نوازشریف کے دل بڑھنے کی بیماری میں کوئی خصوصی علاج درکارنہیں ، ان کے ساتھ کیا سلوک کیاجائیگا؟ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا

11

لاہو ر(این این آئی) صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ عوام اور میڈیا کے سامنے پنجاب انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی کی جاری کردہ رپورٹ ہے جس کے مطابق میاں نواز شریف کے ٹیسٹ کی دس میں سے 9 رپورٹس بالکل نارمل ہیں صرف ایک میں مسئلہ ہے۔ اس ایک آپشن کی تفصیل میں نے ہارٹ سرجن اور ماہرِامراض سے پتا کی ہے۔ انکے مطابق کوئی بھی مریض جو پچھلے 20 یا25 سالوں سے بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہےاس کے لیے یہ عام سی بات ہے کہ اس کے دل کا نچلاحصہ تھوڑاسا بڑا ہو جاتا ہے۔ ہسپتال داخل ہونا بالکل ضروری نہیں بلکہ ان کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ادویات وقت پر لیں اور نمک اور چکنائی سے پرہیز کریں۔ میری تودُعا ہے کہاللہ تعالی سب کو صحت و تندرستی د ے کیونکہ یہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے پنجاب اسمبلی کے باہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے قومی کھیل اور قومی لباس کی حفاظت کی جاتی ہے اسی طر ح قومی مجرم کی حفاظت بھی لازم ہے۔ملکی خزانے کو لوٹنے کے بعد بھی نواز شریف صاحب کو اتنا پروٹوکول مل رہا ہے۔ شریف فیملی کو نواز شریف سے ملاقات سے کبھی نہیں روکا گیا، ان کے کھانے گھر سے بن کر آتے ہیں اوراس کے علاوہ بھی انہیں قانون کے مطابق ہر ممکن سہولت مہیا کی گئی ہے۔صوبائی وزیر کامزید کہنا تھا کہ اب مریم نواز والد کی بیمار ی کو بہانہ بنا کر یا تو انہیں باہر کے ملک بجھوانے کے چکر میں ہیں یا پھر حکومتی پوزیشن خراب کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہیں۔میں آل شریف اور مریم نواز صاحبہ سے گذا رش کرتا ہوں کہ آپ جھوٹ بولنااور عوام کو جذباتی بلیک میل کرنا چھوڑدیں۔آپ نے اسمبلی کے فلور پر جھوٹ بولا،آپ نے سپریم کورٹ کے احاطے میں جھوٹ بولا، آپ نے عوام کے سامنے جھوٹ بولا،آپ نے جلسوں میں جھوٹ بولا،آپ ہر جگہ جھوٹ بول بول کر اب اس پوزیشن میں آ گئے ہیں کہ پوری دنیا آپ پر ہنس رہی ہے۔آل شریف اور نواز شریف صاحب بالکل نارمل ہیں لیکن یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ پاکستان کی 22کروڑ عوام ابنارمل ہے جو ان کے جھوٹوں پر یقین کر لے گی۔یہ اکیسویں صدی ہے، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کی صدی ہے یہاں پر ہر چیز فورا سامنے آ جاتی ہے جیسے نواز شریف صاحب کی یہ رپورٹ آپ سب کے سامنے ہے اوردودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو چکا ہے۔فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھاکہ سانحہ ساہیوال کی وجہ سے عمران خان صاحب سمیت پوری قوم شاک میں ہے اس لئے ہم نے اس پر کوئی بیانات نہیں دئیے ،نہ ہی کوئی سیاست کھیلی۔حمزہ شہباز نے کل 6منٹ کی تقریر میں ایک دفعہ بھی نظریں اٹھا کر نہیں دیکھا کیونکہ ان کی نظروں کے سامنے سے ماڈل ٹاؤن کا واقع گزررہا تھا جس میں بزرگوں اور نوجوانوں ، خواتین اور بچوں پر ظلم اور بربریت کا پہہاڑ توڑا گیا تھا۔