پاکستان نے افغانستان سے درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی

22

پاکستان نے افغانستان سے درآمدات پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کردی جب کہ افغان سرزمین پر پائیدار امن کے لیے حمایت رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

فلک نیوز کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ کابل کے حوالے سے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور ہم منصب سے ملاقاتیں کیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئی حکومت افغانستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے اور وزیر خارجہ نے افغانستان میں پائیدار امن کے لیے حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ افغان قیادت پر مشتمل امن عمل سے متعلق تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اعلیٰ سطح رابطوں پر زور بھی دیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر کو وزیر اعظم عمران خان کا خط پیش کیا اور افغان عوام کے لیے 40 ہزار ٹن گندم بطور تحفہ بھجوائیں جبکہ پاکستانی حکومت نے افغانستان سے درآمدت پر ریگولیٹری ڈیوٹی بھی ختم کرنے کا اعلان کیا۔

قبل ازیں شاہ محمود قریشی کا افغان ہم منصب سے ملاقات کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے چیلنجز مشترکہ ہیں، جنہیں مل کر ہی نمٹنا ہوگا، دونوں ملکوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہے، ہمیں مثبت سمت میں کام کرنا اور تعاون کاعمل مزید بڑھانا ہوگا، افغانستان میں ورکنگ گروپ پر مزید کام کرنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، علما کونسل کا اجلاس ایک اچھا اقدام ہے، معاملات کے حل کے لیے دونوں اطراف کے علما کرام کی میٹنگ کرائی جا سکتی ہے۔  علماء کرام کی میٹنگ دس محرم کے بعد کسی بھی مناسب وقت میں رکھی جا سکتی ہے۔

ملاقات کے دوران افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، منصب سنبھالنے کے بعد شاہ محمود کے افغانستان سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، پاکستان اورافغانستان کا امن خطے کا امن ہے، دونوں ملکوں کو مل کر امن کے لئے کام کرنا ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کا پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد بطور وزیر خارجہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق وزیر خارجہ کا اپنے پہلے دورے کے لیے کابل کا انتخاب پاکستان کی افغانستان اور علاقائی امن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اس کامیاب دورے سے مستقبل میں امن مذاکرات اور باہمی تعلقات میں مزید پیش رفت ہوگی۔

واضح رہے کہ شاہ محمود قریشی کے دورہ کابل سے قبل گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا۔