کسی کو ہم نہ ملے اور ہمیں تو نہ ملا

20

انتظار کی گھڑیاں ختم اب فیصلے کا وقت آپہنچا ہے،جب سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب گلگت بلتستان کے نجی دورے پہ آیا تھا اس وقت وہ بہت متاثر ہوئے تھے اور جی بی کیس کے سماعت کے دوران انہوں نے کئی مواقع پر اس بات کا برملا اظہار بھی کیا کہ جی بی کے عوام پاکستان کے ساتھ وفادار ہیں، وہاں کے ہر پتھر پر پاکستان لکھا ہوا ہے ایسے محب وطن پاکستانیوں کو مزید حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا،اسی طرح کے اور بھی بہت ساری باتیں کہی تھی جس سے یہاں کے عوام سپریم کورٹ اور چیف جسٹس صاحب سے امیدلگائے بیٹھے تھے، لیکن جب7 جنوری کو سپریم کورٹ نے جی بی حقوق کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کیا تو اپنے ایک کالم کے ذریعے چند باتوں کی طرف اشارہ کیا تھا جس کا نتیجہ اب سامنے آیاہے جی بی کے عوام پر 2009 سے اب تک مسلسل مختلف نام اور مختلف انداز میں آڈر پہ آڈر جاری کرتے جارہے ہیں 2009 میں جاری کردہ نیم صوبائی سیٹ اپ کاخاتمہ اور جی بی آڈر 2018 جیسے قوانین کی اطلاق سے یہاںکے عوام میں کافی تشویش پائی جارہی تھی لیکن نئی حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے تبدیلی کے بلند و بالا نعرے اور وزیر اعظم عمران خان کا عبوری صوبہ بنانے کے اعلانات ساتھ ہی سپریم کورٹ میں جی بی حقوق کے حوالے سے پہ در پہ سماعت سے عوام میں ایک خوشی دیکھنے کو مل رہی تھی اور اس امید کے ساتھ یہاں کے عوام اطمنان کا سانس لے رہے تھے کہ اب عمران خان کی حکومت ہی ہماری نجات دہندہ ہے اور یقینا تبدیلی کے بلند و بانگ نعرے بھی اپنے کام کر دکھائیگا لیکن جب کمیٹی پہ کمیٹی اور سماعت پہ سماعت کے بعد 7 جنوری کو فیصلہ محفوظ ہوا تو عوام میں شدت سے بے چینی پائی جارہی تھی البتہ اللہ اللہ کرکے دس دن گزرگئے اور 17 جنوری کا دن آیا تو جس فیصلے کا شدت سے انتظار تھا وہ بھی کانوں سے ٹکرانے لگی کہ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے جاتے جاتے ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے والی مثال قائم کرکے چلے گئے ہیں نہ ہی ہماری بنیادی حقوق کیلیے کوئی لائحہ عمل طے کیا نہ ہی ہماری شناخت کا باقاعدہ اعلان کیا بلکہ بہتر سال پہلے سے جی بی عوام جس انداز میں تھے اسی کی مبارک بادی کے ساتھ خود اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے جبکہ میں پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر کرچکا ہوں کہ جب اقوام متحدہ کے قراداد کے مطابق جی بی پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بن سکتا تو ہر دفعہ نئی بوتل میں پرانے شراب پیش کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کے مطابق اگر یہ خطہ متنازعہ ہے تو متنازعہ علاقہ کے حقوق اور قوانین نافذ ہونا چاہیے تاکہ کم از کم یہاں کے عوام اپنی حقوق کی خود حفاظت کرسکے البتہ اس دفعہ سپریم کورٹ کے فیصلہ اتنا مایوس کن بھی نہیں ہے جتنا کچھ لوگ اس کو مایوس کن بناکر پیش کیا جارہا ہے۔ اس میں چند نکات قابل غور ہیں اس حکم نامے کے مطابق بہترسالوں بعد جی بی عوام کو سپریم کورٹ آف پاکستان تک رسائی تومل گئی سپریم کورٹ نے یہ بات بھی واضح کردی ہے کہ ہم متنازعہ علاقہ ہے تو اب ہمیں مزید آئینی صوبے کے کھوکھلے نعرے لگانے کے بجائے متنازعہ علاقے کے قوانین اور حقوق کے لیے کوشش کرنی چاہیے، ہمیں اپنے فیصلے کو اپ اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف میں لے جانا چاہیے کہ اگر ہم متنازعہ ہی ہے تو کس بنیاد پر ہمارے رائلیٹی سے حکومت فائدہ اٹھاتی ہے، جب ہم متنازعہ ہے تو کیسے سی پیک جیسے راہداری اس متنازعہ خطے سے گزررہے ہیں متنازعہ علاقے میں بادشاہ ڈیم کی تعمیر کس قانون کے مطابق ہونے جارہی ہے یہی متنازعہ علاقہ ہی ہے جو دنیا بھر میں امن اور سیاحت کے نام پہ ملک کا نام روشن کررہا ہے،ہمارے حکمران دنیا کی دوسری بلند چوٹی پر فخرکرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ وہ چوٹی بھی اسی متنازعہ علاقے میں ہی واقع ہے لیکن جب ہمیں حقوق دینے کی بات آتی ہے تو متنازعہ حثیت یاد آجاتی ہے،ان باتوں سے یہی سمجھ میں آتا ہے یہاں بات صرف متنازعہ حیثیت کی نہیں بلکہ معاملہ کچھ اور لگتا ہے لہذا اب ہمیںمزید ان بے حس حکمرانوں سے امید لگانے کے بجائے اپنے حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی عدالتوں میںآواز اٹھانے کی ضروت ہے اور اب یہی ایک راستہ ہی بچا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں ورنہ تو باقی تمام طریقے آزماچکے جن سے مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوسکا اب جی بی کے تمام اسٹیک ہولڈرز، علمائے کرام، قوم پرست راہنما، اور سیاسی پارٹیوں سمیت ارکان اسمبلی و ارکان کونسل کو ایک ساتھ ملکر ہمارے مسائل کوعالمی عدالتوںمیں اٹھانا چاہیے بصورت دیگر اگر یونہی آپس میں پراکندہ رہوگے تو ہمیشہ غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبورہونگے سیاسی و مذہبی پارٹیوں میں تقسیم ہوتے رہوگے یاکوئی قوم پرستی کوئی وفاق پرستی کا شکار رہوگے تو کبھی بھی ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کرسکیں گے۔ یہی تفرقہ بازی اور پارٹی بازیاں ہی ہے جو آج تک ہمیں اپنے حقوق سے محروم رکھا ہے کبھی لسانیت کو درمیان میں لایا جاتا ہے تو کبھی علاقیت کو ہوا دی جاتی ہے کبھی مذہب کو ڈھال بنایا جاتا ہے تو کبھی سیاست کو ،ہم سمجھتے کیوں نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے اور ہم کتنے آسانی سے ان سازشوں کا حصہ بنتے جارہے ہیں جس طرح ہماری خمیر میں وطن سے وفاداری شامل ہے اسی طرح ہماری رگوں میں علاقائی خون بھی ڈورتے ہیں۔اگر بہتر سالوں سے ہم نے الحاق کے لیے کوششیں کی جسے کامیاب نہ ہونے دیااگر حکمرانوں کو ہماری ضرورت محسوس نہ ہوئی توہم انصاف کے لیے ایک دفعہ عالمی عدالتوں میں آواز اٹھائیں ممکن ہے اس میں ہماری کامیابی ہو،چونکہ بغیر کسی محنت کے جو چیز بھی پیش کیا جاتا ہے اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہوتی ہمارے آباو اجداد نے جب اپنے مدد آپ ڈوگروں سے آزاد کرا کر اس خطے کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا تبھی تو آج تک ہمیں لٹکائے رکھا ہے اگر اس خطے کی حصول کیلے ریاست کو معمولی بھی زحمت کرنی پرٹی تو آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا جبکہ ہمارے اس خطے کی حصول کے لیے دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں سرتوڑ کوشش کررہی ہیں لیکن ہمارے حکمران بے حسی کے آخری درجے پر ہیں اور ہم ہے کہ بہتر سالوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں کہ آج نہیں تو کل ہم پاکستانی بنیں گے۔جب ہم ڈنڈوں کے ذریعے بغیر کسی مدد کے اپنی مدد آپ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرسکتے ہیں تو آج ہم اپنے حقوق بھی لے سکتے ہیں اس کے لیے شرط ہے کہ سب ایک نکتے پر جمع ہوجائیںچونکہ جب تک ہم اپنی طاقت اور اہمیت کو نہیں جانیں گے ہم کامیاب نہیں ہوسکتے۔لہذا آخر میں یہی التماس ہے کہ سب مل کر ایک دفعہ جذبات کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر غور کریںاور اسی فیصلے سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی عدالتوں سے رجوع کرکے ہماری حثیت کو واضح کرائیں چونکہ سپریم کورٹ کو ہماری متنازعہ حیثت تو نظر آگیا لیکن متنازعہ حقوق نظر نہیں آیا، صرف کہنے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ اگر ہم واقع متنازعہ ہی ہے تو متنازعہ علاقے کی قوانین اور حقوق بھی بحال ہونی چاہیے تاکہ ہماری حقوق کی تحفظ اورمستقبل کا فیصلہ کسی اور کے بجائے ہم خود کرسکیں۔
شریک جرم ہی ہوگا جو اب رہا خاموش.
قسم خدا کی یہ مٹی وفا کو ترسے گی.