ریاست اتنی کمزورنہیں جتنی نظرآتی ہے، اسد عمر

26

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ ریاست اتنی کمزورنہیں جتنی نظرآتی ہے اورریاست میں دم ہے کہ نان فائلرزسے پیسہ نکلواسکے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کی جانب سے تنقید کے جواب میں اظہارخیال کرتے ہوئے اسد عمرنے کہا کہ جوکام یہ 40 سال میں نہ کرسکے ہم سے پوچھتے ہیں کہ 40 دن میں کیوں نہ کیے، آج ریاست مدینہ کا ذکرکرنے والے کاش اپنی حکومت سے بھی سوال کرلیتے۔ انھوں نے معیشت کو چاروں شانے چت کردیا تھا، افسوس کی بات ہے کہ خیبرپختونخوا اوربلوچستان کولوڈشیڈنگ نے مار دیا، کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ بجلی کا بل نہیں دیتے اس لیے لوڈشیڈنگ ہے، حقیقت یہ ہے کہ آج بجلی ہوبھی تو خیبرپختونخوا اوربلوچستان تک نہیں پہنچائی جاسکتی، ٹرانسمیشن لائنزبچھاتے ہوئے کم ترقی یافتہ اور دور درازعلاقے نظر انداز کیے گئے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ گزشتہ دورمیں دودھ اورشہد کی نہریں بہہ رہی تھیں، گزشتہ برس دودھ اورشہد کی نہروں کے سائے میں گردشی قرضے میں 400 ارب روپے سے زائد اضافہ ہوا، صرف گیس کے شعبے میں 454 ارب روپے کا خسارہ ہے، تمام آئی پیزکہہ رہی ہیں کہ اب ہم مزید بجلی کی پیداوارنہیں دے سکتے۔ آج مجموعی طور پرگردشی قرضہ 1200 ارب تک پہنچ چکا ہے، پی آئی اے کا جہاز اڑ نہیں سکا کیوں کہ ادارے پر قرض اتنا بڑھ چکا ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بیواؤں کی پینشن تک روکی ہوئی تھی۔

اسد عمرنے کہا کہ نان فائلرز200 سی سی سے کم کی موٹر سائیکل خرید سکے گا، اورسیز پاکستانیوں اور بیوہ کی وراثتی جائیداد کی منتقلی پر نان فائلرز کو چھوٹ دی جارہی ہے، بڑے نان فائلرز کے خلاف مہم کا کل سے آغازہوچکا ہے، بڑے بڑے نان فائلرز کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے، 169 نان فائلرز کو نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں، صاحب ثروت کو پیغام ہے کہ ابھی بھی وقت ہے ، وہ ٹیکس نیٹ میں آجائیں، ریاست اتنی کمزورنہیں جتنی نظر آتی ہے اور ریاست میں دم ہے کہ آپ سے پیسہ نکلوا سکے۔ قوم کا پیسا قوم پرخرچ ہوگا، آئیے اور اس کا حصہ بنیں، ٹیکس ریٹرن فائل کریں ، زمین اور گاڑی خریدنے کے اہل بن جائیں۔

وفاقی وزیرنے کہا کہ شیرسکڑ کربلی کے برابررہ گیا ہے۔ اپنے ادھورے منصوبوں کا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈالا جاتا ہے حالانکہ الیکشن کمیشن نے نئے منصوبوں کے اعلان سے منع کیا تھا۔