پنجاب اور وفاق میں حکومتوں کا دھڑن تختہ، پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ (ق) سے رابطے تیز ،پیپلزپارٹی نے چوہدری پرویز الٰہی کو بہت بڑی پیشکش کردی

74

اسلام آباد (آن لائن) ذمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب اور وفاق میں پی ٹی آئی حکومتوں کا دھڑن تختہ کرنے کیلئے مسلم لیگ (ق) سے رابطے تیز کردیئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے چوہدری پرویز الٰہی کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد ختم کردیں تو انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے گا ۔ پیپلز پارٹی نے اپنی پیشکش میں یہ یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کی بھرپور سپورٹ کریں گےاورمسلم لیگ (ق) کو وفاق میں دونوں جماعتوں سے تعاون کرنا ہوگا ۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم لیگ (ق) سے روابط بڑھانے اور سندھ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے قابل بھروسہ رہنما نے چوہدری پرویز الٰہی کو یہ پیشکش دی اور یہ بھی یقین دہانی کروائی کے اس پیشکش کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ پیشکش سمجھا جائے ۔ چوہدری پرویز الٰہی نے پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے مشورہ کرکے جواب دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ واضح رہے کہ پنجاب میں اس وقت مسلم لیگ (ق) کی دس سیٹیں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف چھ سیٹیں ہیں اس طرح دونوں جماعتیں مسلم لیگ (ن) کے کندھے پر بیٹھ کر پنجاب میں اقتدار سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوسکتی ہیں پنجاب میں اگر متوقع اتحاد ہوگیا تو وفاق میں مسلم لیگ (ق) کی پانچ سیٹیں بھی اس فطری اتحاد میں شامل ہوجائینگی سیاسی حلقے مسلم لیگ (ق) ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اتحاد کو فطری اتحاد قرار دے رہے ہیں کیونکہ مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پہلے بھی میثاق جمہوریت کے مزے لے چکے ہیں اور پھر اتحاد کا اعلان کرچکے ہیں اس طرح پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کا اتحاد بھی کامیاب رہ چکا ہے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے براہ راست مداخلت کرکے اگر مسلم لیگ (ق) کے قائدین کے وقتی طور پر راضی بھی کرلیا تو عارضی علاج ہوگا لیکن مسلم لیگ (ن) ، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کی بڑے اتحاد کیلئے پیش قدمی جاری رہے گی کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ان تمام جماعتوں کی مرکزی قیادت کو ہر طرف سے ریلیف مل سکتا ہے ۔