بے تکی باتیں

13

اے آر طارق

قادیانی اسلام بیزار گروہ اور خیر خواہ وطن بھی نہیں
ختم نبوت ﷺ کا معاملہ اتنا نازک اورحساس ہے کہ کچھ بولتے انسان اور کچھ لکھتے قلم کانپتا ہے مگر ہمارے حکمران ،ان کے کرتا دھرتا اس پربولتے اس مسئلہ کی سنگینی و نزاکت کو بالکل ہی نہیں سمجھتے ،جو منہ میں آیا ،بولتے جاتے ،جانے انجانے میں ایسا کچھ کر اور بول جاتے ہیں کہ روح تک کانپ جائے۔وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جو اس طرح کے پیش آئے مسئلے پر ذرابولتے زیادہ اور سوچتے کم ہیں۔ ایک قادیانی ماہر معاشیات عاطف میاں کی 18 رکنی اکنامک ایڈوائزری کونسل میں بطور’’ ممبرپرائیویٹ سیکٹر‘‘ تقرری پر بجائے اس کے کہ شرمندہ ہوں،ان کا تقرر واپس لینے کی بات کریں،الٹا اس پر اڑ ہی نہیں گئے بلکہ قادیانی کے تقرر پر اس کی مخالفت کرنے والے افراد کی خوب کلاس لی اور یہاں تک کہ ان کو چند ’’انتہا پسند‘‘ کہہ گئے۔اپنی کم عقلی،کم فہمی،حقیقت کا ادراک نہ ہونے ،قادیانی اورفتنہ قادیانی مسئلہ کی نوعیت ونزاکت کو نہ سمجھ سکنے اور قادیانی کیوں نامنظور ،کی منطق تک نہ پہنچ سکنے کی صلاحیت سے عاری ایسی ایسی باتیں کرگئے کہ راہنما پر بھی گمان رہنما ہوتا نہیں۔کیا وہ نہیں جانتے کہ قادیانی پاکستان کی پارلیمنٹ سے غیر مسلم اقلیت قرار پائے اور یہ کہ یہ ختم نبوت کے منکر ہیں۔1974کی دستوری ترمیم کونہیں مانتے،جو انہیں غیرمسلم قرار دیتی ہے۔خود کو مسلمان کہلوانے پر مصر ہیں۔یہی نہیں،ریاست اور مسلمان اکثریت سے ان کا مطالبہ ہے کہ وہ بھی انہیں مسلمان تسلیم کریں۔کیوں کریں،جبکہ وہ ختم نبوت کے منکرہیں ،مرزا قادیانی نے ختم نبوت پہ ایمان رکھنے والوں کو گالیاں دیں۔انہیں ۔۔۔۔کی اولاد لکھا۔دستور سے بغاوت اس معاملے کا مرکزی نقطہ ہے۔یہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے ،پاکستان کے نظریے کے دشمن ہیں،
ہمارے بنیادی عقائد کے منکر ہیں،پاکستان کی ریاست کو قادیانی بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں ،پاکستان کی ریاست کی ہیت بدلنے کی کوشش کرنے والے ،یہاں اپنی مرضی کا نظام رائج کرنے کے علمبرداراور ہمارے بنیادی نظریے اسلام کے مخالف ہیں۔ایسے لوگوں کو کسی بھی ملکی منصب پر رکھنا تو دور کی بات ،قریب بھی پھٹکنے نہیں دینا چائیے،اسلئے کہ مرزا غلام قادیانی لکھتا ہے کہ ’’سچا دین قادیانیوں کااور اسلام (معاذاللہ) جھوٹا ہے،میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں مجھ سے زیادہ بیزار اس مذہب اسلام سے اور کوئی نہ ہوگا،ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں اور ایسا مذہب جہنم کی طرف جاتا ہے۔‘‘ایسے وچار وخیالات ہیں، ایسے گروہ وافراد کے، اسلام بارے۔پاکستان بارے بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ملک عزیز پاکستان کے کسی بھی طرح ہمدرد اورخیر خواہ نہیں،جب بھی موقع ملا ،ارض وطن کی جڑیں ہی کھوکھلی کی ، اس کی عزت و حرمت سے ہی کھیلا ۔اس موقع کی مناسبت سے کہنے کو تو بہت کچھ ہے مگر کالم کی طوالت کے باعث صرف اتنا ہی کہوں گا کہ ہمیں قادیانیوں کے ہر محاذ ہر بڑھتے قدموں کو روکنا ہوگا،اگر یہ قدم ہماری سستی وکوتاہیوں،بے وقوفی وحماقتوں سے کسی نہ کسی مسئلے میں مسئلہ بن کر یونہی بڑھتے رہے تو ان کے ہاتھوں پھرترقی توہونی نہیں اور جو ہوگئی اس سے بھی جاتے رہے گے۔ہمارا نہ دین رہے گا اور نہ دنیا ۔اور آخرت میں اللہ کے حضور جو خفت وشرمندگی وپشیمانی اٹھانا پڑے گی ،اس کا تصور ہی رونگھٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔