شہباز شریف کااحتساب۔۔۔ تاریخ کا سبق

30

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی
شہباز شریف کو نیب کی قید میں سوا سو دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔شہباز شریف پاکستانی سیاست میں ایک مضبوط حیثیت کے حامل ہیں۔پرویز مشرف نے جب شریف خاندان کو دس سال جلاوطن رکھا تو اُس وقت بھی شہباز شریف کے لیے یہ آفر موجود تھی کہ شہباز شریف وزیر اعظم بن جائیں۔لیکن شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کے راستے میں کانٹا بننے کی بجائے خاموشی سے جلاوطنی کاٹی۔ شہباز شریف بہت عرصہ تک کینسر جیسی موذی مرض میں مبتلا رہے اُنہیں کمر میں بھی درد رہتی ہے۔ حال ہی میں تین معتبر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو گردوں میں انفیکشن ہے اِس کے علاوہ چھاتی میں بھی انفیکشن ہے اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹروں کے بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ شہباز شریف کو کینسر کا مرض پھرسے لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔پاکستان کے ایک مشہور انگریزی اخبار نے یہ رپورٹ جاری کی ہے۔ڈاکٹروں کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ شہباز شریف کو تازہ آب ہوا کا بہم پہچایا جانے از حد ضروری ہے تاکہ کینسر کے مرض کو دوبارہ لگنے سے روکا جاسکے۔
بہرحال ناقدین جو کچھ بھی کہیں لیکن شہباز شریف کی صحت اچھی نہیں ہے وہ ایک قومی رہنماء ہیں اور سیاست کی پُرخار وادی میں اُنھوں نے ایک لمبا عرصہ گزارہ ہے۔اِس وقت پاکستان مسلم لیگ ن کے وہ سربراہ بھی ہیں قائد حزب اختلاف بھی ہیں۔ایک بات تو طے ہے کہ شہباز شریف ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے کافی حد تک قابل قبول ہیں۔ شہباز شریف نواز شریف پر پابندی لگنے کے بعد بھی سیاست میں متحرک رہے۔ گو کہ نواز شرہف نا اہل ہوچکے ہیں لیکن شہباز شریف نے قیادت کا حق ادا کیا اور ن لیگ کو بکھرنے بھی نہیں دیا ۔ ن لیگ نے ایک کروڑ اُنتیس لاکھ ووٹ لے کر ثابت کیا کہ ن لیگ تمام تر مشکلات کے باجود اِس وقت کی ایک حقیقت ہے۔ ن لیگ قومی دھارے کی سیاسی جماعت ہے اِس کو منظر سے غائب کرنے سے ملکی یک جہتی کو نقصان پہنچے گا۔اِسی طرح کے حالات اگر پیپلز پارٹی کے لیے بھی پیدا کرنے کی کوئی سوچ کہیں پنپ رہی ہے تو اِسے اِس سے باز رکھنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور تحریک انصاف ہمارے سیاسی نظام کی حقیقتیں ہیں۔ ضیاء دور میں پی پی پی اور پرویز مشرف کے دور میں ن لیگ کوختم کرنے کی بھر پور کو شش کی گئی۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔ضیا ء دور میں ایم کیو ایم پیدا ہوئی جس نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا۔ اِسی طرح تحریک لبیک نے بائیس لاکھ ووٹ لیے۔ لیکن تحریک لبیک کی قیادت نے انتہائی غلط رویہ اپنایا اور پاک فوج کے خلاف زبان استعمال کی یوں عوام الناس میں اب اُس کی وہ قدر و قیمت نہیں رہی جو ختم نبوت اور ممتاز قادری والے معاملے میں اُس نے حاصل کی تھی۔جماعت اسلامی اورجے یو پی قصہ پار ینہ بن چکی ہیں۔ اِن حالات میں مقتدرہ حلقوں کو پاکستان کی سا لمیت کی خاطر مین سٹریم پارٹیوں کو دیوار سے نہیں لگانا چاہیے۔ حالات تو یہ ہی بتا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی سے حکومت سنبھل نہیں پارہی۔ سانحہ ساہیوال نے حکومت کو ہلا کر رکھا دیا ہے ۔
اِن حالات میں سول و فوجی بیوروکریسی کو وطن کی یک جہتی کے لیے ایک وسیع البنیاد حکومت بنانے کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ پاکستان میں ٹیکنو کریٹ حکومت کا تجربہ ، فوجی حکومت کا تجربہ ناکامی سے دوچار ہوا ۔ سیاسی جماعتوں کو قومی دھارئے میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اِن پارٹیوں کو جن کا ذکر کیا گیا ہے اِن کو اور اِن کی حقیقی قیادت کو ختم کرنے سے گریز کیا جائے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پانچ ماہ سے زائد کی کارکردگی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سال میں تین تین بجٹ لاے رہے ہیں۔
کرپشن خواہ جرنیل کرے، کرپشن خواہ جج کرے، کرپشن خواہ سیاستدان کرے ، کرپشن بیوروکریسی کی جانب سے ہو اِس کے حوالے سے زیرو پرسنٹ ٹالرینس قومی ایجنڈا ہونا چاہیے۔حکمرانی کا سب سے پہلا ٹاسک تو یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی ٹیم بنائی جائے۔لیکن موجودہ حکومت کے پاس ویژن کی کمی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بلند بانگ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہم دو سو افراد لے کر آرہے ہیں لیکن کہاں ہیں وہ دو سو افراداِس وقت صورتحال یہ ہے کہ بجلی کا آتے ہی مہنگا کردیا گیا۔ گیس مہنگی کر دی گئی ہے۔ ادویات مہنگی کردی گئی ہیں۔ ڈالر کی قیمت خدا کی پناہ۔گیس اور بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔پولیس ریفارمز کہیں بھی نظر نہیں آرہیں۔سرکاری محکموں میں اُسی طرح کی کرپشن ہے جو پہلے تھی رشوت کے بغیرکوئی کام نہیں ہوتا۔ نوکر شاہی کو کام کرکے راضی نہیں۔ فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان اگرخاموش ہی رہیں تو بہتر ہے ورنہ اُن کی ترجمانی تحریک انصاف کے گلے پڑ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے آتے ہی عوام نے بہت ہی زیادہ امیدیں باندھ لی تھیں۔عمران خان پاکستانی معاشرئے میں ایک امید کا نشان ہیں۔ عمران خان کے ذاتی کردار پر بات کرنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے باقاعدہ طور پر شیخ رشید کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی کردار کُشی کے لیے رکھا ہوا تھااور عورت کی حکمرانی کے خلاف طرح طرح کے فتوئے ن لیگ بے نظیر بھٹو کے خلاف شائع کرواتی پھر رہی تھی۔شیخ رشید جو ایک عوامی آدمی ہیں اِنھوں نے نواز شریف کی حمایت میں وہ زبان محترمہ بے نظیر کے خلاف استعمال کی کہ خد اکی پناہ۔ عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوئے شائع کروانے والی ن لیگ مریم نواز کو اپنا لیڈر بنا چکی ہے۔ اِسی لیے تو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا امیج ن لیگیوں میں اِس طرح کا پینٹ کیا گیا ہے کہ یہ تو اِس اہل ہی نہیں ہیں۔
عمران خان کی جانب سے ایسا بیان کہ نوکر شاہی تعاون نہیں کر رہی ہے۔کبھی کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا کبھی کہتے ہیں کہ جانا ہے۔ عمران خان کے اوپنر بیٹسمین جناب اسد عمر کی جانب سے جو رویہ سامنے آیا ہے وہ عوام الناس کے لیے بالعموم انتہائی عجیب ٹھرا ہے۔ موصوف اپوزیشن میں دئیے گئے اپنے ہی بیانوں کے خلاف اندھا دھند بیان داغ رہے ہیں اور تو اور اسحاق ڈار کے ویژن کو بھی درست قرار دئے چکے ہیں ۔ حالات کا تقاضا ہے کہ کرپشن کیخلاف بلا امتیاز آپریشن کیا جائے۔ حکومتی پارٹی کے فرشتوں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ نہ کیا جائے۔ سندھ کے اندر سندھ کارڈ کو کھیلنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ احتساب سب کا کیا جائے۔پنجاب میں نواز لیگ کوتوڑنے کی بجائے حکومتی لوگوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ ملکی سلامتی کو عزیز رکھیں۔ ہمارا دُشمن بھارت امریکہ اور اسرائیل ہر محاذ پر ہمارے خلاف جنگ جاری رکھے ہوا ہے۔