اگر آپ کو یہ نوکری نہیں آتی تو یہ کیوں کرتے ہو؟مجھے کرکٹ نہیں آتی تو نہیں کھیلی ٗ آصف علی زر داری کی وزیر اعظم پر تنقید

17

بدین(این این آئی) سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آپ کو یہ نوکری نہیں آتی تو یہ کیوں کرتے ہو؟مجھے کرکٹ نہیں آتی تو نہیں کھیلی ٗ آپ میرے خلا ف ایک نہیں پچاس کیسز بناؤ ٗ بیوقوفوں اور جاہلوں کے ہتھکنڈوں سے نہیں ڈریں گے ٗماضی میں ان کیسز کا سامنا کیا۔اور اب بھی مقابلہ کرونگا ،ہم لوگوں کی رگ رگ میں جمہوریت بستی ہے ٗ پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے بلوچستان اور خیبرپختونخواکو کیا چاہیے ٗغیر جمہوری قوتوں کو سوچنا ہوگا کہ ملک اس وقت کہاں جارہا ہے؟حکومت عوام کی خدمت نہیں کر رہی، پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر عوام کے لیے کام کریگی ۔ اتوار کو یہاں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر نے کہاکہ دل چاہتا ہے کہ مادری زبان میں بات کروں لیکن اسلام آباد والے اندھے، گونگے اور بہرے ہیں لہذا مجھے اردو میں بات کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ کچھ سمجھ لیں۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں چھ مہینے میں کچھ نہیں ہوسکتا یہ بہت کم ہیں، میں نے ایک ہفتے سب اسٹاک والوں کو بلایا اور ٹیکس نہیں لگنے دیا، اسحاق ڈار نے ٹیکس لگائے ۔انہوں نے وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اس نے کشکول لیا ہوا ہے، کہیں سے دو، کہیں سے تین ارب ڈالر کی بات کرتے ہیں ٗ کپتان کے آنے سے پہلے اسٹاک مارکیٹ 90 بلین ڈالر تھی، 50 بلین ڈالر اسٹاک مارکیٹ سے اڑ گیاجو غریب کا پیسہ تھا۔انہوں نے کہاکہ جب آپ کو یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں تو نوکری کیوں کرتے ہو، مجھے کرکٹ نہیں آتی تو میں نے کھیلنے کی بھی کوشش نہیں کی۔سابق صدر نے کہا کہ میں نے سیاست کو سیکھا ہے اور اسی لیے میں سیاست کر رہا ہوں جبکہ سیاست کی استاد میری محترمہ بینظیر بھٹو ہیں جنہوں نے مجھے سیاست سکھایا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم لوگوں کی رگ رگ میں جمہوریت بستی ہے اسی لیے ہمیں پتہ ہے لوگوں کو کیا چاہیے اور ہم ان کیلئے اسی طرح اقدامات کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بچے بچے کو معلوم ہے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو کیا چاہیے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت قلیل مدتی اقدامات کر رہی ہے اور اتنیمدت میں تو ہمارے آم کے باغات تیار نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اب خیال آیا ملک کو خطرہ ہے، ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں اور الیکشن سے پہلے بھی آگاہ کیا تھا اس کے بعد بھی کہا اس سے کام نہیں چلے گا، فائل دیکھ کر سائن کرنے سے کام نہیں چلے گا، بیوروکریٹ کو نہیں پتا، یہ لوگ آگے کی گائیڈ لائن نہیں دیں گے، لوگ آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے، کام ہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی خدمت نہیں کر رہی، بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آکر عوام کے لیے کام کرے گی۔ایک مرتبہ پھر اپنے حریفوں کو للکارتے ہوئے کہا کہ آپ میرے خلاف ایک نہیں بلکہ 50 کیسز بناؤ کیونکہ میں نے ماضی میں بھی ان کیسز کا سامنا کیا ہے اور اب بھی ان کا مقابلہ کروں گا۔انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں کو سوچنا ہوگا کہ ملک اس وقت کہاں جارہا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ ’مجھے بی بی نے عوام کی خدمت کرنے کی ذمہ داری دی ہے اور ہم عوام کی ذمہ داری قبر تک نبھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم طوفانوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں بلکہ ہم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔شریک چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ہم نے جیل سے بیٹھ کر بھی الیکشن جیتا ہے جس کی مثال شرجیل انعام میمن کی ہے جنہوں نے جیل میں رہ کر انتخابات میں حصہ لیا اور غریب عوام نے انہیں ووٹ دے کر کامیابکیا حالانکہ کے ان کے مقابلہ میں ایک امیر شخص کھڑا تھا ۔سابق صدر آصف زدراری نے کہا کہ مجھ پر الزام لگاؤ کہ میں نے تمام صوبوں کو حق دیا، کیس چلاؤ اور پھانسی چڑھادو، مجھے قبول ہے لیکن بکری شکری کا ڈرامہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی باتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی ذمہ داری قبر تک نبھاتے رہیں گے جبکہ بی بی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کا مشن آگے لے کر جاناہے ٗ آپ شہید رانی کی سوچ اور لوگوں کے دلوں سے ڈرا نہیں سکتے، آپ کوشش جاری رکھیں، ہم مقابلہ جاری رکھیں گے۔