جب قانون کے رکھوالے قانون شکن ہوجائیں

13

ملک محمد سلمان

پولیس کو اطلاع تھی کہ خاتون اول دربار پر حاضری دینا چاہتی ہیں۔ جب پولیس کو اچانک یہ خبر ہوئی کہ کوئی خاتون ننگے پاؤں دربار کی طرف جارہی ہے توبشریٰ مانیکا سمجھ کر فوری طور پر پروٹوکول کیلئے سکواڈ بھیجا گیا۔پینے پلانے میں بدنام ڈی پی او کی فورس بھی ویسی ہی بن گئی۔اے ایس آئی اور دواہلکاروں پر مشتمل سکواڈ میں سے ایک اہلکار ڈرنک حالت میں تھا جب اسے پتا چلا کہ یہ خاتون اول نہیں ہیں تو اس نے معصوم بچی کو چھیڑنے کی کوشش کی جو ڈر کر جلدی سے واپس گاڑی کی طرف بھاگ گئی۔اس شرمناک حرکت پر مانیکا فیملی کو شدید غصہ آیااور اس واقعہ کے خلاف سنئیر آفیسرز کو شکایت کردی۔ابھی پہلے واقعہ کے خلاف انکوائری جاری تھی کہ23 اگست کو خاورمانیکااور اس کے ساتھی پاک پتن کی طرف جارہے تھے تو پولیس ناکے والوں نے انہیں روک کر اوٹ پٹانگ سوالات سے تذلیل کرنے کی کوشش کی۔خاورمانیکا کو دوستوں کے سامنے سخت خفت کا سامنا کرنا پڑااس نے گاڑی چلا کر آگے نکلنا چاہا تو پولیس نے انکا پیچھا کیا اوردوبارہ روک کر بدتمیزی شروع کردی۔خاور مانیکا سمجھ گیا کہ یہ سب کچھ ٹارگٹ کر کے کیا جارہا ہے ،مانیکا نے آر پی او کو سخت غصے میں سب بتایا اور کاروائی کا مطالبہ کیا۔آر پی او کی طرف سے تسلی بخش جواب نہ ملنے پر آئی جی آفس رابطہ کرکے ڈی پی او رضوان عمر گوندل کے سرپرستی میں مسلسل تذلیلی مہم سے اگاہ کیا۔آئی جی امام کلیم کو بھی رضوان گوندل نے من گھڑت کہانیاں سنا کررام کرنا چاہا۔رضوان گوندل کی اپنی ہی سٹیٹمنٹ میں بار بار تضاد آرہا تھا اور وہ مسلسل غلط بیانی کا مظاہرہ کررہا تھا۔جب آئی جی مطمئن نہ ہوئے تو رضوان کو عہدے سے ہٹائے جانے کا آرڈر ملا تو رضوان نے آر پی او کو اگاہ کیا مبینہ طور پر شارق کمال صدیقی نے اسے وہی طریقہ اپنانے کو کہا جو اس نے مئی 2016میں اپنی برطرفی پر اپنایا تھا۔رضوان گوندل نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر صوبائی پولیس چیف کو ڈی گریڈ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پھیلا دیا کہ خاتون اول بشریٰ مانیکا نے اسے عہدے سے ہٹوایا ہے۔
مانیکا فیملی کو ٹارگٹ کرنے اور بعدازاں خاتون اول کو بدنام کرنے کے پیچھے مبینہ طور پر رضوان گوندل کے مسلم لیگ ن سے ہمدردیوں اور روابط کا کردار ہے۔ایس پی رینک کے جونئیر آفیسر کو سابقہ حکومت نے ضلعی آفیسر لگارکر نہ صرف سنئیر افسران کا استحصال کیا بلکہ اسے سیاہ سفیدکی کھلی چھٹی دیے رکھی۔بطور ڈی پی او خانیوال تعیناتی میں زمینوں پر قبضوں کیلئے گینگ بنانے کی خبریں گردش کرتی رہیں۔ذاتی فائدے کی خاطر اپنے سنئیرز کو بدنام کرنے پر ہی بات ختم نہیں ہوتی بلکہ ملک کو بدنام کرنے جیسی حرکات کا مرتکب رہ چکا ہے۔فیصل آباد سے ملتان ایم فور موٹروے پر کام کرنے والی تعمیراتی کمپنی سنکیانگ بیڑن روڈ اینڈ بریج کمپنی کے انجنیئر ز اور پولیس کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کے ساتھ نور پور کیمپ میں ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو تو سب نے دیکھی ہوئی ہے ،ویڈیو میں چینی باشندے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کرتے پولیس کی گاڑی پر چڑھتے بھی دیکھائی دیے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ چائنیز انجنیئر ز کی لڑائی کے پیچھے من پسند افراد کو ٹھیکوں میں نہ نوازنے پر جھگڑا شروع ہواتھا۔موصوف انتہائی خودسر اور ڈکٹیٹر ذہنیت کا حامل ہے بات نہ ماننے پر چائنیز انجنیئر زکوکیمپ عمارت میں بند کروادیا گیا اور موبائل چھین لیے گئے اس کے بعد اچھے کی امید کیسے رکھی جاسکتی تھی۔پاکستان میں گزشتہ چار سال سے سینکڑوں کلومیٹر اور بیسوں مقامات پر چائنیز کام کررہے ہیں مسئلہ صرف وہیں کیوں ہوا جہاں رضوان گوندل ڈی پی او تھا۔
قبل ازیں جون 2016میں جب اسلام آباد میں ایس پی تھا تو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں رات کے وقت سیرینہ ہوٹل کے کمرے میں ایک غیر ملکی خاتون سے ملنے آیا تو واپسی پر شراب کے نشے میں دھت تھا،والٹ پارکنگ والے سے گاڑی لانے میں تھوڑی تاخیر ہوگئی تو غل غپاڑہ شروع کردیا نائٹ مینجر نے سمجھانے کی کوشش کی تو اسے تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں نہیں پتا میں یہاں کا ایس پی ہوں ۔،مینجر کو تھانے میں بند کرنے اور تشدد کی اطلاعات بھی ہیں۔قانون کی وردی میں قانون کے دھجیاں اڑاتے ہوئے ہوٹل والوں سے کہا کہ دیکھتا ہوں تم کیسے ہوٹل چلاتے ہو اور ساتھ ہی ہوٹل کی ناکہ بندی کردی،سرینہ جیسے بڑے ہوٹل میں غیرملکیوں سمیت ایلیٹ کلاس کا سٹے ہوتا ہے ،ایس پی کی غنڈہ گردی کی اطلاع وزیر داخلہ تک پہنچی توچوہدری نثار نے واقع پر فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے معطل کیا۔مسلم لیگ ن کا چہیتا ہونے کی وجہ سے غیر ملکی لڑکی ، شراب اور ہوٹل کی ناکہ بندی کی خبر گول کروا دی گئی ،۔ ایک دوسرے واقعے میں ایک بندے سے غیرملکی ٹکٹس بطور رشوت مانگنے پر اس وقت کے آئی جی اسلام آبادسکندر حیات نے کافی بے عزت کیا۔جبکہ اسلام آباد ہی کا واقع ہے جب یہ اے ایس پی تھا تو میاں بیوی کے باہمی جھگڑے میں خوبصورت خاتون کو دیکھتے ہوئے لڑکی کو ورغلاء کر اس کے خاوند کے خلاف تشدد کا جھوٹا پرچہ کاٹ دیا۔بعد میں انکوائری اور کال ریکارڈ سے ثابت ہوگیا کہ جس تاریخ کو تشدد کا الزام لگایا گیا اس وقت وہ بیچارہ تو ناران کاغان تھا۔ایس ایچ او نے انکوائری آفیسر کے سامنے اعتراف کیا کہ رضوان گوندل کے پریشر پر جھوٹامقدمہ درج کیا۔ایک طرف یہ جھوٹے پرچے کاٹنے پر لگا ہوا ہے تو دوسری طرف صداقت پر مبنی ایف آئی آر کے اندراج سے بھی انکاری ہے۔خانیوال سے پہلے جب یہ ایس پی صدرلاہور تھا تو سنئیر صحافی اصغر بھٹی پرانکی رہائش گاہ جوہڑ ٹاؤن میں قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن ایس پی نے نہ صرف مقدمے کے اندراج سے انکار کیا بلکہ نامزد ملزمان کی سرپرستی کی۔
شارق کمال جب آپ کو انتقامی کاروائی کے تحت صوبہ بدر کیا گیا تھا وہاں کے لوگوں نے آپ کو ہار پہنائے جبکہ میں نے اپنے کالم میں آپ کا مکمل ساتھ دیا۔مئی 2016سے آج تک نہ آپ سے کبھی ملا نہ کال کی، کیوں کہ وہ شارق کمال کی نہیں حق اور سچ کی سپورٹ تھی جوبے لوث ہوکراخلاقی اور قلمی فریضہ سمجھ کر ادا کیا۔لیکن آج مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اسی سوشل میڈیا کا سہارا صرف ذاتی مفاد، پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بدنام کرنے اور عمران خان کی کردار کشی کیلئے لیا جارہا ہے۔میرے قارئین باخوبی جانتے ہیں کہ میں عمران خان کے سخت ترین مخالفین میں سے ہوں لیکن جس طرح خاتون اول جو ابھی عمران خان کی منکوحہ ہے اسے سابقہ خاوند کے ساتھ بدنام کیا جارہا ہے اور من گھڑت کہانیاں بنائی جارہی ہیں وہ کسی بھی باضمیر انسان کیلئے تو قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔جب قانون کے رکھوالے قانون شکن ہوجائیں تو صرف معاشرہ ہی نہیں ایسے ادارے بھی تباہ ہوجاتے ہیں،قانون کی وردی میں قانون سے کھلواڑ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ۔معزز پاکستانی شہری سے ٹارگٹڈبدتمیزی ،افسران سے مسلسل غلط بیانی اور ٹرانسفر کو غلط رنگ دینے پر آئی جی پنجاب امام کلیم کو چاہئے کہ مکمل تحقیقات کے بعدمذکورہ ایس پی کو سخت سے سخت قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی عزت کو ذاتی مفاد کی خاطر داؤ پر لگانے والے انجام کو پہنچ سکیں۔
ہمارے ہاں المیہ ہے کہ سیاستدانوں کو ٹارگٹ کرنا آسان ترین ہدف ہے جبکہ پولیس کے خلاف سچ لکھتے ہوئے بھی بڑے بڑے افسران اور صحافیوں کو پر جلتے ہیں،مذکورہ واقع میں بھی ہر کوئی پرسنل ریلشنشپ کے چکر میں ایس پی کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے لیکن یاد رکھیے کل کو اللہ کے ہاں ایک ایک لفظ کا حساب ہو گا وہاں کوئی ایس پی کام نہیں آئے گا کسی بڑے افسر کی سفارش نہیں چلے گی۔
ٓانور لودھی کے اس ٹویٹ سے مکمل اتفاق کرتا ہوں کہ ‘‘ ڈی پی او رضوان گوندل اورضلعی پولیس ڈرامہ کر رہی ہے۔کسی نے ایس پی کو ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا نہیں کہا۔ ابھی جب ناصر درانی پولیس میں اصلاحات کرے گا، ان کی رشوت خوری بند کروائے گا تو ایسی مزید چیخیں سنائی دیں گی۔‘‘