کرنل معمر قذافی کی ایسی خدمات جو مغربی میڈیا کبھی نہ بتائے گا

39

قذافی نے لیبیا کو ایک فلاحی مملکت میں تبدیل کر کے رکھ دیا تھا،وہ بلا شبہ ایک مطلق العنان آمر تھا مگر اسلام اور مسلمانوں کے درد پر ان کی دلجوئی اور خیر خواہی کرتا تھا، اس نے لیبیا کے 80فیصد صحرائی علاقے کو سرسبز و شاداب کرنے کا ایک ایسا حیرت انگیز منصوبہ بنایا تھا کہ جسے سن کر ہر کوئی دنگ رہ جاتا تھا، وہ صحرا کو سرسبز بنانے کیلئے دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی دریا کو بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔اس نے لیبیا کی عوام کو بے پناہ سہولیات دے رکھی تھیں جس کا تصور جدید ترقی یافتہ یورپی ممالک کی عوام بھی نہیں کر سکتیں۔

لیبیا میں بجلی مفت تھی ، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا تھا.

سود پر قرض نہیں دیا جاتا ، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے.

اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی.

تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت میں فراہم کرتی تھی.

پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل تھیں. قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں .

کسانوں کو زرعی آلات ، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی.

اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجےیا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی.

لیبیا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا ، تو حکومت اُس کو 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی.

پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی.

لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد ہے جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے.

اگر کوئی باشندہ گریجوایشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پا رہا ہوتا تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تاوقتیکہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے.

ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا.

ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرفسے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے.

قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امریکا نے سول آبادی پر اٹھائے جانے والے ’’ مظالم ‘‘ کی وجہ سے لیبیا پر حملہ کیا جبکہ کچھ لیبیا کے تیل کے ذخائر کو حملے کی وجہ گردانتے ہیں لیکن کچھ دور اندیش لوگ ایسے بھی ہیں جو سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ صرف اور صرف قذافی کے سونے کے سکہ ( یا دوسرے لفظوں میں اصلی دولت کو متعارف کروانے ) کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ق

ذافی یہ بات جانتا تھا کہ اس کا یہ خیال اسکی تباہی کا باعث ہو گا ، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری . فوجی حملے کے چند مہینوں بعد بھی اس نے تمام افریقی اور مسلم ممالک کو دعوت دی کہ آئیں اور سونے یا چاندی کے سکوں پر مشتمل حقیقی دولت پر کاروبار کریں . اور خصوصا اپنا تیل ڈالرز کی بجائے سونے کے عوض فروخت کریں .یہ وہ خیال تھا جو کہ دنیا کے معاشی توازن کو مغرب کی طرف سے ہٹا کر مسلم دنیا کے حق میں جھکا دیتا .اور ایسا پہلے بھی ہو چکا تھا .2000 کے آس پاس صدام حسین نے اعلان کیا کہ وہ اپنا تیل یورو (EURO) میں بیچے گا ، نہ کہ ڈالر میں. اور یہی وہ اصل وجہ تھی جس کی وجہ سے پاگل کتوں کی طرح عراق پر چڑھائی کر دی گئی اور صدام حسین کو پھانسی پر چڑھا کر ہی دم لیا گیا .سونے کے سکوں یا دوسرے الفاظ میں حقیقی دولت کا تجارت میں استعمال ، یہ وہ چیز ہے جو کہ دنیا کے معاشی افق پر گہرے اثرات مرتب کرنے کی طاقت رکھتا ہے ، اور نا صرف دنیا کے افق پر بلکہ اسکے علاوہ یہی وہ راستہ ہے جو کہ غریب افریقی ممالک سمیت غلام مسلم دنیا کو بھی معاشی طور پر مغرب سے آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور یہی وہ واحد وجہ ہے جو کہ ان مغربی خداوؤں کو کسی صورت منظور نہیں۔