بنگلا دیش کی معروف اداکارہ نے فلم انڈسٹری چھوڑکرتبلیغ شروع کردی

23

بنگلا دیش کی مشہور و معروف اداکارہ نے فلمی صنعت کو خیرباد کہہ کر تبلیغ شروع کردی۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق 22 سالہ ادکارہ نازنین اختر ہیپی نے اپنے نام کے ساتھ اپنا حلیہ بھی بالکل تبدیل کرلیا ہے اور اب وہ نہ صرف پورا برقعہ بلکہ ہاتھوں اور پیروں کو چھپانے کے لیے دستانے اور موزے بھی پہنتی ہیں۔ انہوں نے اپنا نیا نام امتااللہ رکھا ہے  اور اپنے ماضی سے رشتہ یکسر منقطع کرکے مدرسے میں قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ تبلیغ شروع کردی ہے۔

رواں ماہ ان کی زندگی پر نئی کتاب شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ ان کے اندر یہ تبدیلی کیسے آئی۔ بنگلا دیشی عوام نے امتااللہ کی کتاب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اشاعت کے بعد کچھ ہی دیر میں ان کی کتاب کے ہزاروں کاپیاں فروخت ہوگئیں جس کے بعد ناشرین ایک ماہ میں دوسری بار کتاب شائع کررہے ہیں۔ کتاب کا نام ’’ہیپی سے امتااللہ تک‘‘ ہے، جس کے مصنف عبداللہ فاروق اور ان کی اہلیہ صادقہ سلطانہ ہیں، یہ کتاب امتاللہ کے براہ راست انٹرویو پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے اپنی کایا پلٹ کی وجوہات بیان کیں۔

ناشرین نے کتاب کی مقبولیت کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ اداکارہ نے شان و شوکت اور شہرت کی زندگی چھوڑ کر کیوں ایک مذہبی زندگی اپنائی۔

نازنین اختر ہیپی 2013 میں بنگلا دیش کی ایک فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بعد شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئی تھیں۔ نازنین اختر 2014 میں اس وقت ملکی و غیر ملکی میڈیا کی خبروں کی زینت بنیں جب انہوں نے بنگلا دیش کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی روبیل حسین پر جنسی زیادتی اور شادی کے وعدہ سے پھرنے کا الزام عائد کیا تاہم عدالت میں کیس چلا جس کے دوران ہیپی نے الزامات واپس لے لیے اور جج نے کھلاڑی کو بے گناہ قرار دے دیا۔

کتاب کے مصنف عبداللہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ روبیل کے ساتھ تنازع اور عدالتی جنگ ہارنے کے بعد ہیپی نے نئی فلم میں کام شروع کیا جس کی شوٹنگ کے دوران ایک رات انہوں نے اپنی زندگی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور تبلیغی جماعت میں شامل ہوگئیں۔ انہوں نے فیس بک سے اپنی ہزاروں تصاویر ڈیلیٹ کرکے فلمی دنیا کو خیر باد کہا اور مکمل پردہ کرنا شروع کر دیا۔

امتااللہ کا کہنا ہے کہ ان کا نیا جنم ہوا ہے۔ شوبز میں واپسی سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ دوبارہ جہنم کی آگ میں قدم نہیں رکھنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی ان کے ناخن تک نہیں دیکھ سکتا اور وہ رشتہ ازدواج میں بھی منسلک ہوچکی ہیں۔