انقلاب آفرین تحقیقی کتاب
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
قارئین اکرام اِس قحط الرجال کے دور میں بھی ایسی ہستیاں موجود ہیں جو کہ اسلاف کی خدمات کو اپنے لیے چراغ راہ گردانتی ہیں اور اُن کے مشن کے فروغ کے لیے تگ وتاز جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جناب محمد احمد ترازی بھی ایسی ہی ہستی کا نام ہے جنہوں آج کے اِس دور میں بھی اسلاف کے کارناموں سے ہمیں روشناس کروانے کی ذمہ داری اپنے سر لے رکھی ہے اور ایک انقلاب آفریں اور تحقیقی کتاب قوم کو دی ہے۔ یقینی طور پر جناب محمد احمد ترازی قوم کا فخر ہیں۔ جناب محمد احمد ترازی کی تحریروں سے استفادہ کرتا رہتا ہوں اور اِن کی جانب سے لکھے گئے کئی اہم ایشوز پر مقالا جات میرئے لیے ہمیشہ ممدومعاون رہے ہیں۔جناب محمد احمد ترازی نے اُنیسویں صدی میں عالم اسلام اور بالخصوص مسلمانان ہند میں قومی و ملی شعور بیدار کرنے والی عظیم ہستی جناب پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاریؒ کی تحریکِ خلافت، ترکِ موالات، ہجرت ،ہندو مسلم اتحاد اور ترکِ گاو کشی کے حوالے سے مسلمانان ہند کی رہنمائی اور گاندھی اور گاندھی کے چیلوں کی منافقانہ سیاست کے پردئے کو چاک کیے جانے کے حوالے سے جناب پروفیسر سید سلیمان اشرف بہاریؒ کے بھرپور کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ اِس حوالے سے جناب محمد احمد ترازی نے ایک مکمل تحقیقی دستاویز تیار کی ہے ۔ اِس کتاب کا ہر باب ایک مکمل دستاویز ہے۔پہلا باب جس کا عنوان کتابِ زندگی ہے اِس میں جناب سید سلیمان اشرف بہاریؒ کی شخصیت کے والے سے بھرپور تحقیق کی گئی ہے جو کہ موجودہ نسل کے سکالرز کے لیے ایک بیش بہا قیمتی علمی تحفہ ہے۔اِسی طرح باب دوئم کاعنوان دو قومی نظریہ آغاز و ارتقاء ہے اس باب میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی سے محدث بریلوی تک کی تگ وتاز کا ذکر ہے۔اِسی طرح تیسرئے باب میں جناب احمد ترازی نے شعور کی بیداری کے نام سے ترتیب دئے جانے والے باب میں سید سلیمان اشرف اور عالم کفر کی طاغوتی یلغار اور جناب سید سلیمان اشرف کا نظریہ دین و سیاست کا تذکرہ کیا ہے۔ باب چہارم جس کا عنوان جدید علوم اور جذبہ آزادی ہے اِس میں جناب سید سلیمان اشرف بہاریؒ کی اُن کاوشوں کا احاطہ کیا ہے جن میں اُنھوں نے ہندوں کے ساتھ کانگرسی ملاؤں کے گٹھ جوڑ کا توڑ کیا۔باب پنجم تحریک ترکِ گاؤ کشی اور تحفظ شعائر اسلامیہ کے عنوان کے تحت ہے جس میں جناب سید سلیمان اشر ف بہاریؒ کی جانب سے ترک گاؤ کشی کے حوالے سے مسلمانوں کے نقطہ نظر کو بھر پور طریقے سے پیش کیا گیا۔باب ششم کا عنوان ہندو مسلم اتحاد ہے اِس حوالے سے جناب سید سلیمان اشرف بہاری ؒ کے اِس کردار جو اُنھوں نے جناب محدث بریلوی کی سرپرستی میں ہندوں کی اِس سازش کا پردہ چاک کرتے ہوئے مسلمانوں کوگاندھی کے نام نہاد ہندو مسلم اتحادد کے بہروپ سے بچایا۔ باب ہفتم کا عنوان ملی تحریکات اور دو قومی نظریہ ہے اِس میں کافی تفصیل کے ساتھ تاریخ کے گوشوں سے آگاہی کروائی گئی ہے جناب محمد احمد ترازی نے کمال تحقیق کی ہے۔ سب سے بڑی بات اُن کی جانب سے ایک ایک جملے کا حوالہ دیا گیا ہے گویا یہ کتاب تاریخ کا ایک انمنٹ باب ثابت ہوگی۔ جو کہ سکالرز کے لیے چراغ راہ کا کام کرئے گی۔مجھے جناب محمد احمد ترازی کی تحقیق پی ایچ ڈی لیول کے مقالے کی مانند محسوس ہوئی ہے۔ اللہ پاک جناب محمد احمد ترازی کے قلم کو ہمیشہ ملک و قوم کی رہنمائی کے لیے قائم دائم رکھے۔۔ کتاب کے مرکز و محور جناب سید سلیمان اشرف بہاری ؒ کی زندگی کا کچھ خلاصہ قارئین کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ پروفیسر علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری جو مصنف محقق اور ماہر تعلیم تھے یہ ا شرف المحققين کے نام سے معروف ہیں۔سید سلیمان اشرف کی ولادت1295ھ/ 1878ء محلہ میر داد، بہار، ضلع نالندہ، بہار میں ہوئی۔آپ کے والد گرامی مولانا حکیم سید عبد اللہ کا تعلق حضرت بی بی صائمہ، خواہر حقیقی مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی المعروف غوث العالم کے خلف و فرزندمخدوم سید درویش، بھیہ شریف، ضلع گیا، بہار سے تعلق تھا۔آپ اپنے استاذ گرامی قاری نور محمد چشتی نظامی فخری اصدقی سے بیعت و ارادت رکھتے تھے۔ سید سلیمان اشرف بہاریؒ کا تعلق خاندان اشرفیہ سے تعلق تھا اور جب سلسلہ اشرفیہ کے عظیم بزرگ سید علی حسین اشرفی میاں جیلانی کچھوچھوی ؒ سے ملاقات ہوئی تو ان سے سلسلہ اشرفیہ میں طالب ہو گئے اور خلافت سلسلہ قادریہ چشتیہ اشرفیہ منوریہ سے نوازے گئے۔ نیز سلسلہ قادریہ برکاتیہ رضویہ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلویؒ سے بھی خلافت و اجازت حاصل ہوئی تھی۔1903ء میں نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی کی کوشش سے مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے شعبہ دینیات میں پروفیسر کی حیثیت سے آپ کی تقرری ہوئی۔ بعد ازاں صدر شعبہ دینیات کے عہدے پر فائز ہوئے۔ آپ علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات کے سب سے پہلے صدر تھے۔علی گڑھ مسلم کالج کے خلاف جب مولانا ابو الکلام آزاد، مولوی محمود الحسن دیوبندی اور مولانا محمد علی جوہر نے زبردست تحریک چلائی تو سید سلیمان اشرف بہاری نے مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی اور ڈاکٹر سر ضیاء الدین کے ساتھ مل کر اس ادارے کی بھر پور حمایت کی اور مکمل دفاع کیا۔
آئیے جناب سید سلیمان اشرف بہاریؒ کے علمی کام پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں (1) المبین عربی زبان کی فوقیت اور برتری پر ایک مایہ ناز علمی و تحقیقی کتاب۔ نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی، شاعر مشرق علامہ اقبال اور مشہور مستشرق پروفیسر براؤن جیسے ماہرین لسانیات نے اس کتاب کی تعریف و توصیف کی ہے۔ کتاب کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر بر صغیر کی عظیم درس گاہ جامعہ اشرفیہ، مبارکپور، کے درجہ فضیلت میں داخل نصاب ہے۔ (2) النور: دو قومی نظریہ پر لاجواب کتاب ہے ۔ (3) الرشاد: گائے کی قربانی کے موضوع پر بے مثال کتاب ہے۔ (4) الانھار: حضرت امیر خسرو کی مثنوی ’’ہشت بہشت‘‘ پر ایک فصیح وبلیغ اور محققانہ و فاضلانہ مقدمہ جو 550 صفحات پر مشتمل ہے۔ نواب حبیب الرحمٰن شیروانی نے اس کتاب کو شبلی کی ’’شعرالعجم‘‘ سے بہتر قرار دیا ہے۔ کتاب کا موضوع فارسی شعر و ادب کی تاریخ ہے۔ (5) السّبیل: مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے نصابِ تعلیمات اسلامیہ کے لیے تجاویز۔ (6) الحج: حج و زیارت کے موضوع پر ایک عمدہ تصنیف، جس کا مقدمہ صدر یار جنگ بہادر مولانا حبیب الرحمٰن شیروانی صدر الصدور امور مذہبی ریاست حیدرآباد، دکن نے لکھا اور کہا کہ: حج و زیارت کے موضوع پر سب سے اچھی کتاب ہے۔ (7) نزہۃ المقال فی لحیۃ الرجال: عدمِ جوازِ حلق لحیہ یعنی داڑھی منڈوانے، ترشوانے اور ایک مشت سے کم رکھنے کی حرمت و ممانعت پر علمی اور تحقیقی رسالہ۔ ایک سو پندرہ (115) سال قبل یہ کتاب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی اور اب اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد، دکن سے مولانا طفیل احمد مصباحی کی تحقیق و تخریج کے ساتھ دوبارہ شائع ہو رہی ہے۔ (8) البلاغ: مسلمانوں کے ملّی انحطاط، بے عملی، بدنظمی اور خلافتِ عثمانیہ کے تاریخی واقعات کے تناظر میں ملت اسلامیہ کے لیے ایک جامع اور پر سوز رہنما تحریر ہے (9) الخطاب: تقریر اور لکچرر کا مجموعہ ہے۔سید سلیمان اشرف کا 5? ربیع الاول 1358ھ/ 25 اپریل 1939بعمر 63 سال انتقال ہوا اورمسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں شیروانیوں کے قبرستان میں آپ کی تدفین ہوئی۔آپ نے۱۲۹۱۔173۰۲۹۱ء میں ’’تحریک ترک موالات‘‘ کی پر زور مخالفت کی اور اسی تناظر میں ’’النور‘‘ جیسی بلند پایہ کتاب کی تصنیف کی۔ 1925 میں آل انڈیا سنی کانفرنس میں شرکت کی۔مارچ ۱۲۹۱ء میں جماعت رضائے مصطفیٰ، بریلی شریف کی جانب سے اہل سنت کے دینی و سیاسی افکار کی وضاحت اور معاندین اہل سنت کے نظریات و معمولات کا بھرے مجمع میں پردہ فاش کیا اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے زور آور خطیب کا ناطقہ بند کر دیا۔ اس کانفرنس کی روداد سناتے ہوئے صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین اشرفی مرادآبادی، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کو اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں۔’’پورا میدان مولانا سلیمان اشرف صاحب کے ہاتھ میں رہا۔‘‘
آپ کے ہم عصر علمائے اہل سنت کے نام یہ ہیں(۱) حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان بریلوی۔(۲) حضرت مولانا معین الدین اجمیری۔(۳) حضرت علامہ دیدار علی شاہ نقشبندی الوری۔(۴) صدر الافاضل علامہ سید نعیم الدین اشرفی مرادآبادی۔(۵) صدر الشریعہ حضرت علامہ امجد علی قادری رضوی اعظمی۔(۶) ملک العلما حضرت علامہ سید ظفر الدین قادری رضوی بہاری۔(۷) حضرت مولانا قاضی عبد الوحید صدیقی فردوسی عظم آبادی۔(۸) قطبِ مدینہ حضرت علامہ ضیاء الدین صدیقی قادری رضوی مہاجر مدنی۔(۹) سلطان الواعظین حضرت مولا عبد الاحد قادری پیلی بھیتی۔(۰۱) استاذ العلما حضرت علامہ مفتی نثار احمد چشتی کان پوری۔(۱۱) عالم ربانی حضرت علامہ سید احمد اشرف اشرفی جیلانی کچھوچھوی۔(۲۱) محدث اعظم ہند حضرت علامہ سید محمد اشرفی جیلانی کچھوچھوی۔(۳۱) صاحب الاقتدار حضرت مولانا عبد المقتدر قادری مجیدی بدایونی۔(۴۱) حضرت علامہ سید عبد الرشید قادری عظیم آبادی۔(۵۱) حضرت علامہ رحیم بخش آوری۔ (۶۱)۔ حضرت علامہ سید عبد الرحمٰن قادری بھاگلپوری ہیں۔غرض یہ کہ جناب محمد احمد ترازی نے تحریک پاکستان کی تحریک میں دو قومی نظریہ کے عظیم داعی جناب سید سلیمان اشرف بہاریؒ پر ایک مکمل دستایز تیار کرکے پاکستان اور اُردو جاننے والوں کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔