پاناما میں شامل دیگر پاکستانیوں کیخلاف کارروائی کیلئے برطانیہ سے معاہدہ ہوگیا، شہزاد اکبر

57

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ پاناما میں شامل دیگر پاکستانیوں کیخلاف کارروائی کیلئے برطانیہ سے معاہدہ ہوگیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کہ پاناما لیکس اور پیراڈائز لیکس میں سوائے شریف خاندان کے کسی کے خلاف تحقیقات نہیں ہوئیں، اگر سپریم کورٹ کارروائی نہ کرتی تو یہ معاملہ بھی دب جانا تھا، برطانیہ کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوگیا، تمام تحقیقات کو نئے سرے سے شروع کرکے ان سے تفصیلات حاصل کر رہے ہیں، پاناما لیکس میں 33 سے زیادہ بی وی آئی آف شور کمپنیز ہیں، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے دوبارہ ان کی تفصیلات مانگی ہیں، اگلے ہفتے زیر التوا کیسز کی فہرست لے کر لندن جاکر برطانوی ہم منصب سے ملاقات کروں گا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ چین اور بھارت اپنے شہریوں سے لوٹی گئی رقم واپس نکلوا چکے ہیں، دیگر ممالک کے اداروں کی مدد سے پاکستانیوں کے بے نامی اکاؤنٹس کا پتہ لگایا جائے گا، غیر قانونی رقوم واپس لانے کیلیے چین اور یواے ای سے بھی معاہدہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے لیے مختلف اکاؤنٹس اور کمپنیاں استعمال ہوتی ہیں، ایس ای سی پی کی تصدیق کے بغیر جعلی کمپنی کیسے رجسٹر ہوسکتی ہے، یہ نظام کی ناکامی ہے، کیا ایف بی آر ایسے لوگوں کو نہیں پوچھتا تھا، اسٹیٹ بینک کے نظام سے جعلی اکاؤنٹس خودبخود پکڑ میں آنے چاہئے تھے، ادارے پہلے بھی تھے لیکن حکمرانوں نے ذاتی مفاد کی وجہ سے کام نہیں کرنے دیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور میگا پراجیکٹس میں بدعنوانی کا سامنا ہے، ملتان میٹرو میں 30 ملین ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوئی، پاکستان سے سالانہ 10 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی جارہی تھی تاہم بدعنوانی کے خلاف تحقیقات کی نگرانی سپریم کورٹ خود کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں کے جعلی بینک اکاؤنٹس میں پیسہ منتقل ہورہا ہے، کوئی منظم گروپ ہے جو کرپشن کے لیے ایسے اکاؤنٹس استعمال کرتا ہے تاہم جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ جے آئی ٹی تک پہنچ گیا ہے، کالے دھن کو چھپانے کےلیے غریب لوگوں کے جعلی اکاؤنٹس میں پیسہ منتقل کیا گیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاک ویوز ٹاکس اور کیپیٹل پرائیوٹ لمیٹڈ کے نام سے کمپنی کے 3 مالکان عارف، اشتیاق اور اسماعیل ہیں، جن کی ماہانہ آمدن 20 ہزار روپے ہے، لیکن وہ ایک بہت بڑے بینک میں 20 ملین سے زیادہ شیئر کے مالک ہیں جس کی مالیت 30 کروڑ سے زیادہ ہے، فالودہ والا محمد قادر میسر اوشن انٹرپرائز کا مالک ہے جس کی ٹرانزیکشن 2 ارب سے زیادہ ہے، رکشے والے کی ٹرانزیکشنز کا پتہ لگانا ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے، رکشے والا رشید ڈریم ٹریڈنگ کا مالک ہے جس کے اکاؤنٹ میں 2 ارب کی ٹرانزیکشن ہوئی، لاڑکانہ کے رضائی فروش کے اکاؤنٹ میں 80 کروڑ سے زیادہ کی رقم ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی ناقص حکمت عملی کے باعث مشکلات بڑھیں، قرضوں کا بوجھ ڈال کر ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا اور ورثے میں معاشی مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملا تاہم کرپشن کے خاتمے پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کالے دھن کو دیکھنے کی اشد ضرورت ہے، پاکستان پر 30 ہزار ارب روپے کا قرضہ ہے تاہم70  ملکوں سے معلومات کے تبادلے تک رسائی پر مرحلہ وار کام کر رہے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ سابق وزیر ریلوے سعد رفیق اور ان کے بھائی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا گیا جب کہ سوئس بینکوں میں موجودپاکستانی رقم واپس لانےکے معاہدے میں 5 سال ضائع کیے گئے۔