افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے دوران دھماکے، درجنوں افراد ہلاک

7

افغان دارالحکومت کابل سمیت ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات کے دروان خودکش حملے، دھماکوں اور پرتشدد واقعات میں درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔  

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پارلیمانی انتخابات کی گہماگہمی دیکھنے میں آئی تاہم چند پولنگ اسٹیشن پر ہونے والے دھماکوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔

کابل کے شمالی علاقے میں ووٹنگ کے دوران ایک خود کش حملہ آور نے پولنگ اسٹیشن کے قریب پہنچ کر خود کو اڑا دیا، ایک سینئر سیکورٹی آفیسر نے بتایا کہ اس حملے میں 10 شہری اور 5 سیکورٹی اہلکار مارے گئے جب کہ 25 زخمی بھی ہوئے۔

قبل ازیں ایک دھماکا انٹیلی جنس آفیسر کی گاڑی کے نیچے نصب بم پھٹنے سے ہوا جب کہ دوسرا دھماکہ قره ‌باغ پولنگ اسٹیشن کے باہر ہوا۔ افغان حکام نے ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے تاہم تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔دھماکوں کے بعد ووٹ ڈالنے کے لیے قطاروں میں کھڑے عوام میں افراتفری مچ گئی۔

اطالوی این جی او کے زیر انتظام اسپتال میں 30 زخمیوں کو لایا گیا ہے جن میں سے ایک کم سن لڑکی دم توڑ گئی۔

افغان وزیرداخلہ نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں پولنگ کے دوران سیکورٹی کے 192 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں مختلف نوعیت کے دھماکے اور پرتشدد واقعات شامل ہیں، ان واقعات میں مجموعی طور پر 17 شہری اور 11 سیکورٹی اہلکار شامل ہیں۔

خیال رہے افغان صوبے قندھاراورغزنی کے علاوہ افغانستان  بھرمیں پارلیمانی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے۔ان انتخابات میں پہلی بار بائیو میٹرک سسٹم استعمال کیا جا رہا ہے۔

انتخابات کے پُر امن اور کامیاب انعقاد کے لیے ملک بھر میں 54 ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جب کہ امریکی اور نیٹو فوج سمیت فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق آج 32 صوبوں میں 90 لاکھ ووٹرز حق رائے دہی ادا کریں گے جب کہ مرکزی پارلیمان کی 232 نشستوں کیلئے 25 سو امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 4 سو 47 خواتین امیدواربھی شامل ہیں۔