ظلم کا نظام بدلنا ہوگا

32

تحریر۔۔۔چوہدری ناصر گجر
ہمارے معاشرے میں گونگے ، بہرے اور اندھے بن کر رہنے والوں کو عقلمند تصور کیا جاتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ظلم اور لاقانونیت کا راج ہر جگہ نظر آتا ہے ۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں حاکم ایک نہیں لا تعداد ہیں۔ جس کے پاس ذرہ برابر اختیارات ہیں وہ خود کو مطلق العنان بادشاہ سمجھتا ہے ۔ ایک چپڑاسی سے لے کر حکام بالا تک ہر شخص عام آدمی کو حقیر سمجھتا ہے ۔ پولیس کے محکمے کو ہی لے لیجئے جن کا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے وہی لوٹ مار کرتے اور قتل و غارت گری کرتے نظر آتے ہیں۔رائو انوار ہو یا عابد باکسر ، سانحہ ماڈل ٹائون ہو یا سانحہ ساہیوال بے گناہوں پر دہشتگردی کا لیبل لگا کر بے رحمی سے قتل کیا گیا اور کمال یہ کہ قاتل داد وصول کر رہے ہوتے ہیں۔ ان قاتلوں کے سر پرست ان پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔ جتنا میں پولیس کو سمجھا ہوں تو سانحہ ساہیوال میں کچھ ایسا ہوا کہ ایک غلط اطلاع پر سی ٹی ڈی کے اہلکار وں نے کار پر فائرنگ کی۔ جب کار رکی تو انہوں نے دیکھا ہو گا کہ یہ تو وہ لوگ نہیں جن کی اطلاع ملی تھی اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک دو لوگ جاں بحق ہو چکے تب انہوں نے بچوں کو کار سے اتارا اور زندہ بچ جانے والے افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا تاکہ تمام ثبوت ختم کر دئیے جائیں۔ بچوں نے کسی کو کیا بتانا ہے کہ کس نے مارا اور کیوں مارا؟! ۔ لیکن راہ گیروں کی بنائی وڈیوز سے راز فاش ہو گیا پھر اس پر پردہ ڈالنے کیلئے شاید پہلے سے گرفتار لوگوں کو گوجرانوالہ لے جا کر قتل کر کے گاڑی کو آگ لگا دی اور ان کا تعلق ساہیوال میں قتل ہونے والے افراد سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی ۔ اب اس سارے کام میں لازمی بات ہے کہ اعلیٰ افسران بھی شامل ہو ں گے۔ آئی جی پنجاب کی طرف سے بھونڈی پریس ریلیز ثابت کرتی ہے کہ یہ سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے سارے جھوٹ بے نقاب کئے ورنہ مقتولین پر تو دہشتگردی کی مہر لگانے میں حکومتی وزراء اور آئی جی پنجاب وغیرہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جے آئی ٹی انکوائری رپورٹ میں سی ٹی ڈی اہلکار مجرم ثابت ہوئے ان کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے ہر افسر اور ہر وزیر پر بھی شریک جرم ہونے کا مقدمہ درج کیا جاجانا چاہئے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں جب چھوٹے جرم کے واقعہ پر پردہ ڈال دیا جائے تب وہ حادثے اور سانحات کی شکل میں برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ پولیس کا نظام تو حد درجے کرپٹ ہو چکا ہے ۔ آج جو تھانیدار کسی پر جھوٹا مقدمہ درج کرتا ہے یا بے گناہ لوگوں کو پکڑ کر رشوت کے نام پر تاوا ن وصول کرتا ہے وہ تھانیدار مستقبل میں اسی طرح لوگوں کو قتل بھی کرے گا۔ اگر کسی کو گرفتار کرنے کے بعد افسران کے حکم سے ماورائے عدالت قتل کیا جائے تو وہ قاتل دس بے گناہ لوگوں کو بھی قتل کرے گا!تب اسے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ کچھ ذرا پہلے جھنگ میں آر پی او فیصل آباد نے کھلی کچہری لگائی جس کی کوئی تشہیر نہ کی گئی ۔ تھانیداروں نے اپنے ٹائوٹوں کے ذمے لگا دیا کہ معمولی نوعیت کی درخواستیں لے کر آجائیں جس میں پولیس کی شکایت نہ ہو۔اس طرح کی دھوکہ بازی والی کھلی کچہری سے اگر حکمران سمجھتے ہیں کہ عوام کو انصاف ملے تو وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں۔ ویسے بھی پولیس کے خلاف شکایت کرنے والے کو انکوائری کے نام پر اتنا ذلیل کیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ شکایت کرنے کی جرأت نہ کرے۔ آج جو پولیس والا ہزار روپے رشوت لے کر بے گناہ لوگوں پر جھوٹے مقدمات درج کر رہا ہے وہ کل کو لاکھوں لے کر بے گناہ لوگوں کو قتل بھی کرے گا۔ اور اس سے حصہ وصول کرنے والے افسران سے کوئی بے وقوف ہی امید رکھے گا کہ وہ اپنے کمائو بیٹے کے خلاف کوئی ایکشن لیں گے۔ عام لوگوں کو بھی اچھے سے علم ہے کہ سو میں سے ننانوے پولیس مقابلے جعلی ہوتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ حکمرانوں کو اس کا علم نہیں ہوتا!۔عمران خان نے لوگوں کو انصاف اور پولیس نظام کو بہترین کرنے کے خواب دکھائے لیکن وہ خواب شاید شرمندہ تعبیر ہی رہیں گے۔تحریک انصاف کی حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو اب تک کے تمام پولیس مقابلوں کا غیر جانبدار اور ایماندار لوگوں سے تحقیقات کروائے ۔ پولیس والوں کے خلاف شکایات سننے اور کاروائی کرنے کیلئے چن کر ایماندار لوگوں کی کمیٹی بنائی جائے۔پولیس اہلکاروں کی غلطی ثابت ہونے پر نوکری سے فارغ کرنے کے علاوہ قانونی کاروائی کے ساتھ بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے ۔صرف پولیس ہی نہیں ہر محکمے میں کرپٹ اور مجرموں کے خلاف اسی طرح کے اقدامات کئے جائیں ان کے لئے عام آدمی کی نسبت مزید سخت قوانین مرتب کئے جائیں اور ان قوانین پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ ظلم کا یہ نظام بدلنا ہوگا ورنہ بغاوت کا جنم لینا یقینی ہے۔