سنگین افغان صورتحال

4

چوہدری ذوالقرنین
افغانستان پہاڑوں سے گھرا ہوا خشکی کا خطہ ہے۔جو ایشیاء کے جنوب۔وسط میں واقع ہے۔جس کی 99فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔جس کے ہمسایہ ممالک میں پاکستان،ایران، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور چائنہ شامل ہیں۔
یوں تو صدیوں سے ہی جنگوں اور لڑائیوں کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔افغانستان بھی ایسا ملک ہے، جو موجودہ جدید دور میں بھی خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔گزشتہ چالیس برس کی طویل خانہ جنگی نے افغانستان کی زمین کو سرخ کر دیا ہے۔خطے میں دہشت طاری ہے۔ان گنت جانوں کا نقصان، جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اس جنگی صورتحال کا آغاز 1978میں ہوا۔جب کیمیونسٹ حامی گروپ کی بغاوت سامنے آئی۔تاہم اس سے پہلے بھی افغانوں میں قبیلوں کی لڑائیاں ،برسوں سے لڑی در لڑی چلتی آرہی تھیں۔انہیں بغاوتوں اور لڑائیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے1979کو سویت یونین نے افغانستان میں اپنی فوجی مداخلت شروع کردی۔خانہ جنگی دن بدن بڑھتی چلی گئی۔افغان گروپ متحرک ہوکر روسی اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے لگے۔تاہم اس افغانی لڑائی میں افغانیوں کو امریکہ ،پاکستان، اور سعودیہ کی مدد حاصل تھی۔امریکی جدید اسلحے کی بدولت افغانی دوبارہ اپنے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے لگے۔جہاں افغانستان کی تاریخ خون سے رنگی جا رہی تھی، وہیں سویت یونین بھی اپنی بدترین شکست کی طرف گامزن تھی۔اس خونی جنگ میں لاکھوں افغانیوں نے پاکستان ہجرت کی۔ایک لمبی خونی جنگ کے بعد روسی اور اتحادیوں کو ہار تسلیم کرنا پڑی ،اور سویت یونین نے 1989میں افغانستان سے اپنی فوجوں کو نکال لیا۔
تاہم بات ادھر ہی ختم نہیں ہوتی۔امریکہ جس نے سویت یونین کو شکست دینے کے لئے افغانیوں کی مدد کی انہیں استعمال کیا ،افغانستان کو اپنے اسلحے سے لیس کر کے بے یارو مددگار چھوڑ گیا۔افغانستان میں مختلف گروہ اپنی بالادستی کے لئے آپس میں لڑنے لگے۔آپسی جنگوں کے بعد افغان طالبان کی حکومت سامنے آئی ۔جس میں شریعت کا قانون نافذ کیا گیا۔پاکستان افغان طالبان کا حامی تھا۔مگر امریکہ و دیگر اس حکومت سے خائف تھے۔پھر ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت نائن الیون کا واقع رونما ہوتا ہے۔جسے القاعدہ کے ذمہ ڈالا جاتا ہے۔امریکہ دنیا بھر کی ہمدردیاں سمیٹتا ہے۔مسلمان دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہونے لگتے ہیں۔امریکہ اپنی ہمدردیوں کی بدولت نیٹو اتحاد کے زریعے 2001کو افغانستان میں اپنی فوجیں اتاردیتا ہے۔مکمل کنٹرول حاصل کرتا ہے۔طالبان اور اتحادیوں کی حکومت کا خاتمہ کرتا ہے۔طالبان اور اتحادی دوبارہ جنگی محاذوں پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔امریکہ حامد کرزئی کی کٹھ پتلی حکومت قائم کرتا ہے۔پاکستان بھی امریکی نان نیٹو اتحادی کی صورت میں امریکہ کو ہر طرح کی مدد فراہم کرتا ہے۔پاکستانی چیف ایگزیکٹیو مشرف امریکیوں کو افغانستان میں سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے ہر ممکن راستہ فراہم کرتا ہے۔بہت سے افغانی گروہ پاکستان مخالف ہو جاتے ہیں۔جس کی بدولت پاکستان میں بھی دہشتگردی کی گونج سنائی دیتی ہے۔امریکہ اسی دہشتگردی کی آڑ میں پاکستان میں ڈراؤن اٹیک کی صورت میں مداخلت کرتا ہے۔پھر وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتا ہے۔اسی دوران اسامہ بن لادن کی موت کا ڈرامہ بھی رچایا جاتا ہے۔
امریکہ کو اس جنگ سے پہلے اور درمیان میں بہت سے زرائع نے خبر دار کیا تھا کہ، افغانستان میں مداخلت سے باز رہو۔افغانستان میں فتح حاصل کرنا جتنا آسان ہے، فتح برقرار رکھنا اتنا ہی مشکل ہے۔بہت سے زرائع نے مذاکرات کے زریعے معاملے کو حل کرنے کی بھی تجویز دی۔پاکستان بھی مذاکرات کا حامی ہے۔تاہم امریکہ اپنی طاقت کے نشے میں چور تھا۔امریکہ طاقت کے نشے میں وہ احداف حاصل کرنا چاہتا تھا ،جو وہ ظاہر نہیں کرتا ۔وقت گزرتا گیا ۔امریکہ اپنے اصل احداف جن کی بدولت افغانستان پر قابض تھا نہ حاصل کر سکا۔درحقیت امریکہ براسطہ افغانستان خطے کو کنٹرول نہ کرسکا۔نہ ہی پاکستان پر نہ ہی ایران پر اس طرح سے اثر انداز ہو سکا ،جو اس کے اصل احداف میں شامل تھا۔امریکہ کو اس جنگ میں پسپائی نظر آرہی ہے۔اوپر سے خطے میں ہونے والی تبدیلیوں اور شرکت داریوں نے امریکہ کو پریشان کر رکھا ہے۔امریکہ اس طرح سے ابھرتی ہوئی طاقتوں کو کاؤنٹر نہیں کر پا رہا، جس طرح اس کی چاہ ہے۔امریکہ اپنے حصے میں آنے والی شکست سے خائف ہے۔اور چاہتاہے کہ، سویت یونین کی طرح اسے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔کسی درمیانے طریقے سے نکل جائے۔بالادستی اور عزت بھی قائم رہے۔درحقیت دنیا کو مختلف محاذوں پر الجھانے والا امریکہ خود اس خطے میں الجھن کا شکار بن گیا ہے۔یہی وجہ ہے گزشتہ سالوں سے طرح طرح کے تجربات کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔کبھی پاکستان کو اپنا بڑا اتحادی گردانتے ہوئے تعریفوں کے پل باندھتا ہے۔کبھی پاکستان کو ڈو مور کا حکم دیتا ہے۔کبھی پاکستان کو سنگین دھمکیاں دیتا ہے۔کبھی پابندیاں عائد کرتا ہے۔کبھی افغانستان میں بم باری کرتا ہے۔کبھی مذکرات کو ترجیح دیتا ہے۔کبھی بھارت کو افغانستان میں سرگرمیاں تیز کرنے کی تنبیہ کرتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔گزشتہ امریکی ردو بدل سے صاف ظاہر ہوتا ہے ۔امریکہ بھی اب کے بار بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔افغانستان سے انخلاء چاہتا ہے ،مگر اپنی انا پر سمجھوتا نہیں کر سکتا۔امریکہ جیسی سپر پاور کے طرف سے مذاکرات کے اشارے افغان امن کے لئے نہایت ضروری ہیں۔امید کرتے ہیں کہ ان مذکرات کی بدولت افغانستان کی امنی صورتحال بہتری کی طرف گامزن ہوگی۔گزشتہ روز افغان طالبان کی طرف سے گورنر ہاؤس میں منعقدہ اجلاس کے بعد امریکی کمانڈر اور گورنرز پر جو حملہ کیا گیا ،نہایت تشویش ناک ہے۔جب مذاکرات کی راہ نکل رہی ہو۔ ایسے میں جان لیوا حملے مذکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اور معاملات مزید بگھڑ سکتے ہیں۔دونوں گروہوں کو صبر سے کام لینا چاہئے۔تاہم امریکہ سے کوئی زیادہ امیدیں وابسطہ نہیں رکھنی چاہئیں۔امریکہ ماضی میں بھی سویت یونین کے خلاف جنگ کے بعد افغانستان کو بے یارو مددگار چھوڑ کر چلا گیا تھا۔جس کا خمیازہ پاکستان اور افغانستان کو بھگتنا پڑا۔اب کے بار بھی امریکہ اسی موقعے کی تلاش میں ہے۔امریکہ اب کی بار پھر افغانیوں کو یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا ۔تو یہ پھر گروہوں میں بھٹ کر خانہ جنگی کو فروغ دیں گے۔جس سے افغانستان کے حالات مزید سنگین تر سنگین ہو جائیں گے۔جس سے نبردآزما ہونے کے لئے پاکستان کو زہنی لحاظ سے تیار رہنا چاہئے۔جتنا جلد ہوسکے بارڈر مینجمنٹ کو مکمل کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکہ اور اتحادیوں کو امن امان کی صورتحال بہتر ہونے تک، انخلاء نہ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔امریکہ کو پاکستان سے ایسی امیدیں وابسطہ نہیں رکھنی چاہئیں، جس پر ان کا اختیار ہی نہیں۔امریکہ مسلسل پاکستان کو الجھانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔جہاں تک ہوسکے گا، پاکستان امن کے فروغ کے لئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔کیوں کہ خطے کا امن ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔پاکستان کو اپنا مؤقف قائم رکھنا چاہئے۔اور کسی بہلاوے کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔یہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے۔