ستاروں کی کہکشاں

73

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم
داتا علی ہجویری کی نگری میں بننے والی فلمیں برصغیر پاک و ہند میں باکس آفس پربے پناہ مقبولیت حاصل کیا کرتی تھیںگزرے وقت کی بات ہے جب لاہور کو بمبئی اور کلکتہ کے مقابلے میں فلمیں بنانے کااہم مرکزسمجھا جاتا تھا تحریک آزادی کے دوران ہونیوالے فسادات میں لاہور میں موجود فلمسازی کا ڈھانچہ تباہ ہو گیا تھاقیام پاکستان کے بعد ملکی فلم انڈسٹری نے نے بہت عروج و زوال اور نشیب و فراز کا سامنا کیاقیام پاکستان کے وقت فلمی صنعت کے پاس دو لٹے پٹے،تباہ حال سٹوڈیوز اور چند سینما گھر تھے لیکن وطن کی تعمیر کے جذبے سے سرشار فنکاروں، ہدایتکاروں، فلمسازوں، موسیقاروں اور کہانی کاروں نے جو کچھ فلم کے فیتے پر منتقل کیا وہ ملک میں فلمسازی کے فروغ کا باعث بنا۔ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بننے والی پاکستانی فلموں نے کامیابی کے خوب جھنڈے گاڑے۔ لیکن شومئی قسمت بعد میں اس فلم نگر میں آنے والوں کی اکثریت نے عامیانہ موضوعات اور غیر معیاری فلم میکنگ کے ذریعے فلمی صنعت کا بت پاش پاش کر دیا سینما انڈسٹری نے بھی ملکی فلموں کے مقابلے میں بالی وڈ کی فلموں کو اہمیت دینا شروع کر دی یوں پاکستان کی فلمی صنعت زوال پذیر ہو گئی صورت حال یہ ہے کہ لولی وڈ میں فلم پروڈکشنز کا کام نہ ہونے کے برابر ہے فلم سٹوڈیوز ویران اور تباہ حال ہو گئے ہیںملکی حالات ،امن و امان کی ابتر صورت حال میں کوئی فلمساز اس نگر میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ایسے حالات میں جب فلم انڈسٹری میں حالات کی بہتری کے نہ ہونے کے امکان ہوں تو پھر بھی کوئی اس امید سے فلم بنائے تو یہ دیوانے کا خواب ہی کہا جاسکتا ہے انتہائی گھمبیر حالات میں نوجوان ہدایت کارساجد علی ساجدنے ایک فلم ”آزاد بادشاہ” بنائی جسے شائقین فلم نے پسند کیا جس سے ان کے حوصلے اور جذبے جواں ہوئے اور نئی فلمیں بنانے کے لئے ہوم ورک کا آغاز کیا دس جنوری کوپنجابی کمپلیکس پلاک میں المراد پروڈکشن اینڈیونی ویژن نیوز کے زیر اہتمام بننے والی ڈائریکٹر ساجد علی ساجد کی نئی فلموں ”کالاطوفان” اور ”سب مایاہے” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تقریب کے مہمانان خصوصی صغری صدف ڈائریکٹر جنرل پلاک ،میاں راشد فرزند تھے تقریب کو دوبالا کرنے کیلئے شوبز کے محمد کمال پاشا، رائٹر ناصر ادیب،سینئر ہدایت کار آغا حسن عسکری ،رائٹر اشفاق کاظمی، رائٹر پرویز کلیم، رائٹرواجد زبیری،جرار رضوی،ڈاکٹربی اے خرم،راحیلہ آغا،اچھی خان،دیا جٹ، حمیراناز ،روز بٹ،دیا جٹ ،اشفاق علی خاں،سہیل رانا،شاہد بھٹی ،فرحان ملک ،جیاخان،مظہرملک،شائستہ ملک ،سنگر امین راجہ،سنگر امیراحمد،رومان خان،ڈاکٹرمنصورشاہد،رانااشرف،ڈاکٹر عباس رضوی،نادرخاں،قیصر بلوچ سمیت میڈیا سے منسلک لوگ بھی شریک ہوئے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ظفر اعوان نے سرانجام دیئے اس تقریب میںتحسین سکینہ نے صوفیانہ کلام سنا کر سما باندھ دیا جبکہ اداکارہ روز بٹ نے ایک خوبصورت ڈانسنگ آئٹم پیش کرکے خوب دادسمیٹی،اسی طرح حاضرین کی توجہ حاصل کرنے میں سونی ڈانس گروپ بھی کامیاب رہا تقریب سے محمد کمال پاشا، رائٹر ناصر ادیب،سینئر ہدایت کار آغا حسن عسکری ،رائٹر اشفاق کاظمی، رائٹر پرویز کلیم، رائٹرواجد زبیری،جرار رضوی اور کمال پاشا نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا تقریب میں نامور مصنف محمد کمال پاشا اور ڈاکٹر صغری صدف کی تاج پوشی کی گئی آخر میں”کالاطوفان” اور ”سب مایاہے”کے ڈائریکٹر محمد ساجد علی ساجد نے اپنے خطاب میں کہا”ہم آج بھی نئے عزم اور نئی سوچ کو جدید خطوط پر بروئے کار لا کر فلم میکنگ میں نئی روح پھونک سکتے ہیں کیونکہ عروج و زوال کبھی دائمی نہیں ہوتے آج کے دور میں فلم تجارتی جنس ہی نہیں رہی یہ تفریح اور تعلیم و تربیت اور معاشرتی اصلاح اور تعمیر و ترقی کا ذریعہ بھی ہے دنیا کے مختلف ملک اس وقت فلم کے ذریعے اقتصادی اور معاشی استحکام حاصل کر رہے ہیں اب یہ ثقافتی، سیاسی، تہذیبی، معاشرتی نظریات و روایات کے پرچار کا ذریعہ بھی ہے” تقریب کے اختتام پہ مہمانوںریفریش منٹ بھی کی گئی فلم انڈسٹری کے نامور ستاروں کی کہکشاں کے ساتھ یہ فلمی تاریخ کی ایک خوبصورت رنگا رنگ،منفرد اور یادگارفلمی تقریب تھی فلم انڈسٹری کے لیجنڈز کو ایک پلیٹ فارم پہ اکٹھا کرکے ڈائریکٹر ساجد علی ساجد نے ایک نئی تاریخ رقم کی جسے زوال پذیر فلم انڈسٹری میں ایک سنگ میل کی حیثیت کے ساتھ ساتھ تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا جائے گا انہوں نے جو قدم اٹھایا ہے یہ قابل تحسین ہے زوال پذیر فلمی صنعت کو اچھے پرجیکٹ کی ضرورت ہے جب تک ہم شائقین فلم کو نئے اسلوب اور نئے پرجیکٹ نہیں دکھائیں گے تب تک سینما ہال آباد نہیں ہونگے ستاروں کی کہکشاں نے ماضی کی حسین یادوں کو تازہ کیا اور ایسا لگا جیسے فلم سے وابستہ افراد پھر سے زندہ ہو گئے ہیں