بین الاقوامی ماہرین کا روزمرہ استعمال کے کیمیکل ’ٹرائی کلوسن‘ پرپابندی کا مطالبہ کردیا

7

سائنسدانوں کی بین الاقوامی ٹیم نے امریکی اداروں سے کہا ہے کہ وہ کاسمیٹکس ، صابن اور شیمپو میں استعمال ہونے والے مشہور کیمیکل ٹرائی کلوسن اور دیگر کے استعمال پر نظر ثانی کرے جبکہ ٹرائی کلوسن پر پابندی عائد کی جائے۔

ان ماہرین نے ایک رپورٹ میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ( ایف ڈی اے) سے درخواست کی ہے کہ ٹرائی کلوسن چراثیم کش صابن کے علاوہ دیگر ہزاروں اشیا میں استعمال ہوتی ہے۔ ایک جانب تو یہ بیکٹریا اور جراثیم کا اچھی طرح خاتمہ نہیں کررہی، دوم اس سے انسانی صحت متاثر ہورہی ہے اور سوم اس کا فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہورہا ہے۔ اسی لیے ماہرین نے اس پر پابندی یا پھر کم سے کم استعمال کی تجویز دی ہے۔اگرچہ ایف ڈی اے ٹرائی کلوسن، ٹرائی کلوکاربن اور 17 دیگر جراثیم کش کیمیکلز کا صابن ، ہینڈ واش اور باڈی واش میں استعمال پر پابندی عائد کرچکی ہے لیکن اب بھی یہ کیمیکل پلاسٹک، کھلونوں، ٹوتھ پیسٹ اور دیگر گھریلو چیزوں میں استعمال ہورہے ہیں۔

ماہرین نے 25 صفحات کی رپورٹ شائع کراتے ہوئے کہا ہے کہ ایف ڈی اے ان کیمیکلز پر مکمل پابندی عائد کرے کیونکہ اس سے تھائی رائیڈ ہارمون میں کمی واقع ہورہی ہے ، یہ اینٹی بایوٹکس ادویہ کو ناکارہ بنارہے ہیں اور جلد کے سرطان کی وجہ بھی بن رہے ہیں۔

ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ڈیوڈ اینڈریو کے مطابق کاسمیٹکس، شیمپو اور صابن کے  علاوہ کپڑوں، کریڈٹ کارڈ، کمبل، فرنیچر اور کھلونوں میں بھی استعمال ہورہے ہیں اور ان کے استعمال کی کوئی حد اب تک جاری نہیں کی گئی ہے۔

تاہم ٹرائی کلوسن استعمال کرنے والے اداروں نے اس رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات سے ٹرائی کلوسن پہلے ہی نکال باہر کررہے ہیں جبکہ اس کیمیکل کے کچھ فائدے ٹوتھ پیسٹ میں معلوم کئے گئے ہیں جو مسوڑھوں کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں۔