پی ٹی آئی سندھ میں پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک بنانے کیلیے سرگرم

9

اسلام آباد: تحریک انصاف نے سندھ میں حکومت سازی کیلیے سرگرمیاں تیزکردیں وزیراعظم عمران خان نے فواد چوہدری کوصوبہ سندھ کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیدیا۔

وزیراطلاعات کل کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ سندھ کے مختلف رہنماؤں سے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اوروزیراعظم کا پیغام پہنچائیں گے۔آئی این پی کے مطابق وزیراطلاعات کل کراچی پہنچیںگے جہاں وہ ذوالفقارمرزا، امیر بخش بھٹواور دیگر سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور جے آئی ٹی رپورٹ پر انھیں اعتماد میں لیں گے اور وزیراعظم کا خصوصی پیغام بھی پہنچائیں گے۔ اسٹاف رپورٹرکے مطابق گزشتہ روز جی ڈی اے اور پی ٹی آئی کا مشترکہ اجلاس سندھ اسمبلی میں اپوزیشن چیمبر میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں جی ڈی اے کی جانب سے حسنین مرزا اور نندکمار جبکہ تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے شرکت کی۔ اس موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیراعلیٰ سندھ سے ایک بار پھراستعفی کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلی خود مستعفی ہوجائیں، عہدے پرہوتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ تفتیش پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جی ڈی اے کے پارلیمانی لیڈر حسنین مرزا کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سندھ حق حکمرانی کا اخلاقی ، قانونی، سیاسی جواز کھو چکے ہیں۔ صباح نیوزکے مطابق اس موقع پر جی ڈی اے کی جانب سے اندرون سندھ پییلزپارٹی کیخلاف تحریک چلانیکی تجویزدی گئی جبکہ زیراعلیٰ سندھ کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لانے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہاکہ آصف زرداری کی ممکنہ گرفتاری پر پی پی کے دھڑے بن سکتے ہیں ، انھوں نے دعویٰ کیاکہ پیپلزپارٹی کے 22 ایم پی ایزرابطے میں ہیں۔

ادھر وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے کہ سندھ میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے، سندھ میں ایسا وزیراعلی ہونا چاہیے جو زیرتفتیش نہ ہو۔ کیا سندھ میں گورنر راج کا امکان ہے؟ صحافیوں کے سوال کے جواب میں افتخار درانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو خود سوچنا چاہیے حکومت کیسے چلانی ہے، جمہوریت کا اپنا ایک عمل ہے اور احتساب اسکا حصہ ہے، احتساب کا عمل جمہوریت کو مضبوط کرتاہے ۔ افتخار درانی نے سوال اٹھایا کہ بنا پیسہ جمع کروائے سمٹ بینک کیسے بنا دیا گیا، یہ بتایا جائے نیشنل بینک سے کیسے پیسے لیے گئے، مراد علی شاہ نے بطور وزیراعلی اوروزیرخزانہ سہولت کارکا کردار کیسے ادا کیا۔

سندھ میں اقتدارکی بازی پلٹنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کومتحد کرنے اورپیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی تحریک انصاف کی کوشش پہلے مرحلے میں ناکامی سے دوچارہوگئی،متحدہ مجلس عمل نے فارورڈ بلاک کے ذریعہ حکومت گرانے کے عمل کا حصہ بننے سے انکارکردیا،حکومت سے ناراض تحریک لبیک نے بھی سندھ میں اقتدارکی رسہ کشی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ اوران کی کابینہ ارکان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پرسندھ میں اقتدارکی بازی پلٹنے کے لیے متحرک تحریک انصاف کوابتدائی راؤنڈ میں ہی ناکامی کا سامنا ہے اورسندھ اسمبلی میں 2اپوزیشن جماعتوں متحدہ مجلس عمل اورتحریک لبیک کے 4ارکان نے اقتدارکے کھیل کا حصہ بننے سے انکارکردیا ہے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 68 ہے تحریک لبیک کے 3 ارکان اورمتحدہ مجلس عمل کے واحد رکن سندھ اسمبلی کی بغاوت کے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 64 رہ گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کوکم ازکم 85 ارکان کی ضرورت ہوگی۔

متحدہ مجلس عمل کے رکن سید عبدالرشید نے ہفتے کواپوزیشن جماعتوں کیاجلاس میں شرکت نہیں کی ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں کسی غیر جمہوری عمل کی حمایت نہیں کرینگے ، اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے رکن سندھ اسمبلی حسنین مرزا کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سندھ منی لانڈرنگ کے مرکزی ملزم ہیں عہدے پر رہتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ تفتیش پر اثر انداز ہوسکتے ہیں،پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت وزیر اعلیٰ کو فوری ہٹا دے،تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج گھمن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ منی لانڈرنگ میں مرکزی سہولت کار ہے، ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ اومنی گروپ کو چلاتے رہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کیاجلاس میں مشاورت کی گئی ہے کہ وزیر اعلی کوکیسے ہٹایا جائے۔
جی ڈی اے کا اہم اجلاس 8 جنوری کو کنگری ہاؤس کراچی میں طلب کرلیا گیا ہے جی ڈی اے اجلاس کی صدارت +پطر صاحب پگارا کریں گے ،جنرل سیکریٹری جی ڈی اے کے مطابق جی ڈی اے اجلاس میں سندھ کی تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال سمیت ملکی سیاسی صورتحال پر غور ہوگا اس موقع پر ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ جی ڈی اے سندھ کے مستقبل کیلیے فیصلہ کن کردار ادا کرے گا ۔