پاکستان جذام کے مرض پر قابو پانے کے بیشتر اہداف حاصل کرنے میں کامیاب

19

اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہر سال جنوری کے آخری اتوار کو ’عالمی یوم جذام‘ منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر کے افراد میں جذام (کوڑھ) کے مرض سے متعلق لوگوں میں شعور بیدار کرنا ہے، کیوں یہ مرض کچھ دہائیاں قبل دنیا کا خطرناک ترین مرض تھا۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اس مرض کے متاثرہ افراد بہت زیادہ تھے۔تاہم ملک میں اس مرض کے علاج میں اس وقت پیش رفت ہوئی جب 6 دہائیاں قبل ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمنی سے پاکستان تشریف لائیں اور یہاں پر مرض کیسنگینی کو دیکھ کر یہیں کی ہو کر رہ گئیں۔ پاکستان سے جذام کے مرض پر قابو پانے کے اہداف حاصل کرنے میں ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا، اگرچہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے 2 سال گزر چکے ہیں، تاہم قوم اب بھی انہیں یاد کرتی ہے۔ عالمی یوم جذام کے موقع پر کراچی میں واقع ماری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں اب بھی سالانہ جذام کے 400 مریض رجسٹرڈ ہوتے ہیں، تاہم مجموعی طور پر پاکستان اس مرض کے علاج کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ماری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے چیف ایگزیکٹو افسر مارون لوبو کے مطابق لیپروسی سینٹر نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جذام کے خاتمے کے لیے جاری کردہ ہدایات اور حکمت عملی برائے 2016 سے 2020 کے اہداف مکمل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی ہر سال اوسطا 400 نئے مریض رجسٹرڈ کئے جاتے ہیں، جب کہ سے زیادہ مریض صوبہ سندھ میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں ۔ بیان میں کہا گیا کہ صوبہ سندھ میں نئے مریضوں کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہے اور سال 2018 میں سندھ بھر میں 194نئے مریض رجسٹرڈ کیے گئے جو ملک کے مجموعی مریضوں کا 47 فیصد ہیں۔ ساتھ ہی بیان میں کہا گیا کہ سندھ میں جذام کے سب سے زیادہ مریض دارالحکومت کراچی میں رجسٹرڈ ہوئے۔ لیپروسی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں سندھ کے بعد خیبر پختونخوا میں 24 فیصد اور پنجاب میں 22 فیصد مریض رجسٹر کیے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیپروسی سینٹر میں گزشتہ 6 دہائیوں سے جذام کے 57 ہزار 960 کے مریض رجسٹرڈ کیے گئے، جن میں سے 99 فیصد مریضوں کا علاج مکمل ہو چکا ہے اور ان میں سے 91 فیصد مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو کر عام زندگی گزار رہے ہیں۔