لوٹ مار کی اندھیر نگری میں عمران خان روشنی کی کرن

15

تحریر۔۔۔ شیخ توصیف حسین
گزشتہ روز صحافتی فرائض کی ادائیگی میں اس قدر تھکاوٹ سے چور ہوا کہ گھر پہنچتے ہی بغیر کھانا کھائے سو گیا کہ اسی دوران میں نے مسلم لیگ ن کے چند ایک رہنماؤں کو اڈیالہ جیل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جہاں پر پہنچ کر مذکورہ رہنماؤں نے اپنے قائد میاں نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کے دوران کہا کہ آپ گھبرائے نہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں ہم نے آپ کو یہاں سے رہائی دلوانے کیلئے موجودہ حکومت کے ناک میں دم کر رکھا ہے وفاقی ہو یا پھر صوبائی اسمبلی ہم بے جا حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنا شروع کر دیتے ہیں یہی کافی نہیں ہے ہماری باقیات جو اب بھی ضلعی اور بلدیہ کے چیرمین ہیں عوام کو طرح طرح کی اذیت دیکر عوام کو موجودہ حکومت کے خلاف بھڑکانے میں مصروف عمل ہیں آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمیں ملک وقوم کی بقا کا ذرہ بھر خیال نہیں ہمیں خیال ہے تو صرف اور صرف آپ کی رہائی کا ہے بس اسی لیے ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد آ صف علی زرداری سے الحاق کیا ہے ورنہ یہ وہی آ صف علی زرداری نہیں تھا کی جس کی اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خلاف نازیبا لفظوں سے تحریر کردہ پمفلٹ ہیلی کاپٹر سے گرانے کے ساتھ ساتھ آ صف علی زرداری کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا وعدہ عوام سے کیا تھا اور ویسے ہمیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین کو یہ بھی خطرہ لاحق ہے کہ موجودہ حکومت کے وزیر اعظم عمران خان اور اُس کی باوفا کابینہ جو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ملک وقوم کی بقا کی خا طر کام کرنے کا حلف اٹھا چکی ہے کہیں ہمارے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر کے ہم سب کو بند سلاسل نہ کر دیں درحقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا الحاق بس اسی ڈر اور خوف کی وجہ سے ہوا ہے بہرحال ہم اپنے آپ کو بچانے اور بالخصوص آپ کی رہائی کیلئے آئے روز ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں اور اب صدارتی الیکشن میں بھی ہنگامہ آ رائی کریں گے مذید انہوں نے کہا کہ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہم نے فیس بُک پر بھی کرائے کے ٹٹو بیٹھا دیئے ہیں جو جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد الزامات موجودہ حکومت کے خلاف تحریر کرتے رہے گے مذکورہ رہنماؤں کی ان باتوں کو سننے کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف اور مریم نواز نے آگ بگولا ہو کر مذکورہ رہنماؤں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آج ہماری اس ذلت آمیز حالت کے ذمہ دار صرف اور صرف آپ لوگ ہیں جہنوں نے ہمیں لندن سے یہاں آ کر ہیرو بننے کا مشورہ دیا تھا آپ لوگوں نے یہ بھی یقین دہانی کروائی تھی کہ جس طرح ہم نے سپریم کورٹ پر حملہ کر کے آپ کی جان بخشی کروائی تھی بالکل اسی طرح ہم ایئر پورٹ پر حملہ کروا کر آپ کی جان بخشی کروا لیں گے لیکن افسوس کہ آپ ایسا کرنے میں قاصر رہے اور ہم بند سلاسل ہو کر رہ گئے ہم سے تو اچھا اسحاق ڈار نکلا جو لندن کی سڑکوں پر اربوں روپوں کی کرپشن کے باوجود نمازیوں کا روپ دھارے کھلے عام گھوم رہا ہے افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ہمارے انکل میاں شہباز شریف جو وزیر اعلی پنجاب کے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ہزاروں افراد کا مجمع لگا کر مال روڈ پر ڈرامہ کرتے رہے جبکہ ہم اڈیالہ جیل پہنچ گئے ہمارا تو شیرازہ بکھر گیا ہے بھائی اشتہاری بن کر لندن میں ذلت آمیز زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ہماری والدہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا لندن میں زندگی کے آ خری دن گزار رہی ہے لعنت ہے ایسی دولت پر جو ہم نے حاصل کی ہے کاش ہم محب الوطن ہوتے تو آج یوں ہم اڈیالہ جیل میں ذلت آ میز زندگی نہ گزار رہے ہوتے کاش ہمیں جب پرویز مشرف نے گرفتار کر کے بند سلاسل کیا تھا تو ہم اگر اُسی وقت توبہ تائب ہو جاتے تو آج یوں ہمارا شیرازہ نہ بکھرتا لیکن افسوس کہ اُس وقت بھی تم لوگوں نے مشورہ دیا تھا کہ میاں نواز شریف قدم بڑھاؤ ہم تمھارے ساتھ ہیں کاش ہم تمھاری باتوں میں نہ آتے تو آج ہم امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے اب بتاؤ وہ مولانا فضل الرحمان کہا ہے جس کو ہم نے کشمیر کمیٹی کا کرتا دھرتا بنایا تھا جو کشمیر کے بارے میں آ واز اٹھانے کے بجائے اپنے فرائض و منصبی دہاڑی لگاؤ اور مال کماؤ کی سکیم پر عمل پیرا ہو کر ادا کرتا رہا آج وہ سعد رفیق کہا ہے کہ جس کو ہم نے وفاقی وزیر ریلوے بنایا تھا جو چالیس ارب روپے کا ٹیکہ ریلوے کو لگا چکا ہے وہ عابد شیر علی کہا ہے جسے ہم نے محکمہ واپڈا کا کرتا دھرتا بنایا تھا جو اربوں روپے از خود ہڑپ کر کے ملک بھر کو اندھیرے میں ڈبو کر رفو چکر ہو گیا ہے وہ گھمنڈی اور تکبرآ نہ انداز اپنانے والا شیخ وقاص اکرم گروپ کہا گیا جو تمام تر ترقیاتی کاموں کے فنڈز از خود ہڑپ کر کے اپنے علاقے کی عوام کو تمام تر بنیادی حقوق سے محروم کر گیا درحقیقت تو یہ ہے کہ تم سب نے ملکر اس ملک میں لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کی ہے جس کے نتیجہ میں یہ ملک بھکاری جبکہ یہاں کی عوام بے روز گاری اور مہنگائی کی زد میں آ کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن کر رہ گئی ہے عمران خان اگر ہمیں معاف کر بھی دے لیکن ہمیں خداوندکریم کبھی معاف نہیں کرے گا حقیقت تو یہ ہے کہ تم لوگ انسان کے روپ میں ڈریکولا ہو جو غریب عوام کا خون چوسنے میں مصروف عمل رہے ہو اپنے قائدین کی ان باتوں کو سننے کے بعد مذکورہ ہنما بھی طیش میں آ کر کہنے لگے کہ یہ سب کالے کرتوت تو ہمارے ہیں آپ کے نہیں ہم ہی قومی لٹیرے ہیں آپ نہیں آپ تو آب زم زم سے نہائے ہوئے ہو آپ لوگوں نے جو اپنے گھروں میں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہلکاروں و دیگر ملازمین کو رکھا ہوا تھا کیا اُن کے اخراجات اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے جو اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں اور اُن کے پٹرول وغیرہ کے خرچ اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے آپ کے خاندان کے کسی فرد کو اگر نزلہ وغیرہ بھی ہو جاتا تھا تو اُس کا علاج کیا لندن میں اپنی جیب سے خرچ کرتے تھے آپ حکومت تو پاکستان میں کرتے تھے اور عیدیں وغیرہ بیرون ملک میں مناتے تھے آپ نے جو محلات بیرون ملک میں بنائے ہیں کیا وہ اپنی جیب سے بنائے ہیں یہ جو آپ روزانہ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرتے تھے کیا اپنی جیب سے کرتے تھے کیا آپ کو اُس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ ملک بھکاری ملکوں کی صف میں آ کھڑا ہوا ہے جبکہ یہاں کی عوام بھوک اور افلاس سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی جیسے اقدام کر رہی ہے کیا آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ہندوستان ہمارا پرانا حریف ہے اور مودی سرکار ہماری عوام کے خون کی پیاسی کیا آپ اُس وقت یہ بھول گئے تھے کہ مودی سرکار کشمیر میں ہمارے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کتنا ظالمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کے باوجود آپ نے اُس ناسور مودی کو اپنی بیٹی کی شادی پر نہ صرف بلایا بلکہ اپنی پاک فوج کے خلاف زہر اُگلتے رہے آپ کا خاندان تو شطرنج کے کھلاڑی تھے اور ہم بس مہرے تھے آپ کے دور حکومت میں مسلم لیگ ن کی ٹکٹ کروڑوں روپے میں فروخت ہوتی تھی سچ تو یہ ہے کہ آپ نے اپنے دور اقتدار میں اپنی کابینہ کے ساتھ میٹنگ نہ ہونے کے برابر کی جبکہ دوسری جانب عمران خان اور اُس کی کابینہ ہے جو دن رات ملک وقوم کی بقا کی خا طر اقدامات کرنے میں مصروف عمل ہیں آپ کے دور اقتدار میں حلف وفاداری پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے لیکن موجودہ حکومت کی حلف وفاداری پر صرف ہزاروں روپے خرچ ہوئے ہیں آپ کے دور اقتدار میں بیرون ملک جانے والے وفد کی تعداد چالیس ہوتی تھی لیکن موجودہ حکومت نے بیرون ملک جانے والے وفد کی تعداد چار کر دی ہے وی آئی پی پروٹوکول ایئر پورٹ پر ختم کر دیا گیا ہے قصہ مختصر عمران خان لوٹ مار کی اس اندھیر نگری میں روشنی کی کرن بنکر ابھرا ہے مسلم لیگ ن کے قائد اور مذکورہ رہنماؤں کی گفتگو ابھی جاری تھی کہ میری اچانک آ نکھ کھل گئی