کسی کو این آر او نہیں ملے گا، وزیرِاعظم کا دو ٹوک اعلان

10

اسلام آباد: (فلک نیوز) وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ ڈال کر سابق صدر پرویز مشرف کی طرح این آر او لینے کی کوششیں کر رہی ہیں لیکن میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

وزیرِاعظم عمران خان کا سعودی عرب کے کامیاب دورے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم پر اقتدار سنبھالتے ہی قرضوں کا بوجھ پڑ گیا جس کا ہم پر بہت دباؤ تھا، قرضوں کا سارا بوجھ عوام پر مہنگائی کے ذریعے پڑ رہا ہے، ہم نے قرضوں کی قسطیں ادا کرنا ہیں، اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے کہ دوست ممالک سے قرض لیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں قوم کو خوشخبری سنانا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب کی جانب سے ہمیں خصوصی پیکج ملنے کے بعد ہمارے اوپر سے قرضوں کا پریشر ہٹ گیا ہے، انشا اللہ آئندہ چند دنوں میں قوم کو مزید خوشخبریاں سناؤں گا۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ اگر سعودی عرب سے یہ پیکج نہ ملتا تو ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑتا، آئی ایم ایف سے زیادہ قرض لیتے تو اس کا بوجھ عوام پر ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستانیوں کے لیے ویزا فیس کم کر دی ہے، ہم پاکستان میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات پیدا کریں گے۔ ایکسپوٹرز کی مدد کر رہے ہیں، ہم ایکسپورٹ بڑھائیں گے، ایکسپوٹرز کے لیے ونڈ ونڈو آپریشن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تنخواہ دار طبقے کی زیادہ فکر ہے، ہم انشا اللہ اپنی عوام پر زیاہ بوجھ نہیں ڈالیں گے، مجھے عوام کی مشکلات کا احساس ہے۔ ملک برے وقتوں سے گزرتے ہیں، عوام مت گھبرائیں۔

وزیرِاعظم نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم سابق حکومتوں کے نقصانات کو پورا کر رہے ہیں، سابق حکومتیں ورکرز کا ویلفیر فنڈز اور سٹیل ملز ملازمین کے پیسے کھا گئیں، دس سالوں میں انہوں نے جو کچھ کیا اور آج جمہوریت بچانے کھڑے ہو گئے ہیں، دونوں جماعتوں کو ایسی باتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آ رہی۔ دونوں جماعتوں نے دس سال ملک میں حکمرانی کی اور عوام کو بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ ہم پر دباؤ ڈال کر ہم سے این آر او لے لیں لیکن میں ان پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ سارے کان کھول کر سن لیں ایسا کبھی نہیں ہوگا، میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، اپوزیشن جو مرضی کر لے احتساب ہو کر رہے گا۔ عوام سے وعدہ کیا تھا کہ کرپٹ لوگوں کو جیل میں ڈالوں گا، جو مرضی کر لو، ملک میں احتساب کرنا ہے۔

انہوں نے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کوشش کر رہے تھے کہ یمن لڑائی میں ثالث کا کردار ادا کریں، ہم کوشش کریں گے کہ مسلمان ممالک کو اکٹھا کریں، ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک میں لڑائی ختم ہو جائے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن نیچے آ رہی ہے، ہم منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن اپوزیشن جماعتیں نیب کے پرانے کیسز پر بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ہماری حکومت نے تو کچھ بھی نہیں کیا، ان پر کیسز سابق حکومت میں بنے، ہم تو ابھی آڈٹ کروا رہے ہیں۔

عمران خان نے اپوزیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کو پتا ہے کہ یہ کیا کر کے گئے ہیںِ، ان کو پتا ہے جب آڈٹ ہو گا تو ان کی کرپشن سامنے آئے گی، ان کی صرف ایک کوشش ہے کہ ان کو این آر او مل جائے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ کرپشن ختم کیے بغیر ملک کا کوئی مستقبل نہیں، کبھی فالودے والے کے اکاؤنٹ سے پیسے نکل رہے ہیں، یہ پیسہ چوری ہو رہا ہے، یہی پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجا جاتا ہے، ڈالر چوری کر کے بیرون ملک لے جاتے ہیں۔