وزیراعظم کے پہلے خطاب کے چند پہلو اور کچھ تجاویز

5

تحریر: ڈاکٹر سید فہیم کاظمی الچشتی
وزیراعظم عمران خان کی وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد قوم سے پہلے خطاب کا متن ہم نے متعدد بار بغور پڑھا ہے۔ اس کے ایک ایک جملے پر غور کیا ہے۔ پاکستان کے گزشتہ حکمرانوں اور وزرائے اعظم کی تقاریر و خطابات سے اس کا موازنہ کیا ہے ، مگر یہ ایک الگ نوعیت کا خطاب ہے، جو اس سے قبل ملک کا کوئی انتظامی سربراہ نہیں کر سکا۔ یہ خطاب معاشرتی فلاح کا ایک مکمل اور حقیقی ایجنڈا ہے بشرطیکہ اس پر پوری طرح عملدرآمد ہو سکے، مگر ہمیں قوی خدشہ ہے کہ ملک کا مقتدر ، سرمایہ دار و جاگیر طبقہ اس کی راہ میں طرح طرح کی رکاؤٹیں کھڑی کرے گا اورسازشوں ، افواہوں اور پروپیگنڈے سے ایسی معاشرتی فضا تیار کرے گا کہ جس سے حکومت کو بد نام اور عوام میں غیر مقبول بنایا جاسکے ۔ عشروں سے اقتدار پر قابض اقتدار کے بھوکے بالا دست طبقے کے مفادات کو جب زک پہنچی تو وہ ضرور طوفا ن کھڑا کرے گا۔ تب اس فیصلہ کن مرحلہ پر اس بد مست مراعات یافتہ ، بالا دست طبقہ کی طنابیں کھینچ کر اس کو لگام دینی ہے۔ اگر وزیراعظم اپنی حکمت عملی سے اس عمل میں کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو یہ ان کی دائمی فتح ہوگی۔ اگر خدانخواستہ اس مرحلے پرکمزوری دکھائی گئی اور مرعوب ہو کر ڈیل کی گئی تو PTIکی بائیس سالہ تمام محنت پر پانی پھرجائے گا۔ پھر پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئی فرق نہ رہ جائے گا۔ قانون کی بالا دستی کا مطلب یہ ہے کہ قانون کی زد میںآنے والے کو کوئی رعایت نہ دی جائے خواہ اس کاکتنا ہی بلند معاشرتی و سیاسی مقام کیوں نہ ہو۔ قانون پر بلا تخصیص خواص و عام عمل ہونا ناگزیر ہے۔ دوسرا ہمارے ملک میں نظام عدل و انصاف میں کئی جھول اور سقم ہیں۔ عام آدمی عشروں عدالتوں کے چکرلگا لگا کر اپنی جمع پونجی صرف کر ڈالتا ہے مگر انصاف سے محروم رہتا ہے۔ ہم جناب وزیراعظم پر ان سطور کے ذریعے اس حقیقت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے وطن میں بالا دست مراعات یافتہ طبقہ میں مفاداتی تعلقات ہیں۔ ان کے مابین رشتہ داریاں ہیں اور مفادات سانجھے ہیں او ریہ بالا دست طبقہ ہر مشکل مرحلہ پر ایک دوسرے کا معاون و مدد گار بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ان کی اکثریت قانون کے ہاتھوں سے محفوظ رہی ہے۔ قومی نوعیت کے جرائم کے ارتکاب کے باوجود یہ لوگ معزز و محترم ہیں۔ بات تلخ ہے، مگرحقائق یہی ہیں کہ اس ہی طبقہ کا ایک قابل لحاظ حصہ پی ٹی آئی میں کلیدی ذمہ داریوں پر فائز ہو کر سرگرم عمل ہے۔ ملک گیری ایک مشکل ترین شعبہ ہے۔ اس کے لیے چار آنکھوں اور چارکانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک کوئی حکمران خود اپنی بصیرت سے معاملات کا تہہ درتہہ ادراک نہ کرے، اس پر حقائق منکشف نہیں ہو سکتے۔ کلیتاً مشیروں پر انحصار اس لیے درست نہیں ہے کہ سب ہی مشیر مطلوبہ قومی بصیرت کے اہل نہیں ہو سکتے۔
ان سطور کے ذریعے جناب وزیراعظم سے گزارش کریں گے کہ کسی بھی قسم کی سیاسی وابستگی نہ رکھنے والے محب وطن دانشوروں، کالم نگاروں اور سائنسدانوں پر مشتمل ایک تھینک ٹینک قائم کیا جائے، جو ملک میں نافذ ہونے والی تمام فلاحی پالیسیوں کا ہر ہر پہلو سے جائزہ لے کر مناسب تجاویز و سفارشات دے اور پھر ان پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ فلاحی پالیسی کے اثرات و ثمرات نچلے محروم طبقہ تک پہنچ سکیں۔ ہمارے معاشرے کی ساخت ایسی ہے اور ہمارا انتظامی ڈھانچہ ایسا ہے کہ فلاحی پروگرام اور پالیسی کے اثرات نچلے محروم طبقہ تک نہیں پہنچ پاتے۔ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ جب 8اکتوبر 2005 کے زلزلہ میں متاثرین کو معاوضہ جات دئیے گئے تو ہمارے ا نتظامی ڈھانچے کی وجہ سے مستحقین کی بہت سی تعداد معاوضہ سے محروم رہ گئی اور یہ محروم رہنے والے وہ لوگ تھے، جو بالکل صحیح مستحق اور تہی دامن تھے۔ ان کے محروم رہنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ معاوضے کے لیے رشوت کابندوبست کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے تھے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ جناب وزیراعظم کی فلاحی پالیسیاں اور منصوبے ہمارے اس انتظامی ڈھانچے کے اندر ہی کہیں گم ہو کر رہ جائیں اور انہیں صحیح صورت حال کا ادراک ہی نہ ہو پائے۔
ہم اس حوالے سے ایک کمیٹی کی تجویز دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جس کے کام کادائرہ کار بذیل ہو۔
1۔ محب وطن، غیر سیاسی ، اچھی ساکھ و کردار رکھنے والے چند مفکرین و کالم نگاروں اور نیک نام ممتاز شخصیات پر مشتمل ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جائے جس کی ذمہ داری یہ ہو کہ وہ ہرفلاحی پالیسی اور منصوبہ کے نفاذ کی پالیسی و حکمت عملی کے لیے سفارشات مرتب کرے تاکہ قومی اورفلاحی منصوبہ جات اچھے طریقہ سے مکمل ہوں اور فلاحی پالیسیوں کے اثرات نچلے عام محروم طبقہ تک پہنچ سکیں
2۔ اس کمیٹی سے ہی کچھ ارکان منتخب کرکے ایک ذیلی ایکشن کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک بھر میں بذریعہ میڈیا و درخواست ہاء موصول ہونے والی شکایات ، ظلم و ستم ، نا انصافی، حق تلفی، کرپشن وغیرہ پر براہ راست فوری ایکشن لے اور میڈیا کے ذریعے ظلم و نا انصافی کی خبر پر اسی دن موقع ملاحظہ کرے اورمقامی انتظامی اداروں کو معاملات کی چھان بین کا حکم دے اور اس معاملے کی خود نگرانی کرتی رہی۔
3۔ ملک بھر کے تمام انتظامی اداروں کو اس ایکشن کمیٹی کے احکامات کا پابند کر دیاجائے ۔
4۔ ملک بھرمیں لائق فائق، ایماندار و دیانت دار اور باصلاحیت آفیسران واہلکاران کو اس کمیٹی کی سفارشات پر انعامات دئیے جائیں۔ تاکہ معاشرہ میں اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی ہو اور مثبت سوچ پروان چڑھے۔
5۔ اس کمیٹی کے ارکان کے لیے بد دیانتی،کرپشن وغیرہ کے لیے کم از کم سزا سزائے موت مقرر کی جائے۔
6۔ معاشرے میں ایماندار، باکردار، مخلص اور محب وطن فلاحی سرگرمیاں سرانجام دینے والے لوگوں کو یہ کمیٹی شناخت کرے اور انہیں وزیراعظم کی طرف سے انعامات اور ایوارڈ وغیرہ دئیے جائیں۔
7۔ اس کمیٹی کے زیرنگرانی حکومت ملک بھر میں ماہر اور سراغ رساں رپورٹر مناسب تربیت دے کر متعین کرے جو ملک بھر میں الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہوں اور کرپشن وغیرہ کا بمعہ ثبوت سراغ لگائیں اور ان کی رپورٹ پر فوری کارروائی کی جائے۔
8۔ یہ کمیٹی براہ راست وزیراعظم کے ماتحت کام کرے اور وزیراعظم کو ہی جوابدہ ہو۔ اس طریقہ سے وزیراعظم براہ راست ملک کی صورت حال سے آگاہ رہ پائیں گے اور براہ راست آگاہی بہترحکمرانی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔