قابل تعریف اقدامات ،مگر نامناسب منصوبہ بندی

9

چوہدری ذوالقرنین ہندل
پاکستان تحریک انصاف نے جب سے حکومت سنبھالی ہے، لگاتار مشکلات کا شکار ہے۔الیکشن سے قبل برسر اقتدار جماعت کی طرف سے بلند و بانگ دعوے کئے گئے تھے۔شاید ایسے دعوؤں کو فی الفور عملی جامہ پہنچانا، صرف مشکل ہی نہیں ہے۔بلکہ ناممکن کے قریب ترین ہے۔تاہم وقت کے ساتھ ساتھ، مناسب منصوبہ بندی کے تحت، حکومت عوام کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرسکتی ہے۔برسر اقتدار آنے کے بعد جہاں حکومت مشکلات سے دو چار ہے۔ وہیں اس میں حکومت کی اپنی ناتجربہ کاری اور گزشتہ حکومتوں کی نامناسب منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔موجودہ حکومت کی ایمانداری پر عوام کو ابھی شک نہیں کرنا چاہئے۔انہیں مناسب منصوبہ بندی کا وقت دینا چاہئے۔برسراقتدار حکومت لگاتر اچھے اقدامات اٹھا رہی ہے۔جو واقعی قابل تعریف ہیں۔جیسے کلین اینڈ گرین پاکستان،تجاوزات کا خاتمہ، ہاؤسنگ سکیم ،ٹریفک قوانین کی پابندی اور احتساب وغیرہ۔ تاہم سارے اقدامات نامناسب منصوبہ بندی اور جلد سازی کی نظر ہورہے ہیں۔
گزشتہ روز سے یہ خبر سر گرم عمل ہے ،کہ 20اکتوبر کے بعد پی ٹی اے سے غیر تصدیق شدہ موبائل فون قابل استعمال نہیں رہیں گے۔موبائل صارفین کو 8484نمبر کی طرف سے پیغامات وصول ہو رہے ہیں ،کہ20اکتوبر کے بعد پی ٹی اے سے غیر تصدیق شدہ موبائل فون بند کر دیئے جائیں گے۔تفصیلات جاننے کے لئے 8484پر اپنا IMEIنمبر بھیجیں۔تاہم مختلف موبائل فونز کی طرف سے نمبر بھیجنے پر کوئی خاطر خواہ تفصیلات موصول نہیں ہوتیں۔جواب موصول ہوتا ہے کہ ،کوئی تفصیل موجود نہیں براہ کرم دوبارہ کوشش کیجئے۔یقین مانئے حاکم وقت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے یہ نہایت ہی اچھا اور قابل تعریف اقدام ہے۔تاہم اس اقدام کے پیچھے مناسب منصوبہ سازی نظر نہیں آتی۔یہ اقدام بھی دوسرے اقدامات کی طرح جلد بازی کا شاخسانہ نظر آرہا ہے۔لوگوں کو موبائل فون بند کرنے کے پیغامات تو بھیج دیئے گئے ہیں۔مگر چند چیزیں مد نظر نہیں رکھی گئیں۔آیا حکومت یا متعلقہ ادارے کو، لوگوں میں پی ٹی اے،آئی ایم ای آئی نمبر وغیرہ بارے آگاہی نہیں دینی چاہئے؟کیا متعلقہ ادارے کو پہلے ایسے زرائع کو کنٹرول نہیں کرنا چاہئے جہاں سے پی ٹی اے سے غیر تصدیق شدہ موبائل آتے ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے تھا حکومت ایسے موبائل فونوں کے امپورٹ پر پابندی لگاتی۔لوگوں میں موبائل فونوں کی خریداری بارے آگاہی پھیلاتی۔پہلے سے موجود لوگوں کے پاس موبائل فونوں کو رجسٹرڈ ہونے کا موقع فراہم کرتی۔پھر جا کر کہیں موبائل فونوں کی بندش کا عندیہ دیا جانا چاہئے تھا۔حکومت اپنے ہر آغاز ہی کو اختتام گردانتی ہے۔حکومت کی طرف سے جلد بازی میں کئے گئے یک طرفہ اقدامات، جس میں عوام کو ہر صورت نقصان ہی پہنچے ،کسی صورت قابل قبول نہیں۔موبائل فونوں کی بندش کے فوری اقتدامات پر حکومت کو نظر ثانی کرنا ہوگی۔حکومت کو زمینی حقائق و مسائل اور عوام کی بھلائی کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں۔حکومت کا کام عوام کو سہولیات میسر کرنا ہوتا ہے ۔نہ کہ اپنے جارحانہ فیصلے ان پر مصلت کرنا۔ہر کام کا کوئی طریقہ کار ہوتا ہے ۔پہلے آگاہی دی جاتی ہے۔پھر اس پر عملدرآمد کر وایا جاتا ہے۔
حکومت نے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر کے بڑے بڑے برجوں کو الٹ دیا ہے۔عوام حکومت کے اس اقدام سے کافی خوش بھی ہے۔واقعی حکومت کا یہ اقدام بھی قابل تعریف بھی ہے۔مگر اس اقدام کی گہرائی میں بھی جایا جائے تو علم ہوتا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔بظاہر یہ منصوبہ بہت اچھا ہے اور واقعی اس کے نتائج پاکستان کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔مگر دیکھا جائے تو تجاوزات کے خلاف آپریشن کسی ترتیب کے تحت نہیں کیا جا رہا۔کسی روز دائیں جانب دو کلومیٹر جا کر کوئی عمارت گرا دی جاتی ہے تو کسی روز بائیں جانب۔اس غیر ترتیب شدہ آپریشن میں جہاں مال داروں کو وقت مل رہا ہے۔ وہیں غریبوں کے سر پر کم وقت کی تلوار لٹک رہی ہے۔اگر آپریشن کسی ترتیب کے تحت کیا جائے تو غریب لوگوں کو اپنی باری کا اندازہ ہو جائے اور اپنے مقررہ وقت سے پہلے وہ اپنا بندوبست کر لیں۔ایسے میں عوام کو بھی وقت مل جا ئے گا اور حکومت کا بھی وقت بچ جائے گا۔
اسی طرح پچاس لاکھ گھروں کی اسکیم میں بھی نامناسب منصوبہ بندی نظر آرہی ہے۔وزیر اعظم کچھ کہتے ہیں اور تفصیلات کچھ نظر آتی ہیں۔تاہم اس حکومتی جلد سازی و فیصلے پر بعد میں بھی ردو بدل ہو سکتا ہے۔
حکومت کی نامناسب منصوبہ بندی کے تحت آج عوام سو پیاز اور سو جوتے بھی کھا رہی ہے۔یعنی ٹیکسوں کی بھرمار نے مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ڈالر کی قیمت میں اضافہ کے باعث ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے۔غربت کی ماری عوام مہنگائی کے اس طوفان میں مزید پس رہی ہے۔حکومت ایک طرف عوام پر مہنگائی کا طوفان مصلت کر کے دوسری طرف آئی ایم ایف سے قرض مانگ رہی ہے۔اگر قرض ہی مانگنا تھا تو عوام کو پھر ریلیف کیوں نہیں دیا؟ مانتے ہیں کہ اس میں گزشتہ حکومتوں کا پورا پورا قصور شامل ہے۔مگر یاد رکھئے! کہ عوام کو نہ ہی دیا ہوا ریلیف بھولتا ہے اور نہ ہی مہنگائی۔
حکومتی وزراء کی طرف سی پیک جیسے منصوبے پر نامناسب بیان بازی نے ،اس مفید منصوبے کو متاثر کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ دوبارہ اسے سبوتاز کرنے کی تگ و دو کرہا ہے۔آئی ایم ایف ہم سے سی پیک کی تفصیلات مانگ رہا ہے۔چائنہ ہم سے کترانہ شروع ہوگیا ہے۔خطے میں ہمارا مذاق بن رہا ہے۔حکومت کی یونہی ڈگمگاتی پالیسیاں اور منصوبہ بندی ہر گز وطن کے مفاد میں نہیں۔
اسی طرح ٹریفک قوانین پر پابندی جو کہ نہایت ہی قابل تعریف اقدام ہے۔صرف اسی وجہ سے سوشل میڈیا پر مذاق بنا، کیوں کہ قوانین پر عملدرآمد سے پہلے ان کے بارے آگاہی نہیں دی گئی۔
حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے سارے اقدامات قابل تعریف ہیں۔اور واقعی خالص عوام کی بھلائی کے لئے ہیں۔مگر حکومت اپنے ہر عمل میں جلد بازی کا شکار ہو رہی ہے۔منصوبہ بندی کا فقدان حکومت کے لئے تنقید کے تیر چلا رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج حکومت کا ہر منصوبہ مذاق بن رہا ہے اور عوام مایوس نظر آرہی ہے۔حکومت کو ایک بات زہن نشین کرنی چاہئے کہ وہ ایک سال یا دو سال کے لئے منتخب نہیں ہوئے ۔بلکہ عوام کی طرف پانچ سال کے لئے منتخب کیے گئے ہیں۔اگر حکومت کا رویہ یونہی غیر سنجیدہ رہا۔ تو وہ دن دور نہیں جب انکا نام بھی گزشتہ روایتی حکومتوں کے ساتھ موجود ہوگا۔
حکومت پاکستان کو مناسب و دیرپا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔جس میں دانائی نظر آئے۔جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو۔جس سے عوام کو بھی ریلیف ملے۔تنقیدی تبصروں سے نکل کر مناسب منصوبہ کے تحت عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
عوام کو بھی اپنی منتخب حکومت اور نمائندوں کا ساتھ دینا چاہئے۔اپنے منتخب کردہ نمائندوں پر اعتماد کرنا چاہئے۔شکایات کی صورت میں ان سے رجوع کرنا چاہئے۔بلاوجہ تنقید سے باز رہنا چاہئے۔