دنیا میں بیاسی کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار ۔۔۔!

5

تحریر:رانا اعجاز حسین چوہان
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ڈبلیو ایچ آئی نے بھوک وخوراک سے متعلق اعداد و شمار پر مشتمل عالمی انڈکس سال 2018ء کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دنیا بھر میں بیاسی کروڑ سے زائد انسان بھوک اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر میں 5 سال تک کی عمر کے پندرہ کروڑ پچاس لاکھ بچے ایسے ہیں جن کی جسمانی و ذہنی نشودو نما پر غذائیت کی کمی کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جس کے باعث وہ باقی کی زندگی بھی ان اثرات سے دوچار رہیں گے۔ اسوقت دنیا بھر کے 19 سے زائد ممالک میں غذائی بحران جاری ہے اور یہاں بسنے والے افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ جبکہ دنیا میں غربت کی شکار آبادی کا 60 فیصد حصہ جنگ زدہ اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ممالک میں مقیم ہے، اور تقریباً دو کروڑ افراد یمن، سوڈان، نائجیریا اور صومالیہ میں قحط کا شکار ہیں۔ عالمی ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے بھوک کا شکار غریب ممالک کو مالی امداد بھی فراہم نہیں کی جارہی۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت سنہ 2030ء تک صفر بھوک (زیرو ہنگر) کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم اس کے لیے سخت محنت، ترقی اور بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، جبکہ سیاسی قیادت کی مدد اور امن کے بغیر غربت اور بھوک سے نجات ممکن نہیں۔ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے ان کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے زیر اہتمام ہر سال سولہ اکتوبر کا دن ’’عالمی یوم خوراک ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے،انیس سو اناسی میں اس ادارہ کی بیس ویں جنرل کانفرنس میں یہ دن باقاعدہ طور پر منانے کی منظوری دی گئی تھی، اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنا اور خوراک کی قلت کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنا، عالمی خوراک کے مسئلے سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کرنا، اور ناقص غذاء اور غربت کے خلاف جدوجہد کرنا، اور مستقبل میں غذائی قلت جیسے مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی تیا ر کر نا ہے،تا کہ آنے والی نسلوں کو غذائی قلت سے بچا یا جاسکے۔ اس دن کی مناسبت سے دنیا بھر میں مختلف تقاریب ا ور سیمینار زکا انعقاد کیا جاتا ہے۔
غذائیت ونگ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز پاکستان کے حالیہ سروے میںیہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں6 سے 23ماہ تک کے تقریبا 80فیصد بچے متوازن غذا حاصل نہیں کرپاتے، جس کی وجہ سے ان کی نشودنما متاثر ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچوں کی تجویز کردہ عمر میں سے آدھے سے زیادہ بچے ٹھوس، نیم ٹھوس یا نرم غذا سے محروم رہتے ہیں جبکہ 2سال کی عمر تک کے صرف 22فیصد بچے غذائی تنوع کے کم از کم معیار تک پہنچ پاتے ہیں۔ غذائیت ونگ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ غذائیت کے حوالے سے آخری قومی سروے2011 ء میں منعقد کیا گیا تھا، جس کے بعد نئے سروے کی ضرورت تھی تاکہ اس کی روشنی میں نئی پالیسی مرتب کی جاسکے۔ تقریباً 6 ماہ میں مکمل ہونے والے اس سروے میں یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بچے پروٹین، کاربوہائڈریٹس، وٹامنز اور خوراک کی دیگر اہم چیزیں حاصل نہیں کرپاتے۔انہوں نے بتایا کہ غذائیت سے بھرپور خوراک میں سب سے بڑا مسئلہ اس کی دستیابی ہے کیونکہ پھل، انڈے، گوشت مہنگے ہونے کی وجہ سے عام عوام کی خرید سے دور ہیں جبکہ دیسی کھانوں میں وٹامن بی 12، وٹامن اے، کیلشیئم اور آئرن بمشکل ہی موجود ہوتا ہے۔ جبکہ عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل ساڑھے بیس کروڑ سے زائد آبادی میں سے پانچ کروڑ افراد ایسے ہیں جنہیں پیٹ بھر روٹی میسر نہیں۔ ملک میں غربت و مہنگائی کے باعث غریب افراد اپنی آمدنی کا ستر فیصد خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ امراء کا ایک بڑا طبقہ خوراک وافر مقدار میں میسر ہونے کے باعث استعمال نہ کرکے ضائع کردیتا ہے۔ اس دن کو منانے کا ایک مقصد ضرورت سے زائد میسر خوراک کے حامل افراد کو اس بات کا احساس دلانا بھی ہے کہ وہ طبقاتی فرق کو مٹاتے ہوئے دوسرے افراد کا بھی خیال رکھیں۔ خوراک کے عالمی دن کے موقع پر اس بات کو بھی موضوع بحث بنایا جانا ضروری ہے کہ ہر سال 1.3 بلین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے ، اس ضائع ہونے والی خوراک کے محض ایک چوتھائی حصے سے ہم دنیا بھر میں موجود بیاسی کروڑ سے زائد بھوکے لوگوں کو کھانا کھلا سکتے ہیں۔
قدرت الٰہی نے سرزمین پاکستان کو بیش بہا نعمتوں سے نوازا ہے،زرعی زمین تو قدرت کا بہت بڑا عطیہ ہوتی ہے اورپاکستان اس نعمت سے مالا مال ہے۔پاکستان میں کل قابل کاشت زمین کا رقبہ تقریباً 55 ملین ہیکڑ ہے۔لیکن افسوس کہ اس زمین کا صرف آدھا رقبہ ہی استعمال میں لایا جا رہا ہے جبکہ باقی رقبہ سرمائے کی کمی ،پانی کی قلت ،سرکاری جاگیر اور دیگر مسائل کی وجہ سے بیکار پڑا ہے۔ لیکن پھر بھی ہمارے ملک میں زراعت کا شعبہ سب سے بڑا شعبہ ہے اور ملکی پیداوار کا چوتھا حصہ اس سے ہی حاصل ہوتا ہے، لیکن اس شعبے میں مزید بہتری لا کرہم اپنی برآمدات کو بڑھا سکتے ہیں۔ہر سال کئی ہزار ایکڑ کی فصلیں بارش،سیلاب یا کیڑے وغیرہ لگنے سے تباہ ہو جاتی ہیں۔ حکومت کو ان فصلوں کو محفوظ کر نے کے لئے اقدامات کرنا چاہیے ۔اور کسانوں کے لئے کیڑے مار ادویات ،سپرے اور کیمیائی کھاد وغیرہ کو سستا کرنا چاہیے تا کہ کسان ان کا استعمال کرکے فصلوں کی نشودونما کو مزید بہتر، اور اضافی غذائی پیداوار کا حصول یقینی بناسکیں۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں، اقوام متحدہ جیسے ادارے اور ترقیاتی ایجنسیاں مل کر خوراک کوضائع کرنے والے لوگوں کی ذہنیت کو بدلنے کی کوشش کریں ، خوراک تیار کرنے والے اداروں، سپر مارکیٹوں اور صارفین میں خوراک کو ضائع کرنے والے رویوں کی حوصلہ شکنی کریں کیونکہ کھاتے پیتے گھر کا ہر فرد غذائی اجناس ضائع کرکے، پھینک کر غریبوں کے منہ میں ہاتھ ڈال کر نوالہ نکالنے کا مجرم بنتا جا رہا ہے۔ یہاں اگر ہم صرف اس بات پر غور کر لیں جو حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ ایک دن امام انبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو آپ نے روٹی کا ایک ٹکڑا زمین پر پڑا ہوا دیکھا ، آپ نے اس کو اٹھایا، صاف کیا اور نوش فرما لیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا کہ اچھی چیز کا احترام کیا کرو ، روٹی جب کسی سے بھا گتی ہے تو لوٹ کر نہیں آتی، اور جو چیز زیادہ معلوم ہو وہ کسی حق دار کو دے دیا کر و‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کایہ ارشاد ہمیں بہت کچھ سوچنے اور رزق کی قدر کی دعوت دے رہا ہے۔