انوکھا پھل جس کو کھانے سے کبھی موت نہ آئے !

36

کہتے ہیں پرانے زمانے میں کسی دانا و بینا شخص نے حکمت و ہدایت کی خاطر اس پھل کا تذکرہ کیا تھا کہ دنیا میں ایک عجیب و غریب “درخت” پایا جاتا ہے۔ جو شخص اس درخت کا “پھل” ایک مرتبہ کھائے ہمیشہ جوان و توانا رہے گا اور کبھی اس پر موت طاری نہ ہو گی۔ایک بادشاہ نے سنا تو جی میں آیا “اگر اس درخت کا پھل ملے تو کیا کہنے”۔چنانچہ اپنے مشیروں اور وزیروں سے ذکر کیا۔ سب نے ہاں میں ہاں ملائی کہ “جہاں پناہ اگر اس درخت کا پھل کھا لیں تو رعیت ہمیشہ آپ کے زیرِ سایہ آباد اور خوش و خرم رہے گی۔” غرض بادشاہ نے ایک ہوشیار مشیر کو اس درخت اور پھل کی تلاش میں روانہ کر دیا۔ وہ بے چارہ مہینوں جنگل جنگل، صحرا صحرا مارا مارا پھرتا رہا، لیکن گوہرِ مقصود ہاتھ نہ آیا۔ جس کسی سے ایسے درخت اور پھل کا پتہ پوچھتا، وہ ہنسی اڑاتا کہ “میاں! سودائی ہوئے ہو کیا؟، بھلا ایسا درخت اور پھل بھی ہوتا ہے کیا؟۔”کسی نے اچھا مشورہ دیا کہ، “میاں! کیوں در بدر پھر رہے ہو؟ ٹھنڈے ٹھنڈے جدھر سے آئے ہو، ادھر کو لوٹ جاؤ۔۔۔!” وہ شخص اسی طرح کی نت نئی باتیں سنتا اور اپنی ہنسی اڑواتا رہا۔ لیکن تھا دھن کا پکا، ارادے میں خم نہ آنے دیا اور برابر کوہ و دشت کی خاک چھانتا گیا۔جب ایک برس بیت گیا، اْس علاقے کے گوشے گوشے، چپے چپے میں پھر چکا اور بقائے دوام کے شجر کا کہیں نشان نہ ملا تب مایوس ہو کر اپنے وطن واپس لوٹنے لگا۔ اس قدر محنت اور تکلیف اکارت جانے سے رنج و غم کی کوئی انتہا نہ تھی۔وہ اپنی بدقسمتی پر آنسو بہاتا اور یہ سوچتا جا رہا تھا کہ بادشاہ کو کیا منہ دکھائے گا۔ یکایک معلوم ہوا کہ اس علاقے میں ایک آدمی رہائش پذیر ہے جو ولی اﷲاور قطبِ وقت مشہور ہے۔ اس شیخ عالی مرتبت کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی مشکل بیان کروں تو ممکن ہے مایوسی راحت میں بدل جائے۔چنانچہ یہ سوچ کر وہ چشم پْر نم سے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کی نورانی صورت دیکھتے ہی اپنے آپ پر اختیار نہ رہا۔ ضبط کا دامن ہاتھ سے نکل گیا اور روتا ہوا اس کے قدموں میں جا گرا اس قدر آنسو بہائے کہ شیخ کے پاؤں بھگو دئیے۔شیخ نے اٹھا کر شفقت سے گلے لگایا اور پوچھا “کیا بات ہے؟، اس قدر آشفتہ سری اور پریشانی کا سبب کیا ہے؟ تفصیل سے بیان کرو” اس نے عرض کیا “حضرت!کیا کہوں، جس کام کے لیے اک برس پہلے وطن سے نکلا تھا، وہ کام نہیں ہوا۔ اب سوچتا ہوں، واپس جا کر بادشاہ کو کیا جواب دوں گا۔ اس کے عتاب کا نشانہ بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ آپ میرے حق میں اﷲتعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھ پر رحم کرے۔ بادشاہ کے حکم سے بقائے دوام کے شجر کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ کہتے ہیں اس درخت کا پھل کوئی کھا لے تو حیاتِ جاوداں مل جاتی ہے۔ میں نے اس کی جستجو میں اس ملک کا کونہ کونہ چھان مارا، مگر ناکامی اور مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا، مہربانی فرما کر میری مشکل سہل فرما دیں۔۔!!” یہ سن کر شیخ ہنس پڑا۔ پھر ارشاد فرمایا “سبحان اﷲ! بھائی تو نے بھی سادہ لوحی کی حد کر دی ہے۔ ارے اتنا وقت خوامخواہ ضائع کیا۔پہلے ہی میرے پاس چلا آتا اور معلوم کر لیتا۔ اب گوشِ ہوش سے سن۔ یہ کسی دانش مند کا قول ہے کہ وہ شجر اصل میں”کتاب” ہے اور اْس سے حاصل ہونے والا پھل “علم” ہے۔ تو اور تیرا بادشاہ جہالت کی وجہ سے ظاہری پھل اور درخت کا دھوکہ کھا گئے جبکہ یہ درخت اور پھل تو باطنی ہیں۔اس واقعہ سے علم کی اہمیت کابخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کتاب جیسا “درخت” اور “علم” جیساپھل انشااﷲ کبھی انسان کو مرنے نہیں دے گا اور ہمیشہ توانا رکھے گا۔ اگرچہ انسان ظاہری طور پر اِس دنیا سے کوچ کر جائے لیکن اْس کی کہی ہوئی باتیں، لکھی گئی کتابیں اور دئیے گے لیکچر اْسے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھیں گے۔ اور لوگ مرنے کے بعد بھی اْس کی جلائی ہوئی شمعِ ہدایت سے فیض یاب ہو تے رہیں گے۔