پومپی …دفن شدہ شہر

35

79بعد از مسیح…پومپی میں زندگی کی اچانک موت میں تبدیل ہوگئی۔ آتش فشاں پہاڑ آگ اگلنے لگا … سیاہ دھواں چاروں جانب پھیل گیا۔ آبادی کی اکثریت خوف و ہراس کاشکار ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو اپنے گھروں میں بند کرلیا۔ وہ یہ امید رکھتے تھے کہ مصیبت کی یہ گڑھی بالآخر ٹل جائے گی۔ لیکن وہ بھی بچ نہ سکے اورزہریلے دھوئیں کے اثرات کی بدولت موت سے ہمکنار ہوگئے۔ ان کی لاشیں زیر زمین دب کر رہ گئیں اورقریب 1600برس تک زیر زمین دبی رہیں۔ اس سانحہ کا ریکارڈ ایک رومن لکھاری پلنی دی ینگر نے رکھا جو بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور ایک محفوظ مقام پرکھڑا تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کاچچا پلنی دی ایلڈردیگر شہریوں کے ہمراہ موت سے ہمکنار ہوچکا تھا۔ آج لوگ اس قصبے کا اختتام دیکھ سکتے ہیں۔ 18ویں صدی میں پومپی کی کھدائی کاکام شروع ہوا اور اس کھدائی کے نتیجے میں روم کے اس قصبے کی جس زندگی کاا نکشاف ہوا وہ کسی بھی لکھے گئے لفظ سے بہتر طورپر جانا جاسکتاتھا جوں ہی آتش فشاں پہاڑ کی راکھ کو کھود کر عمارات کوباہر نکالا گیا ماہرآثارقدیمہ کو وہ دکانیں دیکھنے کو ملیں جن میں ڈبل روٹی… مچھلی… گوشت… دالیں اوردیگر اشیائے خوردونوش کی باقیات موجود تھیں۔ اس کے علاوہ عوامی غسل خانے…کھیلوں کے مقامات اور تھیٹر وغیرہ بھی منظر عام پرآئے۔ کھدائی کی بدولت برآمد ہونے والی عمارات سے اس قصبے کے مکینوں کی شاندار طرز زندگی کا اندازہ لگانا مشکل نہ تھا۔ ان کے مکانات کھانے کے کمروں …رہائشی کمروں اورسونے کے کمروں پرمشتمل تھے۔ پومپی میں قصبے کی زندگی کا مرکز فورم تھا۔ اس میں عوامی عمارات… عبادت گاہیں تھیں اوربادشاہوں کے مجسمے بھی نصب تھے۔ قصبے کی سیاسی زندگی کے آثار بھی ملے تھے۔ دیواروں پرسیاسی نعرے درج تھے۔ پومپی کے نزدیک ہی ایک اورآبادی آتش فشاں پہاڑ کاشکاربنی تھی۔ یہ آبادی آتش فشاں پہاڑ کے لاوے سے تباہی سے ہمکنار نہ ہوئی تھی بلکہ کھولتی ہوئی گیلی مٹی (کیچڑ) سے تباہی سے ہمکنار ہوئی تھی جو مکانوں پربرسی۔ یہ کھولتے ہوئے لاوے کی نسبت مکانات کی تباہی کا کم باعث ثابت ہوئی تھی۔ اس مٹی نے مکانات کو محفوظ بنادیا تھا جو کہ اب اپنی اصلی حالت میں واپس لائے جاچکے ہیں جواٹلی میں دوہزار برس بیشتر گزاری جانے والی زندگی کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔