بے تکی باتیں

15

اے آر طارق
ملک عزیز پاکستان اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہر طرح کے وسائل سے مالا مال ہے ۔ قدرتی،معدنی ،صنعتی اورزرعی وسائل اس کی پہچان ہیں۔دنیا میں کچھ ایسے ممالک بھی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہیں ،جن کے پاس اس قدر وسائل نہیں ،جس قدر خطہ ارضی پاکستان میں پائے جاتے ہیں ۔مگر وہ کم وسائل ہوتے ہوئے بھی کامیاب کہلائے اور ہم وسائل کی فراوانی کے باوجود ناکام ٹھہرے،جبکہ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ اہل پاکستان انتہائی محنتی وجفاکش ہیں اور اس کے افراد باالخصوص ڈاکٹر،انجینئر،سائنسدان،علماء اکرام ،بزنس مین، عام ورکر پوری دنیا میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑے ، اپنی قابلیت وذہانت کا لوہا منوا ئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہونے کی بجائے ترقی پذیر ملکوں میں دیکھا جاتا ہے ،اس کی حالت دگرگوں نظر آتی ہے۔معیشت کی کشتی ڈاواں ڈول اور بیچ منجھدار ہچکولے کھا رہی ہے۔ معیشت کی بحالی کے حوالے سے موجودہ حکمرانوں کی طرف سے کہے ہوئے لفظوں ،دلائے گئے دلاسوں اوردیکھائے گئے ’’سہانے سپنوں‘‘ پر عوامی سطح پر بے یقینی کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں اور اب کے بار بھی ملک کے لیے قرضہ کا حصول کتنا ضروری ہے کا احساس پیدا کرکے اور مسلسل، تھک جانے کی حد تک اس کی گردان کے بعد آئندہ کے بعد آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کی باتوں میں حقیقت کم کم ہی دکھائی دے رہی ہے۔اس کی وجہ اور کچھ بھی نہیں ،صرف کرپشن ہے،جس نے اس ملک کو دیمک کی چاٹ کھایا ہے اور اس کے ککھ پلے نہ چھوڑتے ہوئے اسے کہیں کا نہیں رہنے دیا۔اس کی انتہائی بد قسمتی رہی کہ اسے قائد اعظم کے بعد جو بھی ملا ،چور ہی ملا،ہرایک نے اسے لوٹا،کھایا، بیدردی سے نوچا،اس کو زخم لگائے مگر اس کی بہتری ،خوشحالی اور استحکام کے لیے کوئی عملی اقدامات نہ کیے۔یہاں پر ،جو بھی کسی عہدے پر کا م کررہاہے،وہ اپنے ذاتی مفاد کے حصول کی کوشش میں لگا ہوا ہے،وہ تمام حربے استعمال کرکے بیشمار وسائل کے ذریعے ناجائز دولت سمیٹنے کے چکر میں ہے۔ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ آج تک جتنی بھی حکومتیں معرض وجود میں آئیں،ان کے اکثر عہدیداراور افسران بالا ملک کو لوٹتے رہے،کسی نے زرعی زمین کے کئی کئی ایکڑ خرید لیے،کسی نے کروڑوں،اربوں کا بنک سے قرضہ لیکر معاف کرایا،کسی نے ذاتی فیکٹریاں لگائیں،کسی نے پٹرول پمپ بنالیے،کسی نے اندرون اور بیرون ملک محلات اور ہوٹلز بنائے۔کسی نے اپنی جائیدادیں اپنے قریبی رشتہ داروں بھتیجوں ،بھانجوں اور ملازموں کے نام کردیں،کسی نے دوسروں کے نام پر باغات لے لیے اور کاروبار بنالیے،کسی نے ترقیاتی کاموں اور ہاوسنگ اسکیموں کی آڑ میں کمیشن ہتھیاء کر نوٹ
بنا لیے ،کسی نے جعلی بنک اکاونٹ بنا کر دولت سمیٹ لی۔الغرض یہ کہ جس کا جتنا بس چلا،اس نے اتنا ہی اس ملک کی ناوٗ ڈبونے کی کوشش کی،اسے برباد کرنے چلا،ماضی کے تمام حکمرانوں نے بدعنوانی اورعیاشی کے سب ریکارڈ توڑتے ہوئے اس ملک کو تباہی وبربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔ موجودہ حکومت کو پیش، تمام ترمسائل انہی سابقہ حکمرانوں کے پیدا کردہ ہیں ،جن سے نمٹنے کے حوالے سے موجودہ حکمران جماعت کو تنگی وتکالیف کا سامنا ہے۔یہی وجہ ہے اسے قائم ہوئے ابھی چند دن ہی ہوئے ہیں کہ اس کے سامنے مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں اور اسے اپنی ناتجربہ کار ٹیم کے باعث اسے حل کرنے میں مشکلات تو درپیش ہے ہی ، کوئی کام ڈھنگ سے نہ کرسکنے کی وجہ سے بھی عوام میں بھی سبکی کا سامنا ہے۔قبضہ مافیا اور تجاوزات کے خلاف آپریشن ٹھیک اور اچھا اقدام،ہونا چاہیئے مگر گرین اینڈ کلین پاکستان کا مشن لیکر سڑکوں پر موجود غریب ونادار افراد کی لگی عارضی نان چنے اور پھل فروٹ والی ریڑھیوں کو اٹھانا ،سامان اور پھل فروٹ سڑکوں پر گرانا ،(جس سے ٹریفک کی روانی بھی کسی حد تک متاثر نہیں ہوتی اور غریب کے گھر کا چولہا جلتا) کسی بھی طرح مناسب نہیں۔بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انتظامیہ سے سڑکوں سے کوڑا تو اٹھایا نہیں جاتا مگر کوئی مصیبتوں ماراریڑھی؍چھابڑی لیکر سڑک کنارے آجائے تو کرتا دھرتا بجلی بن کر اس پر برس جاتے،جس کام کے لیے رکھا ہے،اس میں پھرتی زیرو ہے اور جس میں اتنی سرعت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت کائی نہ ،اس میں تیزی دکھاتے۔اسی طرح پتوکی میں سڑک وریلوے کنارے موجودپھولوں،پودوں پر مشتمل گہلن نرسری ،جس کا انٹرنیشنل سطح پر ایک نام ہے ،گرین اینڈ کلین پاکستان کے نام پر آس پاس کی جگہ جو بیکار ہے ،کام میں بھی نہیں آرہی ،خالی کروا کر پھولوں کی بستی کو گہنا نہ دیجیئے گا،کے حال پر بھی رحم کھائیے ،بلڈوزر نہ پھیریں،جب تک جگہ استعمال میں نہیں ہے ،تب تک کوئی حکمت عملی بنا کر جگہ کرایہ پر دے دیں ،مگر مدتوں سے قائم بیروون دنیا میں ہماری پہچان سر سبز وشاداب ،پھول پودوں سے مزین لہلاتی بین الاقوامی نرسری کو برباد نہ کریں۔آپ کا جانا کچھ نہیں ،اگلے کا رہنا کچھ نہیں۔ بات ہورہی تھی قدرتی وسائل کے ضیاع اور کرپشن کی تو ضرورت اس امر کی ہے قدرتی وسائل کے ضیاع کو روکا جائے نیز کوئی طاقت ملک لوٹنے والے افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کرے اور بلا امتیاز کارروائی کے ذریعے ملک و قوم کا لوٹا ہوا ایک ایک پیسہ وصول کرے توملک پاکستان چند دنوں میں ترقی یافتہ اقوام کی صف میں آکھڑا ہوگا۔لیکن اس کے لیے ہمیں کرپشن کو روکنا ہوگا اور احتساب کا عمل تیز کرنا ہوگا،تب جاکر ہی خوشحال و مستحکم پاکستان کا خواب پورا ہوگا۔